ایران کشیدگی اور ایندھن کی قلت کا خدشہ، عالمی منڈی میں تیل پھر مہنگا

مارکیٹ پر دباؤ کو کچھ حد تک سعودی عرب سے بہتر ہوتی تیل برآمدات نے کم کیا ہے

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جمعہ کو معمولی اضافے کے ساتھ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہیں، جبکہ سرمایہ کار ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی، مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں اور عالمی ایندھن کی سپلائی سے متعلق خدشات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 29 سینٹ اضافے کے بعد 102.60 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 27 سینٹ بڑھ کر 93.14 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

تیل کی قیمتوں میں یہ معمولی اضافہ ایک روز قبل ہونے والی نمایاں تیزی کے بعد سامنے آیا ہے۔ جمعرات کو برینٹ کی قیمت میں 4 ڈالر سے زیادہ اور میں 2 ڈالر سے زائد اضافہ ہوا تھا۔ مارکیٹ میں اس وقت تشویش بڑھی جب رپورٹس سامنے آئیں کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں ایک تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز اور 10 ہزار تک مزید فوجی بھیج رہا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ حملوں کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔

دوسری جانب چین کی جانب سے اکتوبر کے لیے ہانگ کانگ اور مکاؤ کے علاوہ بیشتر مقامات پر تیل کی مصنوعات کی برآمدات روکنے کے فیصلے نے عالمی ایندھن مارکیٹ میں سپلائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق اس فیصلے سے خاص طور پر ڈیزل، جیٹ فیول اور پٹرول کی عالمی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ پہلے ہی ڈیزل کی عالمی مارکیٹ دباؤ میں ہے۔

تاہم مارکیٹ پر دباؤ کو کچھ حد تک سعودی عرب سے بہتر ہوتی تیل برآمدات نے کم کیا ہے۔ اسی طرح امریکا کی جانب سے یورپی ممالک پر ہنگامی ڈیزل ذخائر استعمال کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کا مقصد عالمی ایندھن کی ممکنہ قلت کے اثرات کو محدود کرنا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ستمبر کے دوران برینٹ کی قیمت مجموعی طور پر تقریباً 14 فیصد بڑھی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا۔ موجودہ صورتحال میں سرمایہ کار ایک طرف ایران سے متعلق جغرافیائی سیاسی خطرات اور امریکی فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ دوسری جانب چین کی ایندھن پالیسی اور عالمی سپلائی میں بہتری کے امکانات کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

Load Next Story