نئی چربی گھلانے والی دوا سے متعلق مثبت پیش رفت

تحقیق کے نتائج میلان میں یورپی ایسوسی ایشن فار دی اسٹڈی آف ڈائبیٹیز کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے گئے

ایک تحقیق میں وزن کم کرنے والی ایک نئی نسل کی دوا (جو جلد کے نیچے موجود چربی کو ختم کرتی ہے) سامنے آئی ہے جو چند ماہ میں زیادہ وزن والے افراد کا پیٹ نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔

امریکی محققین کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی انجیکشن جسم کے ان حصوں کو بہتر بنانے کے لیے لائپوسکشن جیسے کاسمیٹک طریقہ کار کا متبادل بن سکتا ہے جہاں جمی ہوئی چربی موجود ہو۔

اہم بات یہ ہے کہ سائنس دانوں کے علم میں یہ بات آئی کہ یہ دوا خطرناک چھپی ہوئی ویسیرل چربی کی مقدار بھی کم کرتی ہے۔ یہ چربی جسم کے اندرونی اعضا کے گرد جمع ہوتی ہے اور ہارٹ اٹیک، ذیابیطس اور فالج کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔

اسی دوران، مونجارو یا ویگووی استعمال کرنے کے بعد اس نئی دوا پر منتقل ہونے سے وزن دوبارہ بڑھنے سے روکنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف الاباما کے ماہرین نے بتایا کہ نئی دوا (جسے سی بی ایل-514 کہا جاتا ہے) نے 70 فی صد مریضوں میں جِلد کے بالکل نیچے موجود چربی کی مقدار میں نمایاں کمی کی۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ سی بی ایل-514 کو ٹیرزیپٹائڈ (جسے مونجارو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے( کے ساتھ استعمال کرنے سے وزن کم کرنے کے اثرات مزید بڑھ گئے۔

یہ نتائج میلان میں یورپی ایسوسی ایشن فار دی اسٹڈی آف ڈائبیٹیز کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے گئے۔

ڈاکٹر ٹموتھی گاروی نے کہا کہ سائنس دان توقع کرتے ہیں کہ مریض اس کے ظاہری فوائد سے خوش ہوں گے، مثلاً جلد کے نیچے موجود چربی کم ہونے سے پیٹ کا زیادہ چپٹا نظر آنا۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیکن اصل اہمیت وزن میں کمی، اندرونی اعضا کے گرد موجود چربی میں کمی اور بلڈ پریشر، کولیسٹرول وغیرہ میں بہتری کی ہے، جو صحت کے لیے زیادہ اہم ثابت ہونی چاہیے۔

Load Next Story