جنرل اسمبلی سے وزیر اعظم کا خطاب

عالمی سطح پر اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک مختلف النوع تنازعات، مسائل اور جنگوں میں گھرے ہوئے ہیں۔

عالمی سطح پر اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک مختلف النوع تنازعات، مسائل اور جنگوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ عالمی امن کا ضامن ادارہ اقوام متحدہ جس کے قیام کا مقصد ہی یہ تھا کہ وہ دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات اور مسائل کے حل اور عالمی امن کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کلی طور پر کامیاب نہ ہو سکا۔

اپنے چارٹر اور قواعد کے مطابق اقوام متحدہ ہر سال جنرل اسمبلی کا اجلاس منعقد کرتا ہے جس سے رکن ممالک کے سربراہان خطاب کرتے ہیں اور عالمی مسائل و تنازعات کا مقدمہ پیش کرتے اور عالمی برادری کو ان کے حل کی جانب راغب کرنے اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور قراردادوںکے مطابق انھیں طے کرنے کے لیے متوجہ کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا پہلا اجلاس 10 جنوری 1948 کو لندن کے سینٹرل ہال ویسٹ منسٹر میں منعقد ہوا تھا جس میں اس وقت کے 51 رکن ممالک، جو اس ادارے کے بانی شمار کیے جاتے ہیں نے شرکت کی تھی۔

آج اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی تعداد بڑھ کر 193 تک پہنچ چکی ہے۔ عام طور پر جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے ہر مقرر کو 15 منٹ کا وقت دیا جاتا ہے۔ تاہم بہت سے سربراہان مملکت اس سے زیادہ وقت بھی لے لیتے ہیں، اگرچہ وقت پورا ہونے پر سرخ روشنی (فلیش لائٹ) کے ذریعے مقرر کو آگاہ کر دیا جاتا ہے تاہم مقرر کی تقریر کو روکنے یا مداخلت کرنے کی کوئی روایت نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی تاریخ میں کیوبا کے صدر فیڈل کاسترو نے 1960 میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں 269 منٹ کا طویل ترین خطاب کیا تھا، یہ ریکارڈ آج بھی قائم ہے۔

 گزشتہ ماہ کے اواخر میں جنرل اسمبلی کا 81 واں اجلاس منعقد ہوا جس سے پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے چوتھی مرتبہ خطاب کرتے ہوئے علاقائی و عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان کے موقف کو مدلل انداز میں پیش کیا۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے تناظر میں امریکا، اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ سے پیداشدہ صورت حال پر پاکستان کے ثالثی کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے محاذ آرائی کی بجائے مذاکرات سے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس ضمن میں انھوں نے امریکا ایران کے اسلام آباد ایم او یوکی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کی راہ ہموار ہوئی اور اس پر عمل درآمد سے ہی دو طرفہ جنگ ختم اور مسئلے کا حل ممکن ہو سکتا ہے۔

وزیر اعظم نے مصر، چین، ترکیہ اور سعودی عرب کی امن کوششوں کو بھی سراہا اور ان کی بھرپور حمایت کی۔ انھوں نے فلسطین کے تنازع کے حل کے ضمن میں دو ٹوک لفظوں میں کہا فلسطینی عوام کئی نسلوں سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اب انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم نے اسرائیلی تشدد اور فلسطینی عوام کی نسل کشی کی سخت الفاظ میں مذمت کی انھوں نے لبنان اور شام کے خلاف بھی اسرائیل کی جارحیت کو ہدف تنقید بنایا۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کے ضمن میں پاکستان کا مقدمہ انتہائی مدلل انداز میں پیش کرتے ہوئے بھارت کے نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بہیمانہ مظالم کی مذمت کی اور کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے علی الاعلان کشمیریوں کی اقوام متحدہ کے عالمی فورم پر سفارتی، سیاسی اور اخلاقی مدد جاری رکھنے کے قومی عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے بجا طور پر کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ ساٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے منتظر ہیں۔

وزیر اعظم نے برادر اسلامی ملک سعودی عرب پر یمن کے حوثیوں کے بزدلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے واضح الفاظ میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے مکمل تعاون اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ سعودی عرب دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے لیے خانہ کعبہ اور روضہ رسولؐ کی نسبت سے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ مقدس مقامات کی حرمت کے لیے سیسہ پلائی دیوار ہے۔ اس حوالے سے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے سپہ سالاروں کا مکہ معاہدہ کے تناظر میں حالیہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

Load Next Story