برطانیہ میں ایرانی نژاد شہری گرفتار، امریکی فوجی اڈے کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت
برطانیہ میں انسدادِ دہشت گردی پولیس نے جنوب مغربی انگلینڈ کے ایک اہم فضائی اڈے کے قریب مشتبہ سکیورٹی واقعے کی تحقیقات کے دوران برطانوی اور ایرانی دوہری شہریت رکھنے والے ایک شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق 27 سالہ شخص کو وسطی لندن سے دہشت گرد کارروائی کی تیاری کے شبہے میں حراست میں لیا گیا۔
یہ گرفتاری فیئر فورڈ کے قریب پیش آنے والے واقعے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ اس سے قبل اتوار کو پولیس نے ایئربیس کے قریب پانچ برطانوی شہریوں کو دہشت گردی اور دھماکا خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبہے میں گرفتار کیا تھا، تاہم بعد میں انہیں پولیس ضمانت پر رہا کردیا گیا۔
برطانوی پولیس نے بتایا کہ ایک 26 سالہ برطانوی شہری سے بھی احتیاطی قانونی طریقہ کار کے تحت پوچھ گچھ کی گئی۔ انسدادِ دہشت گردی پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات ’’انتہائی پیچیدہ‘‘ ہیں اور تفتیش کار مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں، جن میں کسی غیر ملکی ریاست کے ممکنہ ملوث ہونے کا امکان بھی شامل ہے۔
پولیس کے مطابق ایئربیس کے قریب کھڑی تین گاڑیوں کی تلاشی کے دوران کوئی دھماکا خیز مواد نہیں ملا، تاہم کچھ مقدار میں پٹرول ضرور برآمد ہوا۔ حکام نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ مشتبہ افراد مبینہ طور پر کیا کارروائی کرنا چاہتے تھے اور نہ ہی کسی شخص پر اس واقعے کے سلسلے میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔
فیئر فورڈ برطانیہ میں امریکی فوج کے استعمال میں رہنے والا اہم فضائی اڈہ ہے، جہاں سے امریکی بمبار طیاروں نے ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے بھی پروازیں کی ہیں۔ اسی پس منظر میں برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا تھا کہ سکیورٹی اداروں کے پاس واقعے میں ایران کے ممکنہ کردار کے حوالے سے ’’مضبوط اشارے‘‘ موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ایران نے برطانوی الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے ایران کو واقعے سے جوڑنے کی کوشش بے بنیاد ہے۔ الجزیرہ کے مطابق اب تک پولیس کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات میں بھی ایسا کوئی عوامی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جو گرفتار افراد اور ایران کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت کرے۔ تحقیقات جاری ہیں اور پولیس نے کسی حتمی نتیجے کا اعلان نہیں کیا۔