وزیراعلیٰ سندھ نے بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر کا استعفا مسترد کر دیا

بعض سیاسی عناصر کی جانب سے گھوسٹ ملازمین کی بحالی کے لیے بیرونی مداخلت وائس چانسلر نے استعفا دے دیا تھا

کراچی:

سندھ کی سرکاری جامعات کی کنٹرولنگ اتھارٹی وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مہدی کا استعفا مسترد کر دیا ہے اور انھیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کر دی ہے۔

وزیر اعلی ہاؤس کے ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے جمعے کی صبح اپنے دفتر میں لیاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ملاقات کی جو تقریباً 45 منٹ تک جاری رہی۔ ملاقات میں وزیر اعلیٰ سندھ نے انتہائی تفصیل کے ساتھ لیاری یونیورسٹی کی صورتحال پر وائس چانسلر کا مؤقف سنا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جامعہ لیاری کی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا اور گھوسٹ و دیگر نامناسب افعال میں ملوث ملازمین کے خلاف جاری یونیورسٹی انتظامیہ کی کارروائی اور اس سلسلے میں بیرونی دباؤ پر وائس چانسلر کے استعفے کے برعکس انھیں اور بہتر انداز میں کام جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

ادھر معلوم ہوا ہے کہ لیاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا استعفا مسترد ہونے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے مختلف الزامات ثابت ہونے پر برطرف کیے گئے سابق ملازمین سے کسی قسم کی بات چیت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے وہ ملازمین جو کئی روز تک برطرف سابق ملازمین کے احتجاج میں شریک رہے، ان کے خلاف بھی تعلیمی ماحول برقرار رکھنے اور اکیڈمک ایکسیلنس یقینی بنانے کے لیے تادیبی کارروائی کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ بعض سیاسی عناصر کی جانب سے گھوسٹ ملازمین کی بحالی کے لیے بیرونی مداخلت کے بعد لیاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مہدی نے وزیر اعلیٰ سندھ کو اپنا استعفا دے دیا تھا۔

حالیہ معاملہ سینڈیکیٹ کے اجلاس میں ایک رکن صوبائی اسمبلی اور ایسوسی ایٹ پروفیسر کے درمیان برطرف ملازم کو اجلاس میں زبردستی شامل کرنے کے معاملے سے شروع ہوا، جبکہ یونیورسٹی ملازمین کا ایک گروہ اس تنازع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یونیورسٹی کے رجسٹرار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کے ساتھ احتجاج میں شامل ہوگیا۔

ملازمین کا الزام تھا کہ لیاری یونیورسٹی کے رجسٹرار ایک سیاسی جماعت کے رکن ہیں، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹرار کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی وابستگی سے دستبرداری اختیار کرلی تھی، جس کے تحریری ثبوت سینڈیکیٹ کے اجلاس میں پیش کیے جا چکے ہیں۔

Load Next Story