نقشہ نہیں، نظام بدلیں

آمدنی وہی، لیکن اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔بے روزگاری اپنی جگہ ایک بڑا مسئلہ ہے

چند روز قبل کراچی کے علاقے احسن آباد میں ایک فلیٹ سے میاں، بیوی اور تین بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ مبینہ طور پر خودکشی کا تھا اور اس کے پس منظر میں تنگ دستی اور معاشی مشکلات کا ذکر سامنے آیا۔

یہ واقعہ اپنے ساتھ کئی ضمنی سوالات لے کر رونما ہوا ہے، سب سے پہلا سوال تو یہ کہ ہمارے معاشرے میں اور ایسے کتنے لوگ ہیں جو غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور قرض جیسے مسائل سے تنگ آ کر جان گنوانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟

ہمارے ہاں ایسے واقعات کا رونما ہونا ’’نیا‘‘ نہیں ہے، اکثر و بیشتر اس قسم کی افسوسناک اور تکلیف دہ خبریں سننے میں آتی رہتی ہیں کہ پورے کے پورے خاندان موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ آج کل ایک اور خبر بہت گردش میں ہے کہ ملک میں نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹس بننے چاہئیں۔

ملک میں نئے انتظامی یونٹس، نئے صوبوں اور صوبوں کی تقسیم کی بحث ٹیلی وژن اسکرینوں پر زور پکڑ رہی ہے۔ دانشور، بیوروکریٹس، سیاسی رہنما اور صحافی اپنے اپنے دلائل پیش کر رہے ہیں۔ کوئی اسے بہتر انتظامی نظام کی ضرورت قرار دیتا ہے، کوئی وسائل کی منصفانہ تقسیم کا ذریعہ سمجھتا ہے اور کوئی اسے عوامی مسائل کے حل کی طرف ایک اہم قدم قرار دیتا ہے،مگر ایک سوال شاید اس پوری بحث میں کہیں پیچھے رہ گیا ہے کہ کیا غریب عوام بھی اس بحث میں اتنی ہی دلچسپی رکھتے ہیں؟

ایک عام مزدور، رکشہ ڈرائیور، دکاندار یا سفید پوش ملازم صبح اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اس کو یہ فکر تو بالکل نہیں ہوتی کہ اس کا صوبہ کتنا بڑا ہے یا اسے کتنے انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ اس کی فکر یہ ہوتی ہے کہ آج گھر کا چولہا کیسے جلے گا، بچوں کی فیس کہاں سے آئے گی، بجلی اور گیس کا بل کیسے ادا ہوگا کے لیے راشن کہاں سے آئے گا۔

کچھ عرصہ پہلے تک ایک غریب شخص اپنی پرانی موٹر سائیکل میں ڈیڑھ سو روپے کا پٹرول ڈلوا کر دن بھر اپنے کام کاج کے لیے نکل جاتا تھا۔ اب پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث وہی رقم چند لمحوں میں ختم ہوتی محسوس ہوتی ہے۔

آمدنی وہی، لیکن اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔بے روزگاری اپنی جگہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جن اداروں سے روزگار کی امید کی جاتی ہے، ان میں کہیں مالی مشکلات کا بہانہ ہے، کہیں بھرتیوں پر پابندی ہے اور کہیں روزگار کے دروازے مخصوص لوگوں کے لیے کھلے دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری طرف اپنا چھوٹا سا کاروبار شروع کرنے کے لیے جس سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ غریب آدمی کے پاس نہیں۔آلو، پیاز، ٹماٹر، آٹا، گھی، چینی، چاول جیسی بنیادی اشیا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔

بجلی اور گیس کے بل گھر کے بجٹ کو ہلا دیتے ہیں۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ متوسط اور سفید پوش طبقے کے لوگ بھی فلاحی اداروں اور خیراتی دسترخوانوں سے استفادہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں ایک عام آدمی کے لیے یہ سوال کہ اس کی زندگی میں نئے صوبوں کی کی اہمیت کیا ہے، انتہائی غیر اہم محسوس ہوتا ہے۔

نئے صوبے بنانا بذات خود کوئی بری تجویز نہیں۔ بہتر انتظام، مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام تک ریاستی سہولیات کی رسائی اگر نئے انتظامی یونٹ کے ذریعے بہتر ہوتی ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔

دنیا کے کئی ممالک میں انتظامی تقسیم نے حکمرانی کو عوام کے قریب لانے میں کردار ادا کیا ہے، لیکن اصل سوال نقشے کا نہیں، نظام کا ہے۔اگر موجودہ نظام میں کرپشن، اقرباپروری، نااہلی، اختیارات کے غلط استعمال اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم موجود ہے تو کیا صرف صوبے کی سرحد تبدیل کر دینے سے یہ مسائل ختم ہو جائیں گے؟ نئے صوبے کا انتظام کون چلائے گا؟ کیا وہاں فرشتے آسمان سے اتریں گے؟ یا وہی انتظامی ڈھانچہ، وہی سیاسی کلچر، وہی بیوروکریسی اور وہی طریقہ کار نئے نام کیساتھ سامنے آئے گا؟

اگر ایک ہی نظام میں سرکاری اسپتال میں دوائیں اور نئی سرنجیں نہیں، اسکول میں سہولیات نہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، پانی دستیاب نہیں، روزگار کے مواقع موجود نہیں، روٹی، کپڑا اور مکان دسترس میں نہیں تو پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ خرابی نظام میں ہے یا نقشے میں؟ موجودہ صوبوں کو اگر شفاف، جوابدہ اور کرپشن سے پاک انتظامی نظام فراہم کر دیا جائے تو بہت سے مسائل اسی ڈھانچے میں حل ہو سکتے ہیں۔

افسران اور منتخب نمائندے اگر عوام کے سامنے جواب دہ ہوں، سرکاری اداروں کی کارکردگی باقاعدگی سے جانچی جائے، ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت ہو، بھرتیوں میں میرٹ ہو اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ہر انسان کا حق سمجھا جائے تو ایک عام آدمی کی زندگی میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔

اگر نئے صوبے واقعی انتظامی بہتری، روزگار، تعلیم، صحت، انصاف اور بنیادی سہولیات تک رسائی یقینی بناتے ہیں تو ان کی ضرورت پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے، لیکن اگر صرف نقشے پر نئی لکیریں کھینچی جائیں اور پرانا نظام، پرانی کرپشن اور پرانی انتظامی کمزوریاں برقرار رہیں تو عام آدمی کو اس سے کیا ملے گا؟

آج عوام کو نعروں سے زیادہ نظام کی اصلاح چاہیے۔ انھیں ایسی حکمرانی چاہیے جس میں ان کی محنت کی کمائی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہو، بچوں کو معیاری تعلیم ملے، بیمار ہونے پر علاج میسر ہو اور نوجوان کو روزگار کے لیے سفارش یا رشوت کا سہارا نہ لینا پڑے۔

نئے صوبے بنیں یا نہ بنیں، فیصلہ دلیل، آئینی طریقہ کار اور عوامی مفاد کی بنیاد پر ہونا چاہیے، لیکن ایک بات واضح ہے نقشے کی تبدیلی اس وقت تک عام آدمی کی قسمت نہیں بدل سکتی جب تک حکمرانی کا طریقہ نہ بدلے اور اگر نئے صوبے واقعی لوگوں کو اس مقام تک لے جا سکتے ہیں جہاں ایک غریب انسان معاشی بے بسی کے باعث موت کو گلے لگانے کے بجائے زندگی سے لڑنے کا حوصلہ پائے، تو نئے صوبوں پر بحث ضرور ہونی چاہیے۔

مگر اگر سوال صرف صوبے کی حدود کا ہے اور عام آدمی کی بھوک، بے روزگاری، مہنگائی، علاج، تعلیم اور عزت نفس کا نہیں، تو پھر شاید ہمیں پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمیں نئے صوبوں کی ضرورت ہے یا کرپشن سے پاک، حق اور انصاف پر مبنی ایک نئے طرز حکمرانی کی۔

Load Next Story