سندھ کے معاشی مستقبل کا سوال
کسی بھی ملک کی معیشت میں صنعت کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ صنعت صرف کارخانوں اور مشینوں کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ روزگار، سرمایہ کاری، پیداوار، تجارت، ٹرانسپورٹ، خام مال، خدمات اور چھوٹے کاروباروں کا ایک پورا نظام وابستہ ہوتا ہے۔
ایک صنعتی یونٹ قائم ہوتا ہے تو اس کے گرد کئی دوسرے کاروبار جنم لیتے ہیں، جبکہ کسی صنعت کے بند ہونے کا اثر صرف فیکٹری کے دروازے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا معاشی سلسلہ متاثر ہوتا ہے۔
روزگار کم ہوتا ہے، مقامی کاروباروں کی آمدنی گھٹتی ہے، سرمایہ کاری کا اعتماد کمزور پڑتا ہے اور نوجوانوں کے لیے بہتر مواقع محدود ہونے لگتے ہیں۔ اسی لیے کسی شہر میں صنعت کا کم ہونا یا موجودہ صنعتوں کا بتدریج بند ہونا محض کاروباری طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے شہری اور علاقائی معاشی نظام کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
آبادی میں اضافے کے ساتھ روزگار کی ضرورت بھی بڑھتی ہے۔ سرکاری ملازمتیں اس بڑھتی ہوئی افرادی قوت کو روزگار فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتیں؛ اس کے لیے نجی شعبے، صنعت، چھوٹے کاروبار اور پیداواری سرگرمیوں کا پھیلاؤ ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حیدرآباد کے لیے صنعتی ترقی محض سرمایہ کاری کا سوال نہیں بلکہ روزگار کی ضرورت بھی ہے۔ اگر نئی افرادی قوت کے لیے مقامی سطح پر مواقع پیدا نہ ہوں تو نوجوان دوسرے شہروں کا رخ کریں گے، مقامی معیشت اپنی انسانی صلاحیت سے محروم ہوگی اور شہر میں معاشی دباؤ بڑھتا جائے گا۔ اس لیے حیدرآباد کی صنعتی پالیسی کو شہر کی آبادی اور مستقبل کی افرادی قوت کی ضرورت کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔
اس سوال کی اہمیت حیدرآباد کے صنعتی اعداد و شمار سے بھی واضح ہوتی ہے۔ فروری 2023 میں ایک انگریزی روزنامے نے رپورٹ کیا کہ حیدرآباد سائٹ کے 300 صنعتی یونٹس میں صرف 87 کام کر رہے تھے، جبکہ باقی بند تھے۔ ستمبر 2023 میں ایک اور انگریزی روزنامے نے بھی رپورٹ کیا کہ حیدرآباد سائٹ میں 300 سے زائد بڑے اور چھوٹے صنعتی یونٹس موجود تھے اور ان میں 100 سے کم فعال تھے۔
اسی رپورٹ میں حیدرآباد سائٹ کے انفراسٹرکچر کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے ایک ارب دس کروڑ روپے کی منظوری کا ذکر بھی کیا گیا۔یہ اعداد ایک بنیادی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ حیدرآباد کا مسئلہ صرف نئی صنعتیں لگانے کا نہیں بلکہ موجودہ صنعتی بنیاد کو دوبارہ فعال بنانے کا بھی ہے۔
اگر پہلے سے موجود صنعتی یونٹس بنیادی سہولتوں، توانائی، سرمایہ یا دیگر معاشی مشکلات کے باعث غیر فعال رہیں تو نئی صنعتی زمین فراہم کرنے سے بھی مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ صنعتی زمین کا معاملہ حیدرآباد میں آج کا پیدا کردہ مسئلہ نہیں۔
دسمبر 2007 میں ایک انگریزی روزنامے نے رپورٹ کیا تھا کہ سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ نے حیدرآباد سائٹ کی توسیع کے لیے درکار 300 ایکڑ زمین کے عوض سندھ حکومت کو 15 کروڑ روپے ادا کیے تھے۔
تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے بعد بھی صنعتی توسیع کا سوال زیرِ بحث رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صنعتی منصوبوں کو صرف اعلان تک محدود رکھنے کے بجائے ان کی تکمیل کے لیے مستقل انتظامی اور قانونی پیش رفت ضروری ہے۔صنعتی بنیادی ڈھانچہ سرمایہ کاری کے لیے بنیادی شرط ہے۔
سرمایہ کار صرف یہ نہیں دیکھتا کہ اسے زمین مل رہی ہے یا نہیں، وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ وہاں بجلی اور گیس کتنی قابلِ اعتماد ہے، پانی کی دستیابی کیا ہے، سڑکوں کی حالت کیسی ہے، نکاسی آب کا نظام موجود ہے یا نہیں اور خام مال لانے اور تیار مال مارکیٹ تک پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت کتنی بہتر ہے، اگر صنعتی علاقے میں بنیادی سہولتیں کمزور ہوں تو پیداواری لاگت بڑھ سکتی ہے اور سرمایہ کار دوسرے مقامات کا رخ کر سکتا ہے۔
نئی صنعتی زمین کی فراہمی بھی ناگزیر ہے، لیکن صرف زمین فراہم کرنا کافی نہیں۔ نومبر 2024 میں سندھ حکومت کی جانب سے حیدرآباد،ٹنڈو محمد خان روڈ کے قریب 500 ایکڑ اراضی پر نئے صنعتی انکلیو کے منصوبے کی اطلاع سامنے آئی۔
سندھ حکومت کے صنعتی انکلیو منصوبے میں حیدرآباد اور سکھر کے لیے درمیانے درجے کی صنعتوں کے کلسٹرز، جن میں جیم پروسیسنگ، گارمنٹس اور حلال فوڈ جیسی صنعتیں شامل ہیں، کا تصور بھی موجود ہے۔
ایسے منصوبے کو صرف پلاٹوں کی تقسیم تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اسے مکمل صنعتی ماحولیاتی نظام بنانا ہوگا، جہاں بجلی، پانی، سڑک، نکاسی آب، گودام، لاجسٹکس اور دیگر ضروری سہولتیں موجود ہوں۔ سرمایہ کار کو زمین حاصل کرنے کے بعد بنیادی سہولتوں کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑے تو صنعتی زون کا مقصد متاثر ہو جاتا ہے۔
حیدرآباد کے لیے ایک اور اہم ضرورت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ بڑی صنعتیں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن نسبتاً کم اور درمیانے درجے کی سرمایہ کاری سے قائم ہونے والے صنعتی یونٹس بھی روزگار پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حیدرآباد میں ایسے صنعتی کلسٹرز بنائے جا سکتے ہیں جہاں مقامی سرمایہ کار کاروبار شروع یا توسیع کر سکیں۔
اس کے ساتھ آسان مالی سہولت، مارکیٹ تک رسائی اور فنی تربیت کو بھی مربوط کیا جانا چاہیے۔ حیدرآباد کی صنعتی بحالی کا ایک اہم پہلو اس کی زرعی معیشت ہے۔ شہر اور اس کے گردونواح کی زرعی پیداوار صنعتی ویلیو ایڈیشن کے لیے اہم بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔
پھل، سبزیاں، اناج، کپاس اور دیگر زرعی پیداوار کو محض خام مال کے طور پر فروخت کرنے کے بجائے پراسیسنگ، پیکیجنگ اور کولڈ اسٹوریج کے مراحل سے گزار کر زیادہ قدر والی مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے کسان کو بہتر منڈی، صنعت کو مقامی خام مال اور نوجوانوں کو روزگار مل سکتا ہے۔
لیکن یہاں پانی کا مسئلہ انتہائی اہم ہے۔ سندھ کی زرعی معیشت پانی کی دستیابی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ پانی کی کمی کا اثر صرف فصلوں کی پیداوار تک محدود نہیں رہتا بلکہ زرعی خام مال کی قلت صنعتی سرگرمیوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اگر زرعی پیداوار کم ہوگی تو اس سے وابستہ پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کی صنعتیں بھی متاثر ہوں گی۔