ایڈمنسٹریٹر کراچی کی عدالتی احکامات پر غیر قانونی عمارتیں مسمار کرنیکی ہدایت
مقدمے کی وضاحت کیلیے عدالت میں پیش ہونیوالا آفیسر پہلے کیس سے متعلق مکمل معلومات حاصل کرے، وکلاعدالتوں میں۔۔۔
عدالت میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سے کم عہدے کا جانے والا افسر معطل کردیا جائے گا، محکمہ لینڈ فوری طور پر ملازمین کی فہرست مرتب کرے، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ فوٹو : فائل
ایڈمنسٹریٹر کراچی رؤف اختر فاروقی نے کے ایم سی اورکے ڈی اے کے افسران کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ مختلف حوالوں سے موصول ہونے والے عدالتی احکامات پر فوری عملدرآمدکیاجائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مختلف مقدمات میں وضاحت کے لیے معزز عدالت میں جانے والا متعلقہ افسر کسی بھی طرح ایڈیشنل ڈائریکٹر کی سطح سے کم نہ ہواوراگراس سے کم عہدے کے کسی آفیسر کو بھیجا گیا تو متعلقہ آفیسر کو معطل کردیا جائے گا۔
یہ بات انھوں نے جمعرات کی دوپہرسوک سینٹرمیں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اجلاس میں کے ایم سی اور کے ڈی اے کے محکمہ لینڈ اور محکمہ قانون کے افسران نے شرکت کی، رؤف اختر فاروقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہرمحکمہ اورآفیسراس بات کو یقینی بنائے کہ عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اور جن غیرقانونی عمارتوں کو توڑنے کے لیے عدالتی احکامات موصول ہوچکے ہیں ان پر فوری عمل کرتے ہوئے غیرقانونی عمارتوں کو مسمار کردیا جائے، کے ایم سی اور کے ڈی اے کے محکمہ لینڈ سے متعلق مقدمات کی بریفنگ اور انھیں سمجھنے کے لیے فوری طور پرمحکمہ قانون ہی سے ایک وکیل کل وقتی طور پر مذکورہ محکموں کو فراہم کردیا جائے تاکہ ان محکموں کے افسران اور وکیل لینڈ سے متعلق مقدمات کو اچھی طرح سمجھ سکیں اورعدالت میں اپنا جواب دائر کرتے وقت مکمل معلومات کے ساتھ حاضر ہوں۔
کسی بھی مقدمے کی وضاحت کے لیے عدالت میں پیش ہونے والاآفیسر پہلے خودمتعلقہ کیس سے متعلق مکمل معلومات حاصل کرے اور محکمہ قانون کے وکلا عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی بروقت پیروی کو یقینی بنائیں جبکہ متعلقہ محکمے کے افسران سے ازخود رابطہ کرکے مقدمے کے بارے میں درست معلومات حاصل کریں تاکہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ ہوسکے، انھوں نے کہا کہ سرکاری وکلا اور محکمہ جاتی سربراہان کے درمیان بھی قریبی رابطہ ہونا چاہیے تاکہ مسئلے کو بہتر اندازمیں حل کیاجاسکے۔
اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر کراچی رؤف اختر فاروقی نے ہدایت کی کہ محکمہ لینڈ فوری طور پر اپنے ملازمین کی ایک فہرست مرتب کرے جس میں اس بات کی وضاحت ہوکہ کون شخص کس محکمے سے آیا ہے ساتھ ہی ساتھ پلاٹ کی Creation سے متعلق بھی بتایا جائے کہ یہ عمل ماسٹر پلان کے تحت کیا گیا ہے یا افسران نے اپنے طور پر خود کیاہے جوافسر اپنے کام سے متعلق خود آگاہ نہ ہو یا اسے اپنے محکمے کے کام کے طریقہ کار سے متعلق مکمل معلومات نہ ہو تو یہ اس آفیسرکی نااہلی اور غفلت ہے، یہ بہت ضروری ہے کہ افسران اپنے کام کو سمجھ کر اور دلچسپی کے ساتھ کریں تاکہ اس کے مثبت نتائج سامنے آسکیں۔
یہ بات انھوں نے جمعرات کی دوپہرسوک سینٹرمیں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اجلاس میں کے ایم سی اور کے ڈی اے کے محکمہ لینڈ اور محکمہ قانون کے افسران نے شرکت کی، رؤف اختر فاروقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہرمحکمہ اورآفیسراس بات کو یقینی بنائے کہ عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اور جن غیرقانونی عمارتوں کو توڑنے کے لیے عدالتی احکامات موصول ہوچکے ہیں ان پر فوری عمل کرتے ہوئے غیرقانونی عمارتوں کو مسمار کردیا جائے، کے ایم سی اور کے ڈی اے کے محکمہ لینڈ سے متعلق مقدمات کی بریفنگ اور انھیں سمجھنے کے لیے فوری طور پرمحکمہ قانون ہی سے ایک وکیل کل وقتی طور پر مذکورہ محکموں کو فراہم کردیا جائے تاکہ ان محکموں کے افسران اور وکیل لینڈ سے متعلق مقدمات کو اچھی طرح سمجھ سکیں اورعدالت میں اپنا جواب دائر کرتے وقت مکمل معلومات کے ساتھ حاضر ہوں۔
کسی بھی مقدمے کی وضاحت کے لیے عدالت میں پیش ہونے والاآفیسر پہلے خودمتعلقہ کیس سے متعلق مکمل معلومات حاصل کرے اور محکمہ قانون کے وکلا عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی بروقت پیروی کو یقینی بنائیں جبکہ متعلقہ محکمے کے افسران سے ازخود رابطہ کرکے مقدمے کے بارے میں درست معلومات حاصل کریں تاکہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ ہوسکے، انھوں نے کہا کہ سرکاری وکلا اور محکمہ جاتی سربراہان کے درمیان بھی قریبی رابطہ ہونا چاہیے تاکہ مسئلے کو بہتر اندازمیں حل کیاجاسکے۔
اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر کراچی رؤف اختر فاروقی نے ہدایت کی کہ محکمہ لینڈ فوری طور پر اپنے ملازمین کی ایک فہرست مرتب کرے جس میں اس بات کی وضاحت ہوکہ کون شخص کس محکمے سے آیا ہے ساتھ ہی ساتھ پلاٹ کی Creation سے متعلق بھی بتایا جائے کہ یہ عمل ماسٹر پلان کے تحت کیا گیا ہے یا افسران نے اپنے طور پر خود کیاہے جوافسر اپنے کام سے متعلق خود آگاہ نہ ہو یا اسے اپنے محکمے کے کام کے طریقہ کار سے متعلق مکمل معلومات نہ ہو تو یہ اس آفیسرکی نااہلی اور غفلت ہے، یہ بہت ضروری ہے کہ افسران اپنے کام کو سمجھ کر اور دلچسپی کے ساتھ کریں تاکہ اس کے مثبت نتائج سامنے آسکیں۔