دل کی بھڑاس
دل کی بھڑاس نکالنا ایک مشہور اردو محاورہ ہے، جس کے معنی ہیں رو کر یا برا بھلا کہہ کر دل ہلکا کرنا، جبکہ بھڑاس سے مراد سخت رنجش، دل کا غصہ، رنج، غم یا ناراضگی ہوتی ہے۔ دل کی بھڑاس آنسو نہیں ہوتی جو بہہ کر ختم ہو جائے اور نہ ہی کوئی لفظ جو کہہ کر ختم ہو جائے۔
دل کی بھڑاس کسی کے سامنے نکالنا کمزوری نہیں ہوتی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے دل میں بھڑاس ہے، مسئلہ درحقیقت یہ ہے کہ ہم غلط جگہ غصہ نکال دیتے ہیں اور غلط وقت پر خاموش ہو جاتے ہیں۔ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک عوام نے کبھی بھی صحیح اور مناسب جگہ اپنی دل کی بھڑاس نہیں نکالی۔ ہم پر مسلط کردہ اشرافیہ نے ملک کی خوشحالی پر کاری ضرب لگائی ہے۔ جب تک ہم پر جاگیردار، وڈیرے اور سرمایہ دار مسلط رہیں گے، عوام کی فلاح و بہبود، معاشی خوشحالی اور ترقی ناممکن ہے۔
پاکستان ایک معاشی خودمختار مملکت اسی صورت میں بن سکتا ہے جب پاکستان کی باگ ڈور عوامی نمائندوں کے سپرد کی جائے۔ ایک کسان ہی دوسرے کسان کا مسئلہ سمجھ سکتا ہے، اسی طرح ایک مزدور، محنت کش ہی دوسرے مزدور، محنت کش کا مسئلہ سمجھ سکتا ہے اور اسے حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ طاقتور طبقہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اقتدار عوامی نمائندوں کے سپرد کر دے، ورنہ حالات دن بدن مزید غمگین اور سنگین ہوتے جائیں گے۔
بحیثیت ایک عام شہری، میری عوام سے بھی مودبانہ درخواست ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کو سمجھیں اور جہاں بھڑاس نکالنی ہے، وہاں بھڑاس نکالیں۔ بظاہر زندہ قوم کا نعرہ لگانے والے ہم، بحیثیت پاکستانی، ایک بے حس اور مردہ قوم بن چکے ہیں۔ پاکستانی قوم اس فالج زدہ مریض کی مانند ہے جو ایک وہیل چیئر پر بیٹھی ہے۔ جب جمہوریت کا دل کرتا ہے تو وہ اسے اپنی سمت میں لے جاتی ہے اور جب آمریت کا دل کرتا ہے تو وہ اس وہیل چیئر کو اپنی سمت لے جاتی ہے۔
پاکستانی قوم سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ معاشی روڈ میپ کے فقدان کی وجہ سے عوام کی روزمرہ زندگی مفلوج ہو چکی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام آپس میں اتفاق و اتحاد پیدا کریں، مل کر مشترکہ جدوجہد کا آغاز کریں اور اشرافیہ سے پاکستان کی معاشی آزادی چھین لیں۔
بغیر جدوجہد اور کوشش کے اشرافیہ، جو ہم پر مسلط ہے، ہمیں ہمارے معاشی حقوق کبھی نہیں دیں گے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اشرافیہ کی چال بازیوں اور رنگ بازیوں کو سمجھیں اور اپنے حقیقی نمائندوں کو برسر اقتدار لانے میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔
عوام کی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اپنے دل کی بھڑاس کھل کر نکالیں۔ وقت آ گیا ہے کہ اشرافیہ کو بھی لگام دی جائے اور ان کی مالی لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کو روکا جائے۔ پاکستان معدنیات سے مالا مال ملک ہے۔
ہمارے پاس بے شمار قدرتی وسائل ہیں، زراعت کے بھی وافر وسائل ہیں، لیکن بدقسمتی سے ان کی طرف کسی بھی حکمران نے توجہ نہیں دی۔ اشرافیہ صرف اپنے مفادات کے گرد محور گردش کرتی ہے۔ اب سیاست دانوں کو گائیڈ لائن اور لگام دینی پڑے گی، اگر ایسا نہ ہوا تو خدشہ ہے کہ ملکی حالات مزید سنگینی کی طرف گامزن ہو جائیں گے۔
اشرافیہ کو اپنی عیاشیوں کو روکنا ہوگا اور ملک کو کچھ ڈلیور کرنا ہوگا، اگر اس بار ایسا نہ ہوا تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ایک عام آدمی حالات سے تنگ آ کر نہ صرف اپنے دل کی بھڑاس نکالے گا بلکہ وہ سڑکوں پر آ کر شدید احتجاج کرے گا اور ایسا کسی کے حق میں مناسب نہیں ہوگا۔ حکمرانوں کی بے حسی اور مفاد پرستی پر حبیب جالب نے کہا تھا۔
تم نے تو یہ کہا تھا اجالا کرو گے تم
تم نے تو سب چراغ گھروں کے بجھا دیے
پاکستان کا قیام انتھک جدوجہد اور طویل، نہ ختم ہونے والی کوششوں کی بنا پر ہوا تھا، جس کے لیے اس وقت کے ہمارے سیاسی اکابرین نے بہت قربانیاں دی تھیں، لیکن پاکستان کی صورت حال بدل چکی ہے۔ ایک عام غریب آدمی کی کوئی حیثیت و مقام نہیں ہے۔
تقریباً نو کروڑ آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ ڈھائی سے تین کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے، صحت کی سہولیات بھی ناپید ہیں اور تعلیم کے میدان میں بھی کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہو رہا۔ پاکستان میں صرف اشرافیہ کے مزے ہیں۔ اشرافیہ کے لیے پاکستان ایک کمائی کا ذریعہ ہے، جس سے ان کی زندگیوں میں ترقی اور خوشحالی آتی ہے، لیکن عام عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور عوام کے حالات کا کوئی پرسان حال نہیں۔
خدارا، عوام کے درد و غم کو سمجھتے ہوئے فوری طور پر عوام کو کچھ ڈلیور کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ حالات سب کے ہاتھوں سے نکل جائیں اور ملک میں خونی انقلاب آ جائے، جس سے سب کا نقصان ہوگا۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو کچھ نہیں۔ اہل دانش کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ عوام میں شعور بیدار کریں اور عوام کو قائل کریں کہ وہ آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا کرکے مشترکہ جدوجہد کا آغاز کریں۔ شعوری تحریک ہی درحقیقت معاشی آزادی کی تحریک ہوتی ہے۔
ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ۔ ایک ملک تب ہی مضبوط ہوتا ہے جب وہ دفاعی محاذ پر اور معاشی محاذ پر کامیاب ہو۔ ہمارا دفاع مضبوط ہے، لیکن بدقسمتی سے معاشی لحاظ سے ہم اتنے مضبوط نہیں ہیں۔ ملک چلانے کے لیے ہمیں آئی ایم ایف اور دیگر ممالک کے پاس جانا پڑتا ہے، جس سے پاکستان پر مزید قرض کا بوجھ بڑھ جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہمیں سود کی مد میں ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔
حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں تو ختم نہیں کرتا، لیکن بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی کے لیے عوام پر مزید ٹیکس کا بوجھ ڈال دیتا ہے۔ اشیائے ضروریہ اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں۔ کیسے ممکن ہے کہ ان حالات میں ایک عام آدمی اپنی زندگی کا گزر بسر کرے؟
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت سازی میں عام لوگوں، جن میں مزدور، کسان اور محنت کش شامل ہوں، کی شراکت داری ممکن بنائی جائے۔ اس عمل سے ہی حقیقی تبدیلی آ سکتی ہے اور پاکستان کے حالات بہتری کی جانب گامزن ہوں گے۔
بقول حبیب جالب ۔
لوگ اٹھتے ہیں جب تیرے غریبوں کو جگانے
سب شہر کے زردار پہنچ جاتے ہیں تھانے
کہتے ہیں یہ دولت ہمیں بخشی ہے خدا نے
فرسودہ بہانے، وہی افسانے پرانے
اے شاعر ِ مشرق! یہی جھوٹے، یہی بدذات
پیتے ہیں لہو بندہ مزدور کا دن رات