نیشنز لیگ: فلسطین کے حق میں احتجاج، آئرلینڈ اور آسٹریا کا میچ دو بار روکنا پڑا
آئرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان ڈبلن میں کھیلا گیا نیشنز لیگ کا میچ فلسطین کے حق میں مظاہروں کے باعث دو مرتبہ مختصر طور پر روکنا پڑا۔
میچ کے 19ویں منٹ میں تماشائیوں نے فلسطینی پرچم کے اسٹیکرز لگی ٹینس بالز میدان میں پھینک دیں جس کے بعد کھلاڑی چند منٹ کے لیے پچ سے باہر چلے گئے۔
Pro-Palestinian protesters interrupted the Ireland vs. Austria match today in protest of Ireland’s upcoming second match against Israel on October 4.
— WearThePeace (@WearThePeaceCo) October 1, 2026
Supporters threw tennis balls onto the pitch from the stands before a pitch invader carrying a Palestinian flag was removed by… pic.twitter.com/98VHCIsgYO
35ویں منٹ میں ایک شخص فلسطینی پرچم لہراتا ہوا میدان میں داخل ہوگیا جس سے کھیل ایک بار پھر مختصر طور پر متاثر ہوا۔
🚨A man with a Palestine flag is wrestled from the pitch at the Aviva during Ireland v Austria.🚨
— @Virahour Global (@ViralhourGlobal) October 1, 2026
Protests outside and inside the stadium focused on the FAI's decision to fulfil fixtures against Israel during the UEFA Nations League pic.twitter.com/u5ltPQdOZf
احتجاج کے باعث دو بار متاثر ہونے والا میچ 2-2 سے برابر رہا۔
آئرلینڈ کے کوچ نے مظاہروں پر کہا کہ وہ ایسی صورتحال سے خوش نہیں ہوتے تاہم وہ احتجاج کی وجوہات کو سمجھتے اور اس کا احترام کرتے ہیں۔
یہ واقعات آئرلینڈ اور اسرائیل کے حالیہ میچ کے بعد سامنے آئے ہیں جس پر غزہ جنگ کے تناظر میں بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ آئرلینڈ نے وہ میچ 0-3 سے جیتا تھا۔
دریں اثنا، تقریباً 200 مظاہرین نے ڈبلن اسٹیڈیم کے باہر ’اسٹاپ دی گیم‘ مہم کے تحت احتجاج کیا اور اسرائیل کے خلاف کھیلوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔