فاسٹ فوڈ اور ہماری صحت
فاسٹ فوڈ اور دمے کے درمیان گہرے تعلق کا انکشاف۔ فوٹو: فائل
موجودہ دور کو تیز رفتاری اور مصروفیت کا دور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں وقت کی کمی اور سہولت کی طلب بڑھتی جا رہی ہے۔ کھانے پینے کے معاملے میں بھی لوگوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ ماضی میں گھر کا تازہ اور سادہ کھانا ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ تھا، لیکن آج کل برگر، پیزا، فرنچ فرائز، فرائیڈ چکن، شوارما، سینڈوچ، نوڈلز، کیک، بسکٹ اور مختلف قسم کے تیار شدہ کھانے عام ہو گئے ہیں۔ ان کھانوں کو مجموعی طور پر فاسٹ فوڈ کہا جاتا ہے۔
فاسٹ فوڈ ذائقے دار، دلکش اور آسانی سے دستیاب ہوتا ہے، اسی لیے بچے، نوجوان اور بڑے سب اسے پسند کرتے ہیں۔ تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب فاسٹ فوڈ کبھی کبھار کھانے کے بجائے روزمرہ خوراک کا اہم حصہ بن جائے۔ ایسی صورت میں ہماری غذائی عادات متاثر ہو سکتی ہیں اور صحت کے مختلف مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
فاسٹ فوڈ ایسے کھانے ہیں جو جلدی تیار ہو جاتے ہیں اور کھانے میں بھی نہایت سہل معلوم ہوتے ہیں ۔ مختلف ریستوران ، ہوٹل فوڈ آئوٹ لیٹس اور ٹیک اووے سے یہ کھانے حاصل کیے جا سکتے ہیں ۔ فاسٹ فوڈ میں اکثر نمک ، چینی اور کاربوہائیڈریٹس زیادہ ہوتے ہیں جبکہ صحت بخش اجزا بالخصوص فائبر نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں ۔ ہمیں اپنی صحت کے لیے متوازن اور متنوع خوراک کی ضرورت ہوتی ہے لیکن فاسٹ فوڈ کبھی بھی ایک متوازن یا متنوع خوراک نہیں ہوتے ۔
ہم فاسٹ فوڈ کیوں کھاتے ہیں تو اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ پہلی چیز آسانی ہے فاسٹ فوڈ چپے چپے سے باآسانی مل جاتا ہے اور لوگ گھر پر پکانے کے جھنھٹ سے نجات چاہتے ہیں ، اکثر طالب علم اور ملازمت پیشہ افراد فاسٹ فوڈ کھاتے ہیں ۔ دوسرا اہم پہلو فاسٹ فوڈ کا ذائقے دار ہونا ہے ، اس میں مختلف ساسز ، چٹنیاں اور مصالحے ڈالے جاتے ہیں جو کہ انسان کی بھوک کی اشتہا بڑھا دیتے ہیں ۔تیسری چیز اشتہاری مہم اور خاص کر سوشل میڈیا پر فاسٹ فوڈ کی چیزوں کا ہونا ہے۔ بچے ، بوڑھے اور بڑے سبھی اشتہاری مہم سے متاثر ہو کر فاسٹ فوڈ کی ڈیلز سے استفادہ کرتے ہیں۔ ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ دوست احباب مل کر فاسٹ فوڈ کے مراکز کا رخ کرتے ہیں۔ بعض اوقات ملاقاتیں صرف کھانے کی ٹیبل پر بھی ہوتی ہیں اور کھانے کے یہ مراکز معاشرتی تعلقات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
دوسری طرف فاسٹ فوڈ کے استعمال کے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ فاسٹ فوڈ کے زیادہ استعمال سے متعلق ایک اہم تشویش جسمانی وزن میں اضافہ ہے۔ بہت سے فاسٹ فوڈز میں کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی جسمانی ضرورت سے زیادہ کیلوریز مسلسل حاصل کرے اور جسمانی سرگرمی بھی کم ہو تو وزن بڑھ سکتا ہے۔ موٹاپا صرف ظاہری شکل کا مسئلہ نہیں بلکہ مجموعی صحت سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ جسمانی وزن کو صحت مند حدود میں رکھنے کے لیے متوازن غذا کے ساتھ باقاعدہ جسمانی سرگرمی بھی ضروری ہے۔
غذا میں نمک، سیر شدہ چکنائی اور اضافی شکر کی زیادتی مجموعی صحت کے لیے مناسب نہیں سمجھی جاتی۔ خاص طور پر مسلسل غیر متوازن غذا دل اور خون کی نالیوں کی صحت پر منفی اثر ڈالنے والے عوامل میں شامل ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خوراک میں سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج اور مناسب مقدار میں پروٹین شامل کیے جائیں اور بہت زیادہ تلی ہوئی یا انتہائی نمکین غذا کے استعمال کو محدود رکھا جائے۔
بہت سے فاسٹ فوڈ میں فائبر کی مقدار کم ہو سکتی ہے جبکہ فائبر ہماری غذا کا ایک اہم جزو ہے اس عنصر سے ہمارے ہاضمے پر گہرا اثر پڑتا ہے اور خوراک اچھے طریقے سے ہضم ہو جاتی ہے لیکن بہت زیادہ کاربو ہائیڈرٹس اور فائبر کا کم ہونا جسم میں ہاضمے کے مسائل پیدا کرتا ہے ۔
بچے اور نوجوان جسمانی اور ذہنی نشوونما سے گزر رہے ہوتے ہیں انھیں پروٹین ، کاربوہائیرٹیس ، فائبر ، نمکیات ، وٹامنز سب کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر فاسٹ فوڈ بہت زیادہ مقدار میں استعمال ہو جائیں تو مجموعی غذائی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ فاسٹ فوڈ کی طرح میٹھے مشروبات بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں ان میں اضافی شکر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جس کو استعمال کرنے سے ذیابیطس ، دل کے امراض اور ہاضمے کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔
ایک صحت مند جسم انسان کی روزمرہ زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب خوراک غیر متوازن ہو اور جسمانی سرگرمی کم ہو تو انسان اپنی مجموعی صحت اور روزمرہ کارکردگی کے حوالے سے مسائل محسوس کر سکتا ہے۔ طلبہ کے لیے مناسب غذا، نیند اور جسمانی سرگرمی خاص طور پر اہم ہیں، کیونکہ ان کی تعلیمی زندگی میں توجہ اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ صرف کسی ایک کھانے کو تمام صحت کے مسائل کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ صحت پر غذا کے ساتھ ساتھ جسمانی سرگرمی، نیند، عمر، موروثی عوامل اور مجموعی طرزِ زندگی بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
فاسٹ فوڈ کے ضرورت سے زیادہ استعمال کو کم کرنے کے لیے چند آسان اقدامات کیے جا سکتے ہیں:
1. گھر میں تازہ اور متوازن کھانا تیار کرنے کی عادت اپنائی جائے۔
2. روزانہ کی غذا میں پھل اور سبزیوں کو شامل کیا جائے۔
3. دالیں، ثابت اناج اور دیگر فائبر والی غذاؤں کا استعمال بڑھایا جائے۔
4. بہت زیادہ تلی ہوئی اور نمکین اشیا کو محدود کیا جائے۔
5. میٹھے مشروبات کے بجائے پانی کو ترجیح دی جائے۔
6. کھانے کی مقدار پر توجہ دی جائے۔
7. بچوں کو شروع ہی سے صحت مند غذائی عادات سکھائی جائیں۔
8. روزانہ مناسب جسمانی سرگرمی کو معمول بنایا جائے۔
9. فاسٹ فوڈ کو روزانہ کی خوراک کے بجائے کبھی کبھار کے کھانے تک محدود رکھا جائے۔
10. کھانے کا انتخاب کرتے وقت اس کے اجزا اور غذائی مقدار پر بھی توجہ دی جائے۔
بچوں اور نوجوانوں کی غذائی عادات بنانے میں والدین کا بہت اہم کردار ہے ۔ اگر گھر میں روزانہ کی بنیاد پر صاف ستھرا کھانا پکانے اور کھانے کی روایت ہو تو کبھی بھی بچے اور بڑے اپنی اچھی عادات سے پرہیز نہیں کرتے اور گھر میں پکے ہوئے کھانے کو ہی ترجیح دیتے ہیں ۔ اسی طرح اسکول بھی طلبا میں متوازن غذا کا شعور پیدا کر سکتے ہیں ۔ تعلیمی اداروں میں غذاہیت ، صفائی ستھرائی ، ورزش یا جسمانی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات دی جا سکتی ہیں ۔
فاسٹ فوڈ جدید زندگی کا ایک عام حصہ بن چکا ہے اور اسے مکمل طور پر نظر انداز کرنا ہمیشہ ممکن نہیں۔ تاہم صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہے کہ فاسٹ فوڈ کو اعتدال میں استعمال کیا جائے اور اسے متوازن غذا کا متبادل نہ بنایا جائے۔
ہمیں چاہیے کہ ذائقے اور سہولت کے ساتھ اپنی صحت کو بھی اہمیت دیں۔ تازہ پھل، سبزیاں، دالیں، ثابت اناج، مناسب پروٹین، پانی اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی صحت مند زندگی کی بنیاد ہیں۔ اگر ہم اپنی غذائی عادات میں اعتدال پیدا کریں اور بچوں کو بھی شروع سے صحت مند انتخاب کی ترغیب دیں تو ہم بہتر اور فعال زندگی گزار سکتے ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔