کور کمانڈرز کانفرنس کا دوٹوک پیغام
فوٹو: فائل
آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکی زیرصدارت جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں اگلے روز277 ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی۔ ملک کو درپیش مختلف قسم کے چیلنجز کے تناظر میں یہ کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کانفرنس میں پاکستان کے اندرونی اور بیرونی چیلنجز پر غور کیا گیا اور اس حوالے سے واضح اور دوٹوک پیغام جاری کیا گیا ہے۔
کور کمانڈر کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ 9 مئی جیسی صورت حال پرطاقت سے نمٹا جائے گا۔ کانفرنس میں دہشت گردی اور انتشاری جھتے سازی پر بالکل واضح اور غیرمبہم پیغامات دے دیے گئے۔ کورکمانڈر کانفرنس میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کے لیے داخلی استحکام انتہائی اہم ہے، کسی بھی جواز پر پر تشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو فیصلہ کن طاقت اور قانون کے مطابق بلاامتیاز اور بلا جھجھک نمٹا جائے گا۔
بلاشبہ پاکستان کا اندرونی استحکام اور امن معاشی ترقی اور بہتر گورننس کے لیے سب سے اہم اور بنیادی چیز ہے۔ دنیا میں انھی ملکوں نے ترقی کی ہے، جن ملکوں میں ذمے دار اور قانون پسند سیاسی قیادت نے رہنما کردار ادا کیا اور ملک کے اندر امن کی راہ ہموار کی۔ انتشار اور بدامنی کسی ملک کی وحدت اور اس کی ترقی کے لیے زہر قاتل ہوتی ہے۔ اس لیے کور کمانڈر کانفرنس کا پیغام بالکل واضح ہے کہ ملک میں دہشت گردی اور انتشاری جتھوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
دنیا کا کوئی بھی ملک اندرونی طور پر مسلح جتھے برداشت نہیں کرتا۔ پاکستان میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ یہاں مسلح جتھوں اور جرائم پیشہ گروپوں کا خاتمہ کیا جائے۔ پاکستان میں جو لوگ انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، انھیں یقینی طور پر بیرونی مدد بھی حاصل ہے۔ ان لوگوں کی فنانشل لائف لائن کا برقرار رہنا انھیں دراصل زندہ رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان کی شمال مغربی سرحد اس حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ افغانستان ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں دنیا بھر کے دہشت گرد گروپ موجود ہیں اور افغانستان پر قابض طالبان حکومت کو اس کا پوری طرح علم بھی ہے۔ کورکمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں پاکستان کا دفاعی حق ہیں۔
ہندوستان کے آلہ کار کے طور پر دہشت گردی کے سنگین نتائج کی ذمے دار صرف اور صرف طالبان کی کم فہم قیادت ہے ۔ فورم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تسلسل کے ساتھ کامیاب انٹیلی جنس کی بنیاد پر جاری انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کو سراہا ہے۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے زمینی کارروائیوں کے ساتھ بہترین انتظامی اور گورننس کے اقدامات ناگزیر ہیں ۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے لازم ہے کہ گورننس کو بنیادی سطح پر عوام کے قریب ترین لایا جائے۔ فورم نے کہا کہ یہ بھی ضروری ہے کہ عوام کے ساتھ دہشت گردی کی وجوہات اور معاملات پر موثر رابطہ کاری اور بیانیے پر کام کیا جائے۔
افغانستان میں جب سے طالبان کی حکومت برسراقتدار آئی ہے، پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات بھی نہیں ہے۔ افغانستان میں ان کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے زیرنگرانی تربیتی کیمپ آزادانہ طور پر چل رہے ہیں۔
ان کیمپوں میں دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی ہے۔ دہشت گردوں کے سرپرست افغانستان میں غیرقانونی کاروباری سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ منشیات کے جتنے بھی نیٹ ورکس کام کر رہے ہیں، اس کے تانے بانے افغانستان میں جا کر ملتے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے بالکل واضح اور دوٹوک ہے۔
بھارت بھی افغانستان میں پاکستان مخالف نیٹ ورکس کو مدد فراہم کر رہا ہے۔ طالبان کی حکومت اور بھارت کے درمیان رابطے عیاں ہو چکے ہیں۔ طالبان کے کئی منسٹرز بھارت کے دورے کر چکے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو طالبان حکومت بھارت کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہی ہے اور اس کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔
پاکستان میں بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث ہیں۔ ان میں وائٹ کالرز کریمنلز گینگ شامل ہیں۔ یہ گینگز سیاست میں بھی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ غیرقانونی پیسے کی بنیاد پر اس قسم کے گینگز نے ملک کے سسٹم کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان کے ادارے ان کے خلاف مسلسل برسرپیکار ہیں۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مخصوص عناصر کے زیر سایہ چلنے والے کرائم ٹیررگٹھ جوڑ کو توڑنا ضروری ہے جس کے لیے پولیس کی استعدادِ کار کو بھی بڑھانا ہوگا۔ کسی بھی جواز کے تحت پرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو فیصلہ کن طاقت اور قانون کے ساتھ بلاامتیاز اور بلا جھجک نمٹا جائے گا۔
پاکستان میں 9 مئی کو جو کچھ ہوا، اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان کے دشمنوں کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ وہ پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کریں۔ کچھ لوگ دشمن کے اس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کے ادارے ایسے لوگوں کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ ہیں اور ان کے بارے میں رپورٹیں بھی موجود ہیں۔
پاکستان کی مین اسٹریم سیاسی قیادت کا فرض ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے فیصلے کرے۔ پاکستان ہم سب کا ہے۔ پاکستان کو انتشار کے سپرد کرنا کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ ملک میں سیاسی ہم آہنگی برقرار رکھنا سیاسی قیادت کا اولین فرض ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کی مذہبی سیاسی قیادت کو بھی اپنے ماضی کے مؤقف پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
اس حقیقت کو تسلیم کرنا ازحد ضروری ہے کہ سردجنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ سردجنگ کے دور میں جو صف بندیاں قائم ہوئی تھیں، وہ بکھر چکی ہیں۔ دنیا نئے دور میں داخل ہو چکی ہے اور اس نئے دور میں اقوامِ عالم کے ساتھ چلنے کے لیے نئے راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
کور کمانڈرز کانفرنس نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کیا اور حرمین شریفین کے تحفظ کا غیر متزلزل عزم دہرایا گیا ہے۔ فورم نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہدا اور مادر وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سول سوسائٹی کے ارکان کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ان کی لازوال قربانیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔
فورم نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور اعلی درجے کی آپریشنل تیاری برقرار رکھنے کا اعادہ کیا۔ فورم نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کو بھی دہرایا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازع کشمیر کے حل کی حمایت کی توثیق کی۔ پاک فوج کا عزم کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔
پاک فوج اور پاکستان کے دیگر سیکیورٹی ادارے ملک کی سلامتی کے لیے دن رات قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف جس قدر طویل جنگ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے لڑی ہے، دنیا میں کسی اور ملک کے اداروں نے اتنی طویل لڑائی نہیں لڑی ہے۔ پاکستان اب بھی دہشت گردوں کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے۔
اس جنگ کو کامیاب بنانے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مستحکم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور ملٹی ڈومین انضمام کے ذریعے جنگی صلاحیتوں کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے دو صوبے خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔
اگلے روز بھی خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے عیدک میں سیکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 7خوارج ہلاک کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز نے بھرپورعزم اور جنگی مہارت کے ساتھ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کا تعاقب کیا اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے ان کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کردیا۔
سیکیورٹی فورسز عزم استحکام ویژن کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اورپائیدارامن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شمالی وزیرستان کے علاقے عیدک میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 7 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف جرأت مندی سے برسرپیکار ہیں۔ ملک میں جمہوری حکومت بھی اس حوالے سے واضح پالیسی کے تحت پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے۔
پاکستان میں تعمیر وترقی کے سفر کو تیز کرنے کے لیے ملک کے اندر بھی دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انتہاپسند بیانیے کے خاتمے کے لیے بھی ملک میں تعلیمی پالیسی میں تبدیلی لانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ پاکستان کی حکومت کو ایک نئی تعلیمی پالیسی کی ضرورت ہے جس میں طلباء کو نئے نظریات سے روشناس کرا کر انھیں جدیدیت کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔