جماعت اسلامی کا غزہ و فلسطین سے اظہار ہکجہتی کیلیے کراچی میں عظیم الشان و تاریخی مارچ کا انعقاد

مارچ میں بچے، بوڑھے، خواتین،مرد سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی

کراچی:

جماعت اسلامی کراچی کے تحت امریکی پشت پناہی میں جنگ بندی کے باوجود غزہ میں جاری اسرائیلی دہشت گردی و جارحیت، فلسطینیوں کی نسل کشی کے 3سال مکمل ہونے پر، اہل ِ غزہ و فلسطین سے بھر پور اظہار یکجہتی کے لیے شاہراہ قائدین پر عظیم الشان و تاریخی ”غزہ مارچ“ کا انعقاد کیا گیا۔مارچ میں بچے، بوڑھے، خواتین،مرد سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

مارچ کا باقاعدہ آغاز قاری منصور کی تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جبکہ واجد انصاری نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا نذرانہ عقیدت پیش کیا۔مارچ سے قبل امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی زیر قیادت نورانی کباب تا اللہ والی چورنگی ریلی نکالی گئی۔

امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے غزہ مارچ کے ہزاروں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اکتوبر کا پہلا ہفتہ اہل غزہ و فلسطین کے مظلوم و نہتے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جائے گا،جماعت اسلامی کے پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس اور مہنگائی کے خلاف تحریک جاری ہے، 7اکتوبر کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

پاکستان، ترکی اور سعودی عرب پر مشتمل دفاعی معاہدہ خوش آئند ہے، دفاعی معاہدے میں ایران، بنگلہ دیش سمیت دیگرمسلم ممالک کو بھی شامل کیا جائے، اگر یہ دفاعی معاہدہ خطے کے دفاع کے لیے ہے تو اس کا پہلا مقصد فلسطین کا تحفظ اور اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

جنگ بندی کے باوجود غزہ کے وسیع علاقوں میں اسرائیلی بمباری جاری ہے، جنگ بندی میں جو کچھ طے ہوا اسرائیل نے اس پر عمل نہیں کیا اور امریکہ اس کی پشت پناہی کررہا ہے،دینی اعتبارسے حماس کی جدوجہد نہ صرف جہاد بلکہ قانونی جنگ ہے، امریکہ حماس کو دہشت گرد کہتا ہے لیکن ہم امریکہ اور اس کے حواریوں کو دہشت گرد کہتے ہیں، مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لیے جدوجہد کو مزیدتیز کیا جائے،امت مسلمہ کو فرقوں، مسلکی اور جغرافیائی تقسیم میں الجھنے کے بجائے فلسطین اور کشمیر کے مظلوم عوام کی پشتیبانی کے لیے متحد ہونا ہوگا۔

طاغوت ہمارے سامنے موجود ہے، اس لیے شیعہ، سنی اور جغرافیائی تقسیم کو ختم کرکے مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی، 70فیصد غزہ کو ملیا میٹ کیا جاچکا ہے اس کے باوجود اہل غزہ کے نوجوان تعلیم حاصل کررہے ہیں،بہت جلدجماعت اسلامی اور الخدمت کے تحت بنوقابل پروگرام فلسطین میں بھی شروع کیا جائے گا۔

الخدمت نے عوام کے تعاون سے 10ارب روپے کی امداد اہل فلسطین کو بھجوائی ہے،پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں سے مطالبہ ہے کہ وہ فلسطینیوں اور اہل غزہ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔حافظ نعیم الرحمن مزیدکہاکہ 7 اکتوبر عسکری دنیا کا ایسا دن ہے جب حماس نے اسرائیل کی طاقت، تکبر اور غرور کو خاک میں ملا دیا۔

 اہل حریت اپنے جوش و جذبے اور عزم کی بنیاد پر بڑی سے بڑی ٹیکنالوجی کو شکست دے سکتے ہیں۔ اسرائیل ٹیکنالوجی کے میدان میں شکست کھانے کے بعد نہتے فلسطینیوں پر حملے کررہا ہے اور گزشتہ تین برس سے فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے۔غزہ کے ساتھ مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، بچوں کو اسنائپر گن سے ٹارگٹ کرکے قتل کیا جارہا ہے۔

 اسرائیل کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ مسلم ممالک کی خاموشی بھی اسے تقویت فراہم کررہی ہے۔ مسلم دنیا کے حکمرانوں، افواج اور ان تمام باضمیر انسانوں کی ذمہ داری تھی جو خود کو انسانیت کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں کہ وہ اسرائیل کو لگام ڈالتے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ طوفان الاقصیٰ کے بعد اسرائیل کی حقیقت دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکی ہے۔

 اسرائیل سمجھتا تھا کہ پوری دنیا مسلمانوں کے خلاف کھڑی ہوجائے گی، لیکن آج مسلم دنیا کے عوام اہل غزہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ خود امریکہ کے عوام بھی اپنی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ حماس اور اہل غزہ کی مزاحمت نے اسرائیل کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا ہے۔حماس کا وصف یہ ہے کہ وہ دین کی بنیاد پر متحد اور منظم ہے اور طویل عرصے سے مزاحمت کے میدان میں ڈٹی ہوئی ہے۔

 اہل غزہ نے تین سال تک حماس کا ساتھ دیا اور ایک دن کے لیے بھی اسے تنہا نہیں چھوڑا۔ پوری دنیا کی اسلامی تحریکوں کو اس اتحاد اور استقامت سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اختلافات کو بھلا کر فلسطینیوں اور کشمیریوں کی پشتیبانی کرنا ہوگی۔جماعت اسلامی ہر طرح کے حالات میں بھی جدوجہد جاری رکھے گی اور اپنے وژن کو نہیں بھولے گی۔

پاکستان کی مذہبی جماعتوں کو کشمیر اور فلسطین کے مسائل پر مؤثر آواز اٹھانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے عوام بھی اپنی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ہورہے ہیں۔ حماس ایک جمہوری جماعت ہے، اس نے جنگ بندی کے معاہدوں میں بھرپور کردار ادا کیا اور پوری دنیا کے سامنے اسرائیل کو بے نقاب کیا ہے۔

اسرائیل ایک ناسور ہے، جب تک یہ موجود رہے گا خطے میں بربادی کا سلسلہ جاری رہے گا۔منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، بزرگوں اور نوجوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں اور خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ آپ نے مختصر وقت میں اتنی بڑی تعداد میں غزہ مارچ میں شرکت کرکے ثابت کردیا ہے کہ اہل کراچی اہل غزہ کے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہیں۔7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے مجاہدین نے اللہ کی نصرت اور مدد سے طوفان الاقصیٰ کا آغاز کیا۔ اس دن اہل غزہ نے اسرائیل اور اس کی پشت پناہ قوتوں کو للکارا اور ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

 طوفان الاقصیٰ نے اسرائیل کے غرور، تکبر اور طاقت کے زعم کو خاک میں ملا دیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اگر ایمان، عزم اور اللہ پر بھروسہ ہو تو کوئی طاقت راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔اہل غزہ آج پوری دنیا کے مسلمانوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ اگر امت کے دلوں میں ایمان، غیرت اور عزم موجود ہوتا تو فلسطین کو ان حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ دنیا میں 57 اسلامی ممالک موجود ہیں، لیکن افسوس کہ جذبہ ایمانی اور عملی اتحاد کی کمی کے باعث غزہ پر ظلم کا سلسلہ جاری ہے۔

جماعت اسلامی اور الخدمت گزشتہ تین برس سے اہل غزہ کی مدد کے لیے عملی طور پر میدان میں موجود ہیں۔ الخدمت نے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں اور مشکل ترین حالات میں بھی اہل غزہ کو تنہا نہیں چھوڑا۔

مفتی ڈاکٹر محمود یوسف الشوبکی نے کہاکہ میں سب سے پہلے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن اور امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے کراچی میں یہ عظیم الشان غزہ مارچ منعقد کیا اور اہل غزہ و فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ہزاروں افراد کو جمع کیا۔میں کراچی کے عوام کو بھی سلام پیش کرتا ہوں کہ آپ نے بڑی تعداد میں اس مارچ میں شرکت کرکے اہل غزہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ فلسطین کے مسلمان دنیا میں تنہا نہیں ہیں۔

 اس طرح کے بڑے اجتماعات اور مظاہرے اہل غزہ کے حوصلے بلند کرتے ہیں اور انہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ دنیا بھر کے مسلمان ان کے دکھ اور تکلیف میں شریک ہیں۔آج غزہ اور فلسطین میں ہر روز بمباری کی جارہی ہے۔ ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بچوں کو شہید کیا جارہا ہے۔ گھروں، مساجد، اسپتالوں اور دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنایا جارہا ہے، لیکن اس سب کے باوجود اہل غزہ اپنے ایمان، صبر اور استقامت کے ساتھ اپنے وطن اور اپنے مقدس مقامات کے دفاع کے لیے کھڑے ہیں۔ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ظلم اور دہشت گردی ہے۔

 اسرائیلی قیادت، بالخصوص نیتن یاہو، فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والے ان مظالم کی ذمہ دار ہے۔ جماعت اسلامی نے پوری دنیا کے سامنے اسرائیلی قیادت کے مظالم کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔مسجد اقصیٰ صرف فلسطینیوں کی مسجد نہیں، یہ پوری امت مسلمہ کے ایمان کا حصہ ہے۔ یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور اس کی حفاظت ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

 آج اگر مسجد اقصیٰ خطرے میں ہے تو یہ صرف فلسطین کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے۔ہمیں مسلکی، لسانی اور جغرافیائی اختلافات سے بالاتر ہوکر مسجد اقصیٰ اور اہل فلسطین کے لیے متحد ہونا ہوگا۔ ہمیں اپنی آواز بلند کرنی ہوگی اور دنیا کو بتانا ہوگا کہ ہم اپنے مقدس مقامات اور مظلوم فلسطینی بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

یونس سوہن ایڈوکیٹ نے کہاکہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف 35 دن تک دھرنا دیا۔35 دن کے دھرنے میں بھی ہم اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کو نہیں بھولے اور ان کے لیے آواز بلند کرتے رہے۔ اسرائیلی صدر اپنے آپ کو یہودی کہتا ہے اور کہتا ہے کہ میں موسی کا ماننے والا ہوں۔اگر نیتن یاہو موسی کا ماننے والا ہوتا تو کبھی بھی کسی انسان کا خون نا بہاتا۔جماعت اسلامی منارٹی ونگ فلسطینی مسلمانوں کے شانہ بشانہ تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔

غزہ مارچ سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، غزہ کے مفتی اعظم ڈاکٹر محمود یوسف الشوبکی،جماعت اسلامی منارٹی ونگ کراچی کے صدر یونس سوہن ایڈوکیٹ، سکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔7اکتوبرکو حماس کے رہنما یحیٰ السنوار سے متعلق ڈاکومینٹری دکھائی جائے گی۔

غزہ مارچ میں سیکورٹی پر معمور افراد نے کالے رنگ کی شرٹ پہنی ہوئی تھی جس پر تحریر تھا کہ save gazza،خواتین شرکاء نے مخصوص فلسطینی رومال پہنے ہوئے تھے۔جماعت اسلامی اور فلسطینی جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے،اسٹیج پر موجود تمام قائدین نے فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مخصوص فلسطینی مفلر پہنے ہوئے تھے۔

Load Next Story