میرٹ کا جنازہ ہے
بے شک، سندھ کو مبارک ہو۔ دیہی سندھ کے طلبہ کو مبارک ہو اور بالخصوص ان ہونہار بچوں کے والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد، جن کی محنت، قربانی اور عزم نے ایک ایسا منظر سامنے رکھا ہے جس پر خوشی بھی ہونی چاہیے اور سنجیدگی سے غور بھی۔سندھ کے حالیہ ایم ڈی کیٹ نتائج میں ٹاپ 20 امیدواروں میں کراچی ڈویژن کا ایک بھی طالب علم شامل نہیں۔
سب سے زیادہ 179 نمبر شکارپور کی ایک طالبہ نے حاصل کیے، جبکہ دیگر نمایاں پوزیشنیں تھرپارکر، لاڑکانہ، قمبر شہدادکوٹ، بدین، نوشہرو فیروز، میرپورخاص، شہید بینظیرآباد، سکھر، حیدرآباد، دادو اور خیرپور سمیت مختلف اضلاع کے امیدواروں نے حاصل کیں، یہ محض چند نمبروں کی کہانی نہیں، ایک پرانے مفروضے کے سامنے ایک نیا سوال ہے۔
البتہ احتیاط لازم ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے نتائج میں مبینہ بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اس لیے انھیں کسی حتمی پالیسی فیصلے کا واحد ثبوت نہیں بنایا جاسکتا، لیکن اگر تحقیقات نتائج کی صحت کی توثیق کرتی ہیں، تو سوال پوری قوت سے سامنے آتا ہے کہ جس علاج کا مقصد مریض کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا تھا، کیا اس کی کامیابی کا دن وہ نہیں ہونا چاہیے جب مریض خود کہے کہ اب بیساکھی کی ضرورت نہیں؟
پاکستان میں کوٹہ نظام قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں سے موجود ہے۔ ستمبر 1948 میں وزیراعظم لیاقت علی خان کی حکومت نے سول سروس میں علاقائی کوٹہ متعارف کرایا تاکہ کم نمائندگی رکھنے والے بنگالیوں کی شرکت بڑھائی جا سکے۔
1973 کے آئین کے آرٹیکل 27 نے بھی کم نمائندگی کے ازالے کے لیے مخصوص نشستوں کی آئینی گنجائش فراہم کی۔سندھ میں شہری و دیہی تقسیم بعد میں ایک مستقل انتظامی حقیقت بن گئی۔ وفاقی ملازمتوں میں سندھ کا مجموعی حصہ آج بھی 19 فیصد ہے، جس میں 7.6 فیصد شہری اور 11.4 فیصد دیہی سندھ کے لیے مختص ہے۔
سندھ پبلک سروس کمیشن کے قواعد بھی 40 فیصد شہری اور 60 فیصد دیگر شہروں اور دیہی علاقوں کی تقسیم برقرار رکھتے ہیں۔اس بندوبست کی اصل منطق قابلِ فہم تھی۔ جہاں تاریخی، تعلیمی اور معاشی محرومی نے مقابلے کا میدان غیر مساوی بنا دیا ہو، وہاں عارضی تحفظ قابل دفاع ہوسکتا ہے، مگر ہر اصلاحی بندوبست کے ساتھ ایک سوال جڑا ہونا چاہیے کہ کامیابی کا پیمانہ کیا ہے؟
کیا یہ کہ وہ نسل در نسل چلتا رہے یا یہ کہ جنھیں سہارا دینے کے لیے بنایا گیا تھا وہ بالآخر برابر کی بنیاد پر مقابلہ کرسکیں؟یہیں کوٹہ نظام کا بنیادی تضاد نمایاں ہوتا ہے۔ ہم نے جس پل کو لوگوں کو دریا پار کرانے کے لیے بنایا تھا، کہیں ایسا تو نہیں کہ اسے دریا کے بیچ مستقل رہائش گاہ بنا دیا؟کوٹہ معیاری اسکول نہیں بناتا، اچھے استاد پیدا نہیں کرتا، لیبارٹری، لائبریری، انٹرنیٹ یا روزگار کے مواقع فراہم نہیں کرتا۔
زیادہ سے زیادہ وہ عدم مساوات کے اثر کو وقتی طور پر کم کرنے کا انتظامی ذریعہ ہوسکتا ہے۔ حقیقی مساوات تب پیدا ہوتی ہے جب شکارپور، تھر، دادو، لاڑکانہ یا کشمور کے بچے کو بھی وہی تعلیمی معیار اور مواقع میسر ہوں جو کسی بڑے شہری مرکز کے بچے کو حاصل ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں کوٹہ کئی مرتبہ اسی بنیادی اصلاح کا متبادل بنتا گیا۔ گویا نسخے پر دوا لکھی جاتی رہی، مگر بیماری کے اسباب کا علاج موخر ہوتا گیا، پھر ایک اصلاحی انتظام سیاسی اور لسانی شناخت سے جڑ گیا۔ سوال یہ نہیں رہا کہ ضرورت کتنی باقی ہے۔
یوں ضرورت کی بحث آہستہ آہستہ حق حصہ کی بحث میں بدل گئی۔ تقریباً نصف صدی تک دلیل یہ رہی کہ پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو خصوصی تحفظ درکار ہے، اگر انھی علاقوں سے اب ایسے طالبعلم سامنے آرہے ہیں جو کھلے مقابلے میں نمایاں ترین پوزیشنیں حاصل کررہے ہیں، تو اس تبدیلی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
کم از کم اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ’’دیہی طالبعلم لازماً مسابقتی دوڑ میں پیچھے ہے‘‘ جیسا عمومی مفروضہ اب پہلے جیسی قطعیت سے برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔یقیناً ایک امتحان پورے سندھ کی تعلیمی اور معاشی مساوات کا ثبوت نہیں۔
دیہی سندھ کے اندر بھی تفاوت موجود ہیں۔ غربت، والدین کی تعلیم، کوچنگ، انٹرنیٹ اور اسکول کا معیار آج بھی نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے کسی بڑے پالیسی فیصلے کی بنیاد ایک امتحان نہیں بلکہ وسیع، تازہ اور شفاف اعداد و شمار ہونے چاہئیں،لیکن یہی اصول کوٹہ نظام کے تسلسل پر بھی یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے، اگر کسی استثنائی بندوبست کو جاری رکھنا ہے تو اس کی ضرورت بھی وقتاً فوقتاً قابل پیمائش شواہد سے ثابت ہونی چاہیے۔ نصف صدی پرانا مفروضہ اپنے آپ میں نصف صدی بعد کا ثبوت نہیں بن سکتا۔
جہاں پسماندگی باقی ہے وہاں ریاست بہتر اسکول بنائے، اساتذہ کا معیار بلند کرے، وظائف دے، تربیت، ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع فراہم کرے۔ پسماندگی کا پائیدار علاج پسماندگی کو مستقل سرکاری شناخت بنا دینا نہیں ہوسکتا۔بحث کو شہری سندھ بمقابلہ دیہی سندھ یا کراچی بمقابلہ باقی صوبہ بنانے کے بجائے ایک بنیادی اصول پر استوار ہونا چاہیے کہ کیا ہر بچے کو بالآخر اس کی قابلیت، محنت اور کارکردگی کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا یکساں موقع مل رہا ہے؟
اگر جامع، آزادانہ اور شفاف اعداد و شمار یہ ثابت کریں کہ وہ تاریخی فاصلہ، جس کے ازالے کے لیے کوٹہ وجود میں آیا تھا، بڑی حد تک کم ہوچکا ہے، تو اس نظام کے دائرہ کار، مدت اور مرحلہ وار خاتمے پر بحث کرنا کسی کے حق کوچھیننا نہیں ہوگا،یہ خود اس کی کامیابی کا اعتراف ہوگا۔
آخر کسی اصلاحی پالیسی کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے۔ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ایک دن اس کی ضرورت باقی نہ رہے۔ تب شاید اس مضمون کا عنوان محض طنز نہیں، ایک خوش گوار تاریخی اعلان بن جائے، ’’کوٹہ سسٹم کا جنازہ ہے، ذرا دھوم دھام سے نکلے!‘‘یہ جنازہ ماتم کا نہیں ہوگا۔
یہ اس امر کا جشن ہوگا کہ جن نوجوانوں کو کبھی سہارے کی ضرورت سمجھی گئی تھی، انھوں نے اپنی محنت، قابلیت اور عزم سے ثابت کردیا کہ انھیں ہمیشہ کمزور سمجھتے رہنا خود ان کی کامیابی کی نفی ہے۔آئیے …ایک ایسا سندھ بنائیں جہاں شہری ہو یا دیہی، غریب ہو یا امیر، کراچی ہو یا کشمور، ہر بچے کو ایک ہی پیمانے پر پرکھا جائے، اس کی قابلیت، اس کی محنت اور اس کا میرٹ۔
اب وقت ہے کہ کوٹہ نظام کو عزت و احترام کیساتھ رخصت کرنے کے سوال سے گھبرایا نہ جائے۔ اس لیے نہیں کہ سندھ کے نوجوان کمزور ہوگئے ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ اتنے مضبوط ہوچکے ہیں کہ انھیں مستقل سہارے کا محتاج سمجھنا خود ان کیساتھ ناانصافی ہے اور اگر اعداد و شمار بھی یہی فیصلہ سنائیں تو اس تابوت پر آخری کیل کسی طبقے کیخلاف نہیں ٹھونکی جائیگی،وہ اس سوچ کے تابوت پر ہوگی کہ سندھ کا کوئی بچہ محض اپنے جغرافیے کی وجہ سے ہمیشہ کمزور سمجھا جائے۔پھر ایک نیا سفر شروع ہوسکتا ہے،رعایت سے مساوات کی طرف، تحفظ سے اعتماد کی طرف اور کوٹے سے میرٹ کی طرف۔