ترکیہ: جھیل کے تاریک پانیوں میں پُراسرار پتھریلے ڈھانچے دریافت
ترکیہ کی جھیل وان کے گہرے اور تاریک پانیوں میں پُراسرار پتھریلے ڈھانچے دریافت ہوئے ہیں۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ کسی انتہائی قدیم زیرِ آب بستی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
غوطہ خوروں نے جھیل کی سطح سے تقریباً 23 میٹر نیچے ایک بڑا گول ڈھانچہ اور آپس میں جڑے ہوئے پتھروں سے بنی ایک دیوار دریافت کی ہے۔
تحقیقی ٹیم کے رکن میتھیو لاکروئس کا کہنا ہے کہ اب تک ملنے والے آثار ممکنہ طور پر کسی بہت بڑے کمپلیکس کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔
دریافت ہونے والی دیوار میں گول ڈھانچے تک جانے والی تین سیڑھیاں اور پتھروں کی سات تہیں موجود ہیں، جو جھیل کی تہہ سے 2.4 میٹر سے زیادہ بلند ہیں۔ محقق کے مطابق وہاں ایک سڑک یا راستے جیسا ڈھانچہ بھی ملا ہے جو 45 میٹر سے زیادہ طویل ہے۔
لاکروئس کا کہنا تھا کہ یہ راستہ مزید آگے تاریکی میں جاتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر اس کا تعلق دیگر عمارتوں سے ہو سکتا ہے جو ابھی دریافت نہیں ہوئیں۔
ان کے مطابق اتنا بڑا ڈھانچہ اکیلے تعمیر نہیں کیا جا سکتا، اس لیے ممکن ہے کہ یہاں کبھی ایک بڑی آبادی موجود رہی ہو۔
تاہم، ابھی تک ایسا کوئی ٹھوس آثارِ قدیمہ کا ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ جھیل کے نیچے واقعی کوئی مکمل قدیم شہر موجود ہے۔ اس ڈھانچے کی عمر سے متعلق دعوے بھی ابھی براہِ راست سائنسی تجزیے سے ثابت نہیں ہوئے ہیں۔