والدین کی اجازت بھی کام نہیں آئے گی، کیلیفورنیا میں 18 سال سے کم عمر شادی پر پابندی
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
گورنر گیون نیوزوم نے اسمبلی بل 1267 پر دستخط کردیے، جس کے بعد ریاست میں شادی اور ڈومیسٹک پارٹنرشپ کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر ہوگئی ہے۔ نیا قانون یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوگا۔
نئے قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر کسی فرد کو شادی کی اجازت نہیں ہوگی اور اس سلسلے میں والدین کی رضامندی یا عدالت کی منظوری بھی استثنا فراہم نہیں کرے گی۔ اس سے قبل کیلیفورنیا میں نابالغ افراد والدین کی رضامندی اور عدالتی منظوری کے ذریعے شادی کرسکتے تھے۔
کیلیفورنیا اس قانون کے بعد امریکا کی 18ویں ریاست بن گئی ہے جہاں کم عمری کی شادی پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ ریاست میں اس قانون کی منظوری کے لیے کئی برس سے مہم جاری تھی، جس میں کم عمری میں شادی کرنے والی خواتین اور مختلف سماجی تنظیموں نے بھی کردار ادا کیا۔
کم عمری کی شادی کے خلاف کام کرنے والی تنظیم Unchained At Last کے مطابق کیلیفورنیا میں ہر سال تقریباً 9 ہزار بچوں کی شادیاں ہوتی رہی ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ 2000 سے 2021 کے دوران ریاست میں 34 ہزار سے زیادہ نابالغوں کی شادیاں ریکارڈ ہوئیں، اگرچہ مختلف ذرائع میں اعداد و شمار کے طریقۂ شمار کے باعث فرق پایا جاتا ہے۔
نئے قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نابالغ افراد کو جبری یا استحصالی شادیوں سے تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
گورنر نیوزوم کے دفتر کے مطابق قانون کا مقصد ایسے معاملات میں نابالغوں کے تحفظ کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ قانون سازی کی مہم میں کم عمری میں شادی کرنے والی خواتین کی شہادتوں کو بھی اہمیت دی گئی۔