کیا پیروں میں چیونٹیاں چلنے جیسا احساس ہوتا ہے؟ وجہ اور علاج جانیے
کبھی طویل وقت تک ایک ہی انداز میں بیٹھنے کے بعد اچانک پیروں میں سنسناہٹ یا چیونٹیاں چلنے جیسا احساس ہونے لگتا ہے۔ عام طور پر یہ کیفیت عارضی ہوتی ہے اور جسم کی پوزیشن تبدیل کرنے کے بعد آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے۔
خاص طور پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے، کسی اونچی جگہ پر ٹانگیں لٹکائے رکھنے، ایک ہی پوزیشن میں دیر تک رہنے یا ایسے جوتے پہننے سے جو پاؤں پر دباؤ ڈالیں، بے حسی یا جھنجھلاہٹ محسوس ہوسکتی ہے۔
ٹانگ کیوں سُن ہوجاتی ہے؟
بے حسی جسم کے کسی بھی حصے میں ہوسکتی ہے، تاہم ٹانگوں، پیروں، ہاتھوں اور بازوؤں میں یہ کیفیت زیادہ محسوس کی جاتی ہے۔ ایک ہی پوزیشن میں طویل وقت تک رہنے سے بعض اعصاب پر دباؤ پڑ سکتا ہے، جس کے باعث دماغ اور متاثرہ حصے کے درمیان اعصابی سگنلز کی ترسیل عارضی طور پر متاثر ہوتی ہے۔
اسی وجہ سے ٹانگ میں احساس کم ہوجاتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے وہ سو گئی ہو۔ عموماً پوزیشن تبدیل کرنے اور کچھ دیر حرکت دینے سے خون کی روانی اور اعصابی سگنلز معمول پر آتے ہیں اور سنسناہٹ ختم ہوجاتی ہے۔
تاہم اگر ہاتھ یا ٹانگ بار بار سُن ہونے لگیں، خصوصاً اس وقت بھی جب آپ کسی مخصوص پوزیشن میں نہ بیٹھے ہوں، تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
بار بار یا مسلسل بے حسی کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں وٹامن بی 12 کی کمی، ہرنیا، تھائیرائیڈ کے مسائل اور ذیابیطس سمیت بعض اعصابی یا دیگر طبی مسائل شامل ہوسکتے ہیں۔ فالج جیسی ہنگامی طبی کیفیت میں بھی اچانک بے حسی ایک علامت ہوسکتی ہے، خاص طور پر اگر اس کے ساتھ جسم کے ایک طرف کمزوری یا بولنے میں دشواری بھی ہو۔
اس لیے اگر پیروں یا بازوؤں میں بے حسی غیر معمولی طور پر بار بار ہو یا دیر تک برقرار رہے تو وجہ جاننے کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا مناسب ہے۔