217 سال پرانے نپولین کے خفیہ خط کا معمہ حل!

یہ خط 1809 میں نپولین کی ہدایت پر اس کے سوتیلے بیٹے ایوژین نے لکھا تھا

دو صدیوں سے زائد عرصے سے ایک معمہ بنا ہوا نپولین بوناپارٹ کے دور کا خفیہ خط بالآخر مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈی کوڈ کر لیا گیا ہے۔

یہ خط 1809 میں نپولین کے سوتیلے بیٹے ایوژین نے فرانسیسی جنرل آگستے ڈی مارمون کو بھیجا تھا۔ خط کی پہلی سطر عام فرانسیسی زبان میں تھی لیکن اس کے بعد 24 سطروں میں دو ہندسوں کے نمبرز، مختلف حروف اور عجیب و غریب بنائے گئے نشانات استعمال کیے گئے تھے۔

اصل خط کے ساتھ موجود خفیہ کوڈ کی ’کی‘ وقت کے ساتھ گم ہو گئی جس کی وجہ سے ماہرین 217 سال تک اس کا مکمل مطلب نہیں سمجھ سکے۔

اب سائبر سکیورٹی کمپنی سینٹینیل ون کے انجینئر کارٹر چرچ نے جی پی ٹی-6 آسٹرا کی مدد سے اس کوڈ کو ڈی کوڈ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ان کے مطابق اے آئی نے صرف ایک اسکین شدہ تصویر سے خط کے تقریباً 1300 خفیہ نشانات کو پڑھا، ان کا تجزیہ کیا اور تقریباً چھ گھنٹوں میں پورا عمل مکمل کیا۔

ڈی کوڈ ہونے والے خط میں 1809 کی جنگ سے پہلے فرانسیسی، اتحادی اور آسٹریائی فوجوں کی پوزیشنز اور فوجی منصوبہ بندی سے متعلق معلومات موجود تھیں۔ خط میں روسی فوج کے آسٹریا کے خلاف پیش قدمی کرنے کا بھی ذکر تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ خط دراصل نپولین نے خود نہیں لکھا تھا۔ اسے اس کے حکم پر ان کے سوتیلے بیٹے ایوژین نے جنرل مارمون کو بھیجا تھا لیکن اس میں نپولین کی فوجی ہدایات شامل تھیں۔

ماہرین کے مطابق اس کامیابی کی اہمیت صرف نپولین کے خط تک محدود نہیں، بلکہ یہ مثال دکھاتی ہے کہ جدید اے آئی تاریخی دستاویزات، پرانے خفیہ کوڈز اور ایسے معمے حل کرنے میں کس طرح مدد کر سکتی ہے جو طویل عرصے سے انسانی ماہرین کے لیے مشکل بنے ہوئے ہیں۔

Load Next Story