آج کا انسان نئے ’’ورلڈ آرڈر‘‘ کی کھوج میں

دور جدید کا اصل چیلنج مختلف تہذیبوں کے نظریات کو ایک پْرامن اور مستند عالمی توازن میں ڈھالنا ہے

صدیوں سے بنی نوع انسان نے مقامی قوانین بنا کر عالمی امن قائم کرنا چاہا ہے۔ لیکن اب ایک ایسے دور میں جہاں ٹکنالوجی نے فاصلے مٹا دئیے ہیں اور طاقت ارضی قوتوں اور الگورتھموںکے درمیان تقسیم ہو چکی، قدیم نظریاتی نقشوںپرسرحدیں تحلیل ہو رہی ہیں۔عالمی راہنمائوں کے سامنے سب سے بڑا سوال اب یہ نہیں کہ زمین کیسے فتح کی جائے، بلکہ یہ کہ کیا مختلف تہذیبیں انصاف، طاقت اور تقدیر کے بنیادی طور پر متصادم نظریات کے ساتھ، ایک دوسرے کو آگ میں جھونکے بغیر نظم و ضبط کی مشترکہ قلمرو قائم کر سکتی ہیں؟

کچھ عرصہ قبل سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے مابین ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘انجام پایا تو امریکی دانشور و سابق وزیر خارجہ، ہنری کسنجر کی کتاب ’’ورلڈ آرڈر‘‘یاد آ گئی۔اْس میں انھوں نے دفاع اور سیاسیات، اہم انسانی شعبوں کے ماضی، حال اور مستقبل پر بڑی باریک بینی سے روشنی ڈالی ہے۔ بین الاقوامی حکمرانی کے اصولوں، اْن کے آغاز، ارتقا اور جدید دور کے چیلنجوں کا جائزہ لیتے وضاحت کی ہے کہ کس طرح دفاعی،سماجی اور سیاسی جواز قدیم عقائد سے نکل کر الگ الگ علاقائی نظاموں…یورپی، چینی،اسلامی اور امریکی میں تبدیل ہوا۔ اْن کا موقف ہے کہ آخرکار عالمی امن کسی ایک نظریے کو مسلط کرنے نہیں بلکہ مختلف تہذیبوں کے درمیان ’’اشتراکی ارتقا‘‘ اور باہمی سٹریٹجک تحمل کو فروغ دینے پر منحصر ہے۔

 ہنری کسنجر سمجھتے ہیں، تاریخ میں کبھی کوئی حقیقی عالمی نظام (ورلڈ آرڈر) موجود نہیں رہا۔ اس کے برعکس مختلف تہذیبوں نے تاریخی طور پر اپنے الگ تھلگ نظام وضع کیے … اور آج کا اصل چیلنج اْن تہذیبوں کے مختلف نظریات کو ایک پْرامن اور مستند عالمی توازن میں ڈھالنا ہے۔ ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جو مشرق وسطی میں امن وتوازن کی ضمانت بن سکتا ہے کہ اِسے جدید اسلامی دنیا کی تین بڑی طاقتوں نے’’اشتراک‘‘ سے جنم دیا…وہ قیمتی اور دانشمندانہ اشتراک جو ہنری کسنجر کی کتاب کا بنیادی موضوع ہے۔

ہنری کسنجرمرحوم بطور امریکی وزیرخارجہ اپنی مملکت کے مفادات کی تکمیل میں کوشاں رہے۔ اْن کا کردار اخلاقیات کی کسوٹی پر ملا جلا رہا۔ اعلی علمی حیثیت،دانشوری اور زیرکی کے باعث اْن کی کتب دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ 2014ء میں طبع ہوئی اِس اہم کتاب، ورلڈ آرڈر میں وہ بطور ایک عمر رسیدہ فکری راہنما سامنے آتے ہیں جو دنیا میں امن ، سلامتی اور انسانیت کی خوشحالی کا بول بالا چاہتا ہے۔کتاب میں انھوں نے اپنے نقطہ نظر سے اہم تاریخی واقعات و نظریات پیش کیے ہیں جن کا نچوڑ پیش خدمت ہے۔اْن کی کسی دلیل یا نظریے سے اتفاق نہ کرنا ہم سب کا حق ہے۔

 یورپی نظم کا نقاب
دنیا میں بدنظمی کی حقیقت سمجھنے کے لیے ہنری کسنجر ہماری توجہ1648ء کے خونریز سال کی طرف موڑتے ہیں۔اِس تاریخ سے پہلے یورپ قوموں پر مشتمل براعظم نہیں بلکہ چھوٹی بڑی ریاستوں کا افراتفری سے بھرا ایک میدانِ جنگ تھا۔ تیس سالہ جنگ نے وسطی یورپ کے دل کو ایک کْھلے قبرستان میں تبدیل کر دیا تھا۔ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ شہزادے صرف زمین نہیں بلکہ انسانی روحوں کی نجات کے لیے لڑ رہے تھے۔ یہ مطلق عقیدے اور تباہی کی جنگ تھی۔ تلوار، قحط اور وبائی امراض کی نذر ہو کر وسطی یورپ کی ایک تہائی آبادی ہلاک ہو گئی۔

آگ و خون کا یہ کھیل جاری تھا کہ ایک دن تھکے ماندے یورپی سفارت کاروں کا ایک گروہ جرمنی کے منسٹر اور اوسنابروک نامی گرد آلود قصبوں میں جمع ہوا۔ انہوں نے ایک دل دہلا دینے والی حقیقت کا ادراک کیا: ’’اگر ہر بادشاہ اپنی اپنی الہامی سچائی کی فتح ہونے تک لڑتا رہا، تو حکومت کرنے کے لیے کوئی قلمرو ہی نہیں بچے گی۔چناںچہ انہوں نے اپنی بقا کی خاطر حتمی اخلاقی سچائی کی تلاش ترک کر ایک معاہدے کی شکل میں خاموش اور انقلابی سیاسی عمل انجام دیا۔اور اس طرح ’’ویسٹ فیلین نظام‘‘ ( System Westphalian) نے جنم لیا۔سفارت کاروں نے براعظم کے آرپار نہ نظر آنے والی لکیریں کھینچیں اور تین بنیادی اصول وضع کیے:

(1) خودمختاری :ہر باشاہ یا شہزادہ اپنے محل کا خود مالک ہے۔ کسی حکمران نے اپنی سرحدوں کے اندر جو بھی مذہب یا قانون نافذ کیا، وہ صرف اس کا ذاتی معاملہ ہو گا۔ پڑوسیوں کو اخلاقیات کا درس دینے یا مداخلت کرنے کے لیے سرحد پار کرنے کا اْسے کوئی حق حاصل نہیں۔

(2) طریق کار کا نظم :تمام ریاستیں سائز یا مذہبی عقائد سے قطع نظر ایک دوسرے کے ساتھ قانونی طور پر برابر کا سلوک کریں گی۔

(3) طاقت کا توازن (بیلنس آف پاور):کسی بھی ایک ملک کو اتنی زیادہ طاقت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ باقی تمام ممالک پر مسلط ہو جائے۔ اگر ایک سلطنت طاقت دکھانے کی کوشش کرے گی، تو دوسری ریاستیں خود بخود اْس کا قد گھٹانے کے لیے اتحاد بنا لیں گی۔

ویسٹ فیلین نظم سرد، بے حس اور انتہائی عمل پسندانہ تھاجس نے اخلاق نہیں بلکہ حکمرانوں کو خطّے میں توازن دینے کا وعدہ کیا۔ اْس نے خارجہ پالیسی کو ایک مذہبی جنون کے بجائے شطرنج کی ایک پیچیدہ بازی میں بدل دیا۔

توازن کے ماہر
صدیوں کے سفر میں ویسٹ فیلین شطرنج بورڈ نے عظیم کھلاڑی پیدا کیے۔سب سے پہلے فرانس کے کارڈینل ریشلیو (Richelieu Cardinal ) آتے ہیں جو کیتھولک چرچ کے ایک شہزادے تھے اور انہوں نے ایک ناقابلِ تصّور کام کیا: کیتھولک ہولی رومن ایمپائر کچلنے کے لیے کیتھولک فرانس کا اتحاد کرائے کے پروٹسٹنٹ فوجیوں سے کرا دیا۔ کیوں؟ کیونکہ ریشلیو کو’’Raison d’État‘‘ یعنی ’’ریاستی مفاد‘‘ کا ادراک ہو چکا تھا۔ ریشلیو کے نزدیک فرانس کی بقا اور طاقت کو برقرار رکھنا کسی بھی مذہبی عقیدے سے بڑھ کر اہم تھی۔ انہوں نے ریاستی پالیسی کو اخلاقیات سے الگ کر کے قومی مفاد سے جوڑ دیا۔

بعد میں برطانیہ نے ’’توازن برقرار رکھنے والے شہسوار‘‘ کا کردار اپنایا۔ اپنے جزیرے پر محفوظ بیٹھا برطانوی حکمران طبقہ براعظم یورپ فتح کرنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتا تھا۔ اِس کے بجائے اْس کی حکمتِ عملی سادہ تھی: یورپ کی دوسری سب سے بڑی طاقت کی حمایت سب سے بڑی طاقت کے خلاف کرنا تاکہ کوئی بھی ایک جابر…خواہ وہ فرانسیسی حکمران لوئس چہاردہم ہو یا نپولین بونا پارٹ ،براعظم کو متحد کر کے لندن کی طرف رخ نہ کر سکے۔

1815ء میں نپولین بونا پارٹ کی فتوحات کا تباہ کن طوفان تھم گیا تو پھریورپی مدبرین ویانا کانگریس میں جمع ہوئے۔ باریک بین آسٹرین سفارت کار ،شہزادہ کلیمینس وان میٹرنک (Klemens von Metternich) کی زیر قیادت انہوں نے محسوس کیا کہ خطّے میں حکمرانوں کے مابین صرف توازن کافی نہیں ، اُن کی طاقت کو ’’جواز‘‘ (legitimacy) کی بھی ضرورت ہے۔میٹرنک نے تبھی ’’کنسرٹ آف یورپ‘‘ کی بنیاد رکھی:ایک ایسا معاہدہ جس کے تحت عظیم یورپی طاقتیں صرف ایک دوسرے کے خلاف چالیں ہی نہیں چلتی تھیں بلکہ بحرانوں سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے لیے باقاعدگی سے ملاقاتیں بھی کرنے لگیں۔ تقریباً ایک صدی تک یورپ نے طاقت کا مادی توازن شاہی جواز کے مشترکہ احساس کے ساتھ ملا کر کوئی بڑی جنگ نہ ہونے دی۔

مہلک خرابی
تاہم جیسا کہ ہنری کسنجر اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں، ویسٹ فیلین نظام کے اندر ایک بیماری بھی چْھپی تھی۔ یہ نظام ضبطِ نفس، لچکدار اتحادوں اور ماہرانہ سفارت کاری پر منحصر تھالیکن انیسویں صدی کے آخر میں یورپ اپنی یہ مہارتیں کھو بیٹھا۔ پرشیا (ریاست) کے فولاد صفت چانسلر، اوٹو وان بسمارک نے جرمنی کو شاندار طریقے سے متحد کر دیا۔ یورپ کی رقابتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اُس نے خفیہ معاہدوں کا ایک انتہائی پیچیدہ جال بْن ڈالا۔ لیکن بسمارک ایک ایسا عبقری (جنیئس) تھا جس کا کوئی وارث پیدا نہیں ہوا۔ جب اْسے برطرف کیا گیا، تو کمتر ذہنیت والے مدبرین نے نازک سفارت کاری کی جگہ سخت، غیر لچکدار فوجی اتحادوں اور صنعتی پیمانے پر بننے والے ہتھیاروں کو دے دی۔

طاقت کا توازن جو کبھی ضبط و تحمّل کا ذریعہ تھا، ایک قیامت خیز مشین میں بدل گیا۔ جولائی 1914ء میں سارائیوو میں لگی ایک چنگاری نے بارود کو آگ دکھا دی۔ اتحاد متحرک ہو گئے، ٹرینوں کے اوقات نے فوجوں کی پیش قدمی طے کی اور یورپی توازن پہلی جنگِ عظیم کے مذبح خانوں میں دھماکے سے پھٹ گیا۔ یورپ کے ویسٹ فیلین نظم نے خودکشی کر لی۔

 مشرق کا عظیم اژدہا
ہنری کسنجر پھر اپنا رخ عالمی نقشے کے دائیں جانب موڑتے ہیں جہاں نقشہ دھند میں لپٹے پہاڑوں، بہتے دریائوں اور سرخ رنگ کے ایک قلعہ بند شہر کی ایک وسیع، چمکتی ہوئی شاہی تصویر میں بدل جاتا ہے۔جب یورپ خود کو ایک درجن جھگڑالو خودمختار ریاستوں میں تقسیم کرنے میں مصروف تھا، براعظم کے دوسری طرف ایک دیس میں ہزاروں سال سے عالمی نظم کا ایک بالکل مختلف تصّور پنپ رہا تھا۔اْس دیس کا نام تھا:چین۔

چین نے ویسٹ فیلیا کے نظم و امن کا نام تک نہیں سنا تھا، نہ ہی اْسے اْس کی پروا تھی۔ چینی شہنشاہ کے لیے دنیا برابر کے خودمختار ممالک کا مجموعہ نہیں تھی:وہ آسمان تلے ایک واحد، وسیع درجہ بندی (Hierarchy) تھی۔اْس کے نقطہ عروج پر شہنشاہ چین بیٹھا تھا جسے ’’آسمان کا بیٹا ‘‘ کہا جاتا اور جو ’’آسمانی منشور‘‘ کے تحت حکومت کرتا تھا۔ چین صرف ایک قومی ریاست نہیں خود ایک تہذیب تھا یعنی ’’مملکتِ وسطیٰ‘‘ (Zhongguo)۔ باہر کی تمام زمینیں غیر مہذب غیرملکیوں سے آباد تھیں، جن میں فرق صرف شاہی دربار سے اْن کی وفاداری کے درجے کا تھا۔

وے چی بورڈ کی حکمتِ عملی
 مغربی فاتحین کے برعکس جو مطلق مذہبی جنون کے ساتھ سرحدیں پار کرتے تھے، چینی سلطنت نے شاذ و نادر ہی کبھی فوجی طاقت کے ذریعے بیرونی دنیا فتح کرنے کی کوشش کی۔ اْس کے علاقے پہلے ہی وسیع تھے اور اُس کی ثقافت کا کوئی ثانی نہ تھا۔ اِس کے بجائے چینی نظم و ضبط ’’کنفیوشس ازم‘‘ کے اصولوں اور بورڈ گیم’’وے چی‘‘ (Weiqi یا Go ) کی سٹریٹجک منطق پر کام کرتا تھا۔

جہاں مغربی حکمتِ عملی شطرنج کی طرح تھی جس کا مقصد براہِ راست ٹکرائو کے ذریعے فیصلہ کن مات دینا تھا،وہیں چینی حکمتِ عملی ’’وے چی‘‘ کے مانند تھی: طویل المدتی صف بندی، حریف کو گھیرنے اور اخلاقی و ثقافتی کشش پیدا کرنے کا ایک باریک و حساس کھیل۔غیر ملکیوں کو ’’نذرانے و خراج کے نظام ‘‘کی مدد سے سنبھالا جاتا۔ بیرونی حکمرانوں کو بیجنگ میں اپنے سفیر بھیجنے کی دعوت دی جاتی تاکہ وہ ’’کوٹو‘‘ (Kowtow) کرسکیں… یعنی شہنشاہِ چین کے سامنے جھک جائیں۔ بدلے میں شہنشاہ انہیں قیمتی تحائف، تجارتی حقوق اور شاہی ہم آہنگی کے سائے میں رہنے کا شرف عطا کرتا۔ یہ ایک ایسا نظم تھا جو اخلاقی برتری، نرم طاقت (سافٹ پاور) اور بے پناہ سٹریٹجک صبر کی بنیاد پر قائم تھا۔

جب سرحدوں پہ غیرملکی قوتیں جارحانہ رویّہ اپناتیں، تو چینی سلطنت گھبراتی نہیں تھی۔ وہ ’’غیرملکیوں کے ذریعے غیرملکیوں کو قابو کرنے‘‘ کی قدیم حکمتِ عملی کا استعمال کرتی۔ وہ حریف قبیلوں کو ایک دوسرے سے لڑا دیتی۔ جب سلطنت کمزور ہوتی تو انہیں کسی نہ کسی طرح خوش رکھتی اور جب طاقتور ہوتی تو انہیں اپنے اندر ضم کر لیتی یا سزا دیتی۔

رسوائی کی صدی
دو ہزار سال تک چین کے مرکز میں قائم یہ نظم برقرار رہا، جو غیر ملکی ممالک کے عروج و زوال کو وقت کی سطح پر عارضی لہروں کے طور پر دیکھتا رہا۔ لیکن انیسویں صدی میں ویسٹ فیلین دنیا کا تصادم براہِ راست مملکتِ وسطیٰ (چین) سے ہو گیا۔افیون کی جنگوں کے دوران صنعتی آتشیں اسلحے سے لیس برطانوی توپ بردار جہاز دریائے ینگزے میں داخل ہو گئے۔ چینی شہنشاہ کو ’’توہین آمیز معاہدے ‘‘ پہ دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا، جس سے مملکتِ وسطیٰ کی مقدس دیواروں میں شگاف پڑ گیا۔ اِس واقعے نے چین کو اْس کی ’’رسوائی کی صدی‘‘ میں دھکیل دیا…یہ اْس کی طویل تاریخ کا ایک المناک اور غیر معمولی دور تھا جہاں اْسے ایک کمزور فریق کے طور پر مغرب کے زیرِ اثر بین الاقوامی نظام کا حصہ بننے پر مجبور کیا گیا۔

تاہم ہنری کسنجر سمیت ہم سب کو خوب معلوم ہے کہ چین کبھی اپنی قدیم تہذیبی و ثقافتی روایات نہیں بھولا۔جب 1949ء میں مائوزے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی اور بعد میں جب ڈینگ زیائوپنگ نے چینی معیشت کو کھول دیا، تو چین نے مغربی اقدار و روایات نہیں اپنائیں۔ اس کے بجائے مارکسسٹ-لیننسٹ ریاستی تنظیم کو قدیم کنفیوشسی تدبرِ ِمملکت کے ساتھ ملا کر منظم طریقے سے اپنی طاقت دوبارہ بحال کر لی۔

چین بین الاقوامی سطح میں بطور ایک ایسے انقلابی داخل نہیں ہوا جو دنیا تباہ کرنا چاہتا ہے، بلکہ ایسے قدیم دیو کی طرح واپس لوٹا جو میز کی صدر نشست پر اپنا جائز حق واپس لینے آیا ہو۔ اس کے راہنما جدید سفارت کاری کو ہزاروں سال کی شاہی یادداشت سے ڈھلے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں…صبر سے کام لینے اور حساب کتاب کرنے والے، گھیرائوسے سخت حساس اور سٹریٹجک صف بندی کا دہائیوں پر محیط کھیل کھیلنے والے۔

قلمرو کا سایہ
ہنری کسنجر پھر اپنی نظریں عالمی نقشے کے وسط میں، مشرقِ وسطیٰ کے لامحدود صحرائوں اور قدیم شہروں کی طرف موڑدیتے ہیں۔ وہاں عالمی نظم و ضبط کا ایک تیسرا کچھ سخت اور منفرد نظریہ کارفرما تھا…ایک ایسا نظریہ جس نے ویسٹ فیلین قانونیت یا چینی درجہ بندی نہیں الہام سے جنم لیا۔ساتویں صدی میں ایک پیغمبر( ﷺ) نے اسلام کے پرچم تلے جزیرہ نما عرب کے قبائل کو متحد کر دیا۔ اس نئے عقیدے میں حیرت انگیز تحرک اور توانائی تھی جو صرف ایک صدی کے اندر شمالی افریقہ، اسپین، فارس اور ایشیا تک پھیل گئی۔ ہنری کسنجر لکھتے ہیں، کلاسیکی اسلامی تصّور میں کرہ ارض کو واضح طور پر دو قلمروئوں میں تقسیم کیا گیا ہے :

(1)دار الاسلام: وہ زمینیں جو اسلامی حکومت کے تحت ہوں اور جہاں مقدس قانون (شریعت) انسانی زندگی کو خدا کی مرضی کے مطابق منظم کرتا ہے۔

(2)دار الحرب: اسلامی حکومت سے باہر کی زمینیں جن کے بارے میں یہ فرض کیا گیا کہ وہ روحانی افراتفری کی حالت میں ہیں جب تک کہ بالاآخر آفاقی امت (ایمان والوں کی عالمی برادری) میں شامل ہو جائیں۔

 ویسٹ فیلیا نے ریاست کی مقررہ سرحدوں کی بنیاد پر نظم قائم کیا، وہیں کلاسیکی اسلام سرحدوں کو ایک ایسے منظر نامے پر عارضی لکیریں مانتا ہے کیونکہ اُس کی نظر میں دنیا ایک ہی روحانی اور سیاسی قائد یعنی خلیفہ کے تحت متحد ہونے کے لیے بنی ہے۔

عثمانی حل
صدیوں کے دوران جیسے جیسے ابتدائی خلافتیں بنتی گئیں،ترکوں کی قائم کردہ سلطنتِ عثمانیہ نے اِس نظریے کو وراثت میں اپنالیا۔ عثمانی عمل پسندانہ شاہی حکومت کرنے کے ماہر تھے۔ انہوں نے خلافت کے عظیم آفاقی تصّور کو برقرار رکھا جبکہ عملی حقائق نے انہیں عیسائی یورپ کے ساتھ روابط قائم کرنے پر مجبور کر دیا۔جب سولہویں صدی میں سلیمان اعظم (سلیمان قانونی) نے فرانسیسی بادشاہ کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے، تو عثمانیوں نے انہیں برابر کے خودمختاروں کے درمیان امن نہیں بلکہ چھوٹے سرداروں کو دی جانے والی عارضی شاہی مراعات کے طور پر پیش کیا۔ عثمانیوں نے سو سال سے زیادہ عرصے تک مذہبی آفاقیت اور جیو پولیٹیکل حقیقت پسندی کے درمیان کامیابی سے توازن برقرار رکھا۔

تین متصادم طاقتیں
پہلی جنگِ عظیم نے مگر یہ نازک نظام بکھیر کر رکھ دیا۔ سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہو گیا اور 1924ء میں مصطفیٰ کمال اتاترک نے خلافت کا باقاعدہ خاتمہ کر دیا کہ ترکی نے ایک لا دینی (سیکولر) قومی ریاست کا ماڈل اپنا لیا تھا۔اسی وقت یورپی طاقتیں پیمانے اور نقشے لے کر مشرقِ وسطیٰ میں داخل ہو گئیں۔ 1916ء کے خفیہ ’’سائیکس-پیکو معاہدے‘‘ کی وساطت سے برطانیہ اور فرانس نے سابق عثمانی صوبوں کو مصنوعی قومی ریاستوں…عراق، سیریا(شام)، اردن، لبنان میں تقسیم کر دیا۔

 انہوں نے قبائلی زمینوں اور مذہبی فرقوں کے درمیان سیدھی لکیریں کھینچ دیں اور ایک ایسے خطّے پر ویسٹ فیلین ریاستی نظام زبردستی مسلط کر دیا جس نے کبھی ویسٹ فیلین روایت پیدا ہی نہیں کی تھی۔یہ مسلط کردہ نظم انتہائی غیر مستحکم ثابت ہوا۔ یہ خطّہ تین متصادم طاقتوں کے درمیان پس کر رہ گیا:

٭ آمریت: لا دینی عسکری حکمران جنہوں نے اِن مصنوعی ریاستوں کو سخت جبر کے ذریعے جوڑ کر رکھا۔

٭ قوم پرستی: عرب دنیا کو سیاسی طور پر متحد کرنے کا خواب جس نے انفرادی ریاستی سرحدوں کا جواز کمزور کر ڈالا۔

٭شدت پسندی : ایک طاقتور نظریاتی تحریک جو مغرب کے مسلط کردہ ریاستی نظام کو مکمل طور پر ختم کر کے آفاقی خلافت بحال کرنا چاہتی ہے۔

ہنری کسنجر پھر اپنی کتاب میں بیسویں صدی کے آخر اور اکیسویں صدی کے آغاز کی شدت پسندانہ لکیروں کا تعاقب کرنے لگتے ہیں : 1979ء کا ایرانی انقلاب جس نے اپنا نظریہ برآمد کرنے کے لیے وقف ایک شدت پسند سیاسی نظم قائم کیا، القاعدہ اور داعش جیسے بین الاقوامی نیٹ ورکس کا عروج، جنہوں نے پہلی جنگِ عظیم کے بعد کی سرحدوں کو منسوخ اور باطل قرار دیا اور ’’عرب بہار‘‘ کی المناک افراتفری جس نے بغیر کسی مستحکم مقامی متبادل کے پورے خطّے میں ریاستی اختیار اور حکومت کو تباہ کر دیا۔

 عقاب کی سلطنت
ہنری کسنجر اب عالمی نقشے چرمی کاغذ کے کنارے تک پہنچتے اور مغربی کرہ ارض کے وسیع و عریض پھیلائو کو چھوتے ہیں۔ یہاں عالمی منظر نامے پر سب سے نیا، امیر ترین اور سب سے زیادہ پْرجوش کھلاڑی ابھرا آیا: ریاستہائے متحدہ امریکہ۔

اگر یورپ نے اپنا نظم و ضبط عمل پسندانہ توازن پر، چین نے روایتی درجہ بندی اور اسلام نے الہامی احکامات پر قائم کیا تھا، تو امریکہ نے اپنے نظریے کی بنیاد ’’آفاقی اخلاقی سلطنت‘‘ پر رکھی۔ شروعات ہی سے امریکہ نے خود کو انسانی تاریخ میں بطور منفرد تصّور پیش کیا…’’ایک پہاڑی پر بنا روشن شہر‘‘ (City upon a hill)،جہاں ایک ایسی قوم نے جنم لیا جس کی بنیاد نسل یا جغرافیے نہیں بلکہ آزادی، جمہوریت اور حقوقِ انسانی کے تجریدی اصولوں پر رکھی گئی۔

اِس سے امریکی خارجہ پالیسی میں ایک گہری ثنویت (Dualism) یا دوئی پیدا ہوگئی جو درج ذیل دو بالکل مختلف ترغیبات کے درمیان ایک مستقل پینڈولم کی طرح جھولتی رہی:

(1)تنہائی پسندی:یہ عقیدہ کہ پرانی دنیا (یورپ) بنیادی طور پر فاسد ہے، طاقت کے توازن کی تاریک سازشوں میں دھنسی ہوئی ہے اور امریکہ کو اپنے سمندروں کی حد میں پاکیزہ اور الگ تھلگ رہنا اور بیرونِ ملک مداخلت کیے بغیر انسانیت کے لیے آزادی کے منارِ نور کا کام کرنا چاہیے۔

(2) مداخلت پسندی / مجاہدانہ مثالیت : یہ عقیدہ کہ امریکی اقدار آفاقی ہیں اور یہ امریکہ کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ دنیا میں قدم رکھے اور دیگر اقوام کو اپنے سانچے میں ڈھالے یعنی کھینچی گئی تلواروں کو جمہوریت اور طاقت کے توازن کو عالمی امن میں تبدیل کرے۔

وڈرو ولسن کا نظریہ
اِس سوچ میں اہم موڑ اْس وقت آیا جب صدر وڈرو ولسن کی زیرقیادت امریکہ پہلی جنگِ عظیم میں شریک ہوا۔ ولسن یورپی طاقت کے نظام ِ توازن سے شدید نفرت کرتے اور اْسے تمام جنگوں کی بنیادی وجہ سمجھتے تھے۔جب وہ پیرس امن کانفرنس میں شرکت کرنے یورپ پہنچے، تو اپنے ساتھ ایک انقلابی نظریہ لائے: ’’اجتماعی سلامتی۔‘‘ولسن نے ایک ایسے نئے عالمی نظم کا تصّور پیش کیا جو ’’لیگ آف نیشنز‘‘ (جمعیت الاقوام) کے تحت تدوین پائے اور جہاں:

٭ طاقت کے توازن کی جگہ آزاد جمہوریتوں کا اخلاقی اتفاقِ رائے جنم لے

٭ خفیہ معاہدوں کی جگہ کھلی سفارت کاری لے لے

٭ کسی بھی ریاست کے خلاف جارحیت کو تمام ریاستوں پر حملہ تصّور کیا جائے۔

٭ قومی حقِ خودارادیت کی روشنی میں سرحدیں کھینچی جائیں۔

ولسن کا نظریہ شاندار اور عالی شان تھا، لیکن اْس میں ایک گہرا نقص تھا۔ اْس میں یہ فرض کر لیا گیا کہ تمام اقوام فطری طور پر امن اور جمہوریت چاہتی ہیں، جبکہ طاقت، تاریخ اور ناپائیدار قومی مفادات کی تلخ حقیقتیں نظر انداز کر دی گئیں۔ لیگ آف نیشنز ناکام ہو گئی کیونکہ امریکہ کی اپنی سینیٹ نے اْس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ اور یورپ تیزی سے اْن تاریک عادتوں کی سمت واپس چلا گیا جنھوں نے دوسری جنگِ عظیم کو جنم دے ڈالا۔

 کامیاب بین الاقوامی ڈھانچہ
دوسری جنگِ عظیم کی راکھ سے ایک زیادہ سمجھدار اور عمل پسند امریکہ سامنے آیا۔ فرینکلن ڈی روزویلٹ، ہیری ٹرومین اور جارج مارشل جیسے مدبرین کی رہنمائی میں امریکہ نے جدید تاریخ کا سب سے کامیاب بین الاقوامی ڈھانچہ تیار کیا۔’’پیکس امریکہ نا‘‘ ( Americana Pax )نامی یعنی امریکی امن نظام ایک دوغلا (ہائی برڈ) شاہکار تھا:

٭حقیقت پسندانہ بنیاد: اِس نے ’نیٹو‘ جیسے اتحادوں کے ذریعے سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کے خلاف طاقت کا ایک سخت، عسکری توازن برقرار رکھا۔

٭لبرل بالائی ڈھانچہ: اِس نے آفاقی قوانین اور ادارے قائم کیے:اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، ورلڈ بینک اور عالمی آزادانہ تجارت کے معاہدے۔

دہائیوں تک امریکہ نے اِس نظم کو صرف بطور ایک غالب طاقت نہیں بلکہ عالمی سلامتی کے ضامن کے طور پر چلایا۔ اْس نے سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت کی، یورپ اور ایشیا میں اتحادیوں کی سلامتی کی ضمانت دی اور عالمی خوشحالی کے لیے معاشی انجن فراہم کیا۔جب1991ء میں سوویت یونین کا شیرازہ بکھرگیا، تو امریکی نظریہ مکمل طور پر فاتح محسوس ہوا۔ مفکرین نے ’’تاریخ کے خاتمے‘‘ کا اعلان کر دیا…یعنی یہ خیال کہ لبرل جمہوریت اور مارکیٹ کیپٹلزم انسانی حکومت کی حتمی اور غیر متنازع شکل بن کر ابھرآئے ہیں۔

مثالیت پسندی کا جال
تاہم اپنی مکمل فتح کے یادگارلمحے امریکہ ایک شناسا جال میں جا گرا۔11ستمبر کے حملے ہوئے تو امریکہ نے افغانستان اور عراق میں عسکری مداخلت شروع کر دی۔ اہداف تیزی سے سخت گیر اسلامی نیٹ ورکس تباہ کرنے سے بڑھ کر ’’قوم کی تعمیر‘‘ (نیشن بلڈنگ) تک پھیل گئے ،یعنی شدید روایتی معاشروں کو فوری طور پر جدید، ویسٹ فیلین طرز کی جمہوریتوں میں تبدیل کرنے کی کوشش۔

امریکہ ویسٹ فیلیا کا سبق بھول گیا کہ سیاسی نظم کو غیر ملکی حکم نامے کے ذریعے درآمد کرنے کے بجائے کسی معاشرے کی اپنی تاریخ، ثقافت اور طاقت کی حرکیات سے قدرتی طور پر پھلنا پھولنا چاہیے۔ غلط قدم اْٹھانے کے نتیجے میں پیدا ہوئی دلدل نے امریکی عزم نچوڑ لیا اور جیو پولیٹیکل حقیقت پسندی سے الگ تھلگ عسکری طاقت کی حدود بے نقاب کر دیں۔

 ٹوٹا ہوا آئینہ :اکیسویں صدی کا بحران
ہنری کسنجر نے پیچھے ہو کر پورے نقشے پر نگاہ ڈالی: تاریخی خاکے…ویسٹ فیلین، چین کا مرکز، اسلامی اور امریکی اب الگ تھلگ کام نہیں کر رہے تھے۔ وہ ایک ہی، انتہائی جڑے ہوئے اسٹیج پر یک دم ٹکرا رہے تھے۔عصرِ ِحاضر کا عالمی نظم درج ذیل تین گہرے بحرانوں کا سامنا کر رہا تھا:

(1)ریاست کا زوال
دنیا کے وسیع علاقوں ، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے کچھ حصّوں میں خود ویسٹ فیلین ریاست بکھر رہی تھی۔ غیر ریاستی عناصر…بین الاقوامی شدت پسند گروہ، مسلح ملیشیا، منظم جرائم کے کارٹل خودمختاری کی کسی بھی ذمے داری یا پابندی قبول کیے بغیر طاقت کا استعمال کر رہے تھے۔ جب ریاستیں طاقت کے خلا میں گرتی ہیں، تو پورے کرہ ارض پر عدم استحکام پھیلا دیتی ہیں۔

(2) معاشی تضاد
عالمی معیشت مکمل طور پر مربوط اور سرحدوں سے آزاد ہو چکی تھی۔ سرمایہ، سامان اور سپلائی چینیں روشنی کی رفتار سے دنیا بھر میں بغیر کسی رکاوٹ کے بہنے لگی تھیں۔ تاہم سیاسی حکمرانی اب بھی انفرادی قومی ریاستوں سے جڑی ہوئی تھی۔اس سے ایک خطرناک تضاد نے جنم لیا : گلوبلائزیشن نے مجموعی طور پر بے پناہ دولت تو پیدا کر دی لیکن اْس نے مقامی برادریوں کو بھی برباد کیا، ملکی سطح پر ناہمواری بڑھا دی اور ایک شدید سیاسی ردِعمل پیدا کر ڈالا۔ شہریوں نے اپنے قومی راہنمائوں سے کنٹرول واپس لینے کا مطالبہ کیا، نتیجے میں عوام پرستی (پاپولزم)، معاشی قوم پرستی اور تحفظ پسندی (پروٹیکٹ ازم) کو دوبارہ عروج حاصل ہوا۔

(3)ڈیجیٹل بیابان :سائبر اسپیس
شاید سب سے خطرناک سرحد وہ ہے جو کسی بھی ارضی نقشے پر موجود ہی نہیں : سائبر اسپیس۔انٹرنیٹ کی ٹکنالوجی نے انسانی میل جول کا ایک نیا میدان تشکیل تو دے دیا لیکن یہ بغیر کسی ویسٹ فیلین معاہدے کے وجود میں آیا۔ سائبر اسپیس میں:

٭سرحدوں کا کوئی وجود نہیں

٭ حملہ آور کی شناخت ’’منسوبیت کے مسائل‘‘کی وجہ سے با آسانی چھپ جاتی ہے۔

٭ غیر ریاستی عناصر اور تنہا ہیکر ایسے زبردست حملے کر سکتے ہیں جو خودمختار افواج کی تباہ کن صلاحیت کا مقابلہ کرتے ہوں۔

٭ سائبر لڑائیاں امن اور جنگ کے درمیانی خاکستری علاقے (گرے زون) میں مسلسل جاری رہتی ہیں۔وہ اہم بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچاتی، فکری اثاثے چوری کرتی اور ملکی جمہوری عمل میں مداخلت کرتی ہیں۔

ڈیجیٹل دنیا میں کسی ’’جنگی اقدام‘‘ کے ہونے یا نہ ہونے پر بین الاقوامی اتفاقِ رائے ہوئے بغیر اچانک اور تباہ کن تنازع جنم لینے کا خطرہ روز بروز بڑھ رہا ہے۔

چار نظریات کا اجتماع
عالمی تعطل واضح کرنے کے لیے ہنری کسنجر نے اپنی کتاب میں وقت کے گنبد تلے ایک عظیم الشان ایوان کا تصّور کیا۔وہاں ایک بڑی گول میز کے گرد چار شخصیات بیٹھی ہیں جن میں سے ہر ایک زمین کی عظیم سیاسی روایتوں میں سے ایک کی نمائندگی کر رہی تھی۔

 اِس عالمی کونسل میں امریکی نمائندہ آفاقی انسانی حقوق کا بیج لگائے سیدھا بیٹھا ہے۔ ’’ہمیں اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظم مضبوط کرنا ہوگا۔‘‘ اس نے زور دیا۔ ’’ہر قوم کو جمہوری حکمرانی اپنانا، آزادانہ تجارت کا احترام کرنا اور انسانی حقوق کی حفاظت کرنا ہوگی۔ صرف اسی وقت حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے جب تمام اقوام اِن اقدار میں شریک ہوں۔‘‘

چینی عالم نے صدیوں پر محیط صبر کا پنکھا جھلتے، شائستگی سے مسکرا کر جواب دیا ’’آپ کے آفاقی اصول محض آپ کی اپنی قومی اقدار ہیں جو دوسروں پر مسلط کی جا رہی ہیں۔‘‘اْس نے سکون سے کہا’’نظم کی بنیاد دوسروں کے اندرونی معاملات پر لیکچر دینے سے نہیں رکھی جا سکتی۔ نظم پانے کے لیے درجہ بندی کا احترام و بنیادی مفادات کا اعتراف کرنا اور ہر تہذیب کو اْس کی قدیم روایتوں کے مطابق حکومت کرنے کی اجازت دینا ضروری ہے۔‘‘

ویسٹ فیلین حقیقت پسند لکڑی کی میز پر اپنی انگلیوں سے دستک دیتے بولا’’اگر طاقت کا توازن ٹوٹ جائے تو اقدار بے معنی ہو جاتی ہیں۔‘‘ اس نے خبردار کیا۔’’ہمیں کسی آفاقی نظریے نہیں ایک سرد، حقیقت پسندانہ توازن کی ضرورت ہے۔ طاقت کو طاقت کے ذریعے ہی روکا جانا چاہیے۔ اگر ہم نے خارجہ پالیسی کو اخلاقی جنون میں بدلنے کی کوشش کی، تو ہم دنیا جلا کر راکھ کر دیں گے۔‘‘

شدت پسند قائد سائے میں کھڑا تھا، اس کی آنکھوں میں عقیدے کا جوش چمک رہا تھا۔ ’’آپ کی ریاستیں ریت پر کھینچی گئی لکیریں اور لا دینی توازن،یہ سب انسانی وہم ہیں۔‘‘ اس نے اعلان کیا۔ ’’حقیقی نظم کا تعلق انسان سے نہیں ہے۔ ہم آپ کی مصنوعی سرحدوں مٹا دیں گے تاکہ مذہب کے تحت چلنے والی دنیا بحال ہو سکے۔‘‘

چاروں شخصیات نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ اْن میں سے کسی کے پاس بھی دوسروں کو مکمل طور پر کچلنے کی طاقت نہیں تھی اور نہ ہی کسی کے پاس ایسے دلائل تھے جو دوسروں کو اپنی بنیادی شناخت دستبردار کرنے پر مجبور کر سکیں۔

مورخ کا فیصلہ
اب ہنری کسنجر عالمی نقشے سے نظریں ہٹا لیتے ہیں۔ وہ ایک لائبریری میں بیٹھے ہیں جہاں سیاہ عقیق سے بنے گھڑیال کی دھیمی ٹک ٹک گونج رہی تھی۔وہ سوچنے لگے،انسانیت ایک ایسے دور میں تہذیبوں کا تصادم کیسے روک سکتی ہے جہاں بحیرہ جنوبی چین، مشرقی یورپ یا سائبر اسپیس میں ایک چھوٹا سا غلط تخمینہ بنی نوع انسان کی مکمل تباہی کا سبب بن سکتا ہے؟

انھوں نے محسوس کیا کہ اِس سوال کا جواب کسی خیالی دنیا میں نہیں ملے گا۔ کوئی ایک عالمی حکومت نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی ایک فلسفے کوآفاقی فتح ملے گی۔ چین سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ مغربی جمہوریت بن جائے، یا مغرب سے یہ چاہنا کہ وہ چینی شاہی اثر و رسوخ قبول کر لے، یا عالم اسلام سے یہ توقع رکھنا کہ وہ راتوں رات مستحکم ویسٹ فیلین جمہوریہ میں بدل جائے…یہ تو مستقل طور پر دنیا میں جنگیں جاری رکھنے کا نسخہ ہے۔اِس کے بجائے جدید عالمی نظم کو ایک ’’دو سطحی حکمتِ عملی‘‘ کے ذریعے محنت سے تعمیر کرنا ہوگا:

(1)پہلی سطح،طاقت کا بیرونی توازن:بڑی طاقتوں کو طاقت کے مادی حقائق تسلیم کرنا ہوں گے۔ ریاستہائے متحدہ، چین، روس، یورپ، اور برازیل جیسے ابھرتے دیوئوں کے درمیان ایک مستحکم توازن موجود ہونا چاہیے۔ کسی بھی طاقت کو اپنے خطّے پر مکمل طور پر مسلط ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور عسکری توازن کا خوف موجود رہے تو اچھا ہے۔بڑی اقوام کے درمیان طاقت کا عمل پسندانہ توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔

(2)دوسری سطح،جواز کا اندرونی تصّور:صرف طاقت ہی کافی نہیں ،یہ مستقل تصادم کو جنم دیتی ہے۔ عظیم طاقتوں کو کم از کم دنیا میں طریق کار کے مشترکہ اصولوں پر مذاکرات کرنے ہوں گے۔ انہیں اندرونی اخلاقیات پر متفق ہونے کی ضرورت نہیں لیکن ذیل کے بین الاقوامی رویّے پر ’’لازماً‘‘ متفق ہونا پڑے گا:

٭علاقائی تنازعات سنبھالنے کے اصول۔

٭ سائبر جنگ اور مصنوعی ذہانت کے لیے آفاقی حدود۔

٭ ماحولیاتی تبدیلی، معاشی تباہی اور وبائی امراض جیسے عالمی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکانزم۔

یہ اصول وضع کرنے کے لیے ایک نادر اور بلند ترین تدبرِ مملکت (سٹیٹمین شپ) کی ضرورت ہے…ایک ایسی حکمتِ عملی جو حقیقت پسندی اور دور اندیشی (وژن) یکجا کردے۔مدبرین کو اِس حد تک حقیقت پسند ہونا چاہیے کہ وہ سمجھ سکیں ، انسانی فطرت، طاقت کی حرکیات اور تاریخی یادیں محض خواہشات کے ذریعے مٹائی نہیں جا سکتیں۔ انہیں اِس حد تک دور اندیش بھی ہونا چاہیے کہ وہ پہچان سکیں ، بین الاقوامی نظم کے مشترکہ تصّور کے بغیر انسانیت بالاآخر افراتفری کی طرف چلی جائے گی۔

 آخر میں تنبیہ
ہنری کسنجر کتاب کے آخری حصے تک پہنچ کر عالمی نظم و توازن کا عظیم اطلس بند کر دیتے ہیں۔ چرمی کاغذ کی چمک دھیمی پڑ چکی اور اْس کی چمکتی ہوئی سرحدیں ایک پْرسکون، عارضی خاموشی میں ڈھل گئی ہیں۔وہ خاموش لائبریری میں دھیمے سے کہنے لگتے ہیں’’نظم کبھی مستقل حاصل ہونے والی چیز نہیں ،یہ فن کا ایک مسلسل اور نازک شاہکار ہے جسے ہر نئی انسانی نسل کو ازسرِنو تخلیق کرنا پڑتا ہے۔‘‘

اکیسویں صدی میں یہ ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا کہ اقوام عالم بغیر کسی مشترکہ سمت کے ٹکنالوجی اور جذبات کے بہائو میں بہتی جا رہی ہیں۔ اگر آج کے عالمی راہنما اپنی متصادم تہذیبوں کے درمیان پْل بنانے میں ناکام رہتے ہیں،اگر وہ سٹریٹجک توازن کے بجائے مکمل نظریاتی تسلیم و رضا کا مطالبہ کرتے ہیںتو یہ دنیا ایک بار پھر کسی عالمی تنازع کی آگ میں جل اٹھے گی۔ اور آنے والے انسانوں کے پاس ایک اور زوال پذیر دور کی راکھ چھاننے کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔کسنجر کی رو سے دور جدید میں ہر انسان کا حتمی مقصد دنیا فتح کرنا نہیں بلکہ اْسے مل جل کر سنبھالنے کی دانشمندی پیدا کرنا ہونا چاہیے۔

Load Next Story