تہران واشنگٹن کشیدگی اور سفارتی امکانات
دنیا کی بڑی طاقتوں کی سیاست میں بعض اوقات ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب توپوں کی آواز سے زیادہ خاموشی خطرناک محسوس ہونے لگتی ہے۔ ایران کے گرد منڈلاتی جنگ، آبنائے ہرمز میں خطرناک صورت حال، یمن میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا اضطراب اسی مرحلے کی نشاندہی کر رہا ہے۔ ایک طرف واشنگٹن جنگ کے خاتمے کی امید دلا رہا ہے اور دوسری طرف میدانِ جنگ میں ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جو کسی بھی وقت مذاکرات کے امکانات کو دوبارہ تصادم کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہوسکتی ہے اور ممکنہ طور پر نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد تنازع اختتام پذیر ہوجائے گا، اس پورے بحران میں سیاسی، عسکری اور معاشی مفادات کی باہمی گتھی کو نمایاں کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر جنگ ختم ہونے کی گنجائش موجود ہے تو اسے طول دینے والی قوتیں کون سی ہیں اور اگر مذاکرات ہی راستہ ہیں تو ان تک رسائی میں رکاوٹ کہاں ہے؟
ایران کے بارے میں امریکی صدر کا موقف بیک وقت دو متضاد اشارے دیتا ہے، وہ ایک طرف تہران پر مذاکرات نہ کرنے اور سخت پوزیشن اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں، دوسری طرف خود یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ایران سے مذاکرات کے لیے رابطہ کس سے کیا جائے، یہ ایک اہم سوال ہے، کیونکہ وہاں اقتدار کی کشمکش اور مختلف گروہوں کی موجودگی کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔
اس اعتراف کو محض سیاسی بیان سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جنگ کے ہر مرحلے میں اصل دشواری یہ ہوتی ہے کہ فریقین کے درمیان رابطے کا ایسا قابلِ اعتماد راستہ موجود ہو جس کے ذریعے عسکری کارروائیوں کو سفارتی عمل میں تبدیل کیا جاسکے، اگر طاقت کے استعمال سے مخالف کو مذاکرات کی میز تک لانا مقصد تھا تو اب اگلا مرحلہ جنگ کو کسی واضح سیاسی انجام تک پہنچانا ہونا چاہیے، کیونکہ محض فوجی برتری کسی پیچیدہ علاقائی بحران کا مستقل حل نہیں بن سکتی۔
ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کا امریکی عزم بھی اس تنازع کا بنیادی محور ہے۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکی فضائی حملوں سے ایران کی جوہری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور تہران کو اپنی تنصیبات دوبارہ تعمیر کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں، اگر یہ دعویٰ درست بھی ہو تو جوہری مسئلہ صرف تنصیبات کو نقصان پہنچانے سے ختم نہیں ہوتا۔ کسی ملک کی سائنسی صلاحیت، تکنیکی افرادی قوت، صنعتی ڈھانچے اور سیاسی ترجیحات کو بمباری کے ذریعے مستقل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ جنگ کسی پروگرام کو وقتی طور پر پیچھے دھکیل سکتی ہے، لیکن پائیدار حل کے لیے ایسے معاہدے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں نگرانی، تصدیق، ضمانتیں اور فریقین کی سلامتی کے تقاضے شامل ہوں۔ بصورت دیگر ایک مرحلہ ختم ہونے کے بعد دوسرا مرحلہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ شروع ہوسکتا ہے۔
ایران کی معاشی مشکلات اور مہنگائی کا حوالہ بھی اس بحران کی ایک اہم جہت سامنے لاتا ہے۔ شدید افراطِ زر کسی بھی حکومت کے لیے سیاسی دباؤ بڑھاتا ہے، لیکن یہ سمجھنا کہ معاشی کمزوری لازماً قومی مزاحمت کو ختم کردیتی ہے، تاریخ کے کئی تجربات سے متصادم ہے۔ پابندیوں، جنگ اور معاشی دباؤ کے باوجود ریاستیں بعض اوقات اپنی خارجہ پالیسی میں مزید سختی اختیار کرتی ہیں، کیونکہ بیرونی دباؤ داخلی سیاسی صف بندی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ چنانچہ اقتصادی بحران کو مذاکرات کے لیے دباؤ کا ذریعہ تو بنایا جاسکتا ہے، مگر اسے فوری سیاسی شکست کا مترادف قرار دینا خطرناک سادہ کاری ہوگی۔
اس تمام صورتحال میں آبنائے ہرمز کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ یہ محض پانی کی ایک گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کے نظام کی شہ رگ ہے۔ وہاں ایک آئل ٹینکر پر حملہ، کسی بحری جہاز کی تباہی یا آمدورفت میں معمولی رکاوٹ بھی عالمی منڈی میں فوری بے یقینی پیدا کرسکتی ہے۔ دو تیل بردار جہازوں پر حملوں اور ایک مزید ٹینکر کی تباہی کے دعوؤں نے اس خدشے کو مزید گہرا کیا ہے کہ جنگ کا دائرہ اگر سمندری تجارت تک پھیل گیا تو اس کے اثرات صرف ایران، امریکا یا خلیجی ریاستوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ ایشیا، یورپ اور افریقہ کی معیشتیں، جن کا انحصار عالمی توانائی کی رسد پر ہے، براہِ راست متاثر ہوں گی۔
ایرانی فورسز کی جانب سے قشم کے جزیرے کے اوپر ایک دشمن ڈرون مار گرانے کا دعویٰ بھی ظاہر کرتا ہے کہ فضائی اور بحری محاذ مسلسل فعال ہیں۔ ایسے واقعات میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ کسی ایک فریق کا محدود عسکری اقدام دوسرے فریق کے لیے بڑے حملے کا جواز بن جائے۔ جنگوں کی تباہی اکثر منصوبہ بندی سے زیادہ غلط اندازوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اسی لیے موجودہ مرحلے میں عسکری قوت سے زیادہ بحران کے انتظام کی صلاحیت اہم ہے۔
یمن کی صورت حال نے اس پیچیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ سعودی طیاروں کی حوثیوں کے خلاف بمباری، یمنی سرکاری فورسز کی کارروائیاں، جھڑپوں کے بعد بعض علاقوں کا کنٹرول تبدیل ہونا اور ہلاکتوں کی اطلاعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ علاقائی کشمکش اب کئی متوازی محاذوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ ایک محاذ پر ایران اور امریکا کا تنازع ہے، دوسرے پر سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی، جب کہ تیسری سطح پر سمندری راستوں کی سلامتی اور عالمی توانائی کی ترسیل کا سوال موجود ہے۔ ان تمام محاذوں کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ایک ہی علاقائی بحران کی مختلف شکلیں سمجھنا ہوگا۔
یہاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا حوثیوں کی خلیجی ریاستوں کے خلاف کارروائیوں سے لاتعلقی کا اظہار اور جنگ کے تسلسل کے بجائے سیاسی رابطوں اور بات چیت کی تجویز خاص اہمیت رکھتی ہے۔ سفارتی اعتبار سے یہ بیان اس امکان کو زندہ رکھتا ہے کہ خطے کے تمام فریق مکمل جنگ کے بجائے کسی نہ کسی سطح پر سیاسی راستہ تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، اگر تہران واقعی سیاسی رابطوں کو ترجیح دیتا ہے تو اس موقع کو ضایع نہیں ہونا چاہیے۔
اسی طرح خلیجی ریاستوں، امریکا اور یمن کے مختلف فریقوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے ایسے راستے کھلے رکھیں جو جنگ کے پھیلاؤ کو روک سکیں۔کیمپ ڈیوڈ میں امریکی اعلیٰ حکام کا ایران اور یمن سے متعلق آیندہ اقدامات پر خفیہ اجلاس اس امر کی علامت ہے کہ واشنگٹن خود بھی اس بحران کے اگلے مرحلے کے بارے میں گہری تشویش رکھتا ہے۔ کسی بھی جنگ میں فیصلہ کن سوال یہ نہیں ہوتا کہ کس کے پاس زیادہ ہتھیار ہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ فتح کے بعد مطلوبہ سیاسی صورتِ حال کیسے پیدا کی جائے گی، اگر اس سوال کا جواب موجود نہ ہو تو عسکری کامیابی بھی ایک نئے بحران کا نقطہ آغاز بن سکتی ہے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ عالمی تیل کی قیمت میں اضافہ براہِ راست درآمدی بل، بجلی، صنعت، زراعت، نقل و حمل اور عام آدمی کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے، اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو مہنگائی کا دباؤ صرف پٹرول تک محدود نہیں رہتا بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، پیداواری لاگت اور قومی مالیاتی توازن تک پھیل جاتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو علاقائی امن کی سفارتی کوششوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ توانائی کے ممکنہ بحران کے لیے پیشگی اقتصادی منصوبہ بندی بھی کرنا ہوگی۔
اس وقت سب سے دانش مندانہ راستہ یہ ہے کہ جنگ کو کسی فریق کی مکمل فتح اور دوسرے کی مکمل شکست کے تصور سے نکال کر سیاسی مفاہمت کے دائرے میں لایا جائے۔ ایران کے جوہری پروگرام، خلیجی سلامتی، یمن کی سیاسی صورتحال، آبنائے ہرمز کی آزادانہ آمدورفت اور عالمی توانائی کی رسد کو ایک دوسرے سے جدا کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ایک مسئلے کو طاقت سے دبانے کی کوشش دوسرے مسئلے کو بھڑکا سکتی ہے۔ اس لیے ضرورت ایسے جامع سفارتی فریم ورک کی ہے جس میں امریکا، ایران، خلیجی ممالک اور یمن کے متعلقہ فریقوں کو اپنی سلامتی کے بنیادی خدشات بیان کرنے اور قابلِ عمل ضمانتیں حاصل کرنے کا موقع ملے۔
دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں چند میزائلوں کی قیمت اربوں ڈالر اور ایک غلط فیصلہ کروڑوں انسانوں کی معاشی مشکلات میں تبدیل ہوسکتا ہے، اگر واشنگٹن واقعی جنگ کے جلد خاتمے کا خواہاں ہے تو اسے سفارتی دروازہ زیادہ وسیع کرنا ہوگا، تہران کو بھی سخت بیانیے سے آگے بڑھ کر قابل اعتماد مذاکراتی راستہ اختیار کرنا ہوگا اور خلیجی ریاستوں کو بھی علاقائی کشیدگی کے مستقل خاتمے کے لیے سیاسی حل کو ترجیح دینا ہوگی۔ آبنائے ہرمز کی سلامتی صرف جہازوں کی حفاظت نہیں، عالمی معیشت کے تسلسل کی ضمانت ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ طاقت کے شور پر سفارت کاری کی آواز غالب آئے، کیونکہ جنگ کا اختتام محض بمباری رک جانے کا نام نہیں، حقیقی اختتام وہ ہوگا جب تنازع دوبارہ جنم لینے کی گنجائش بھی کھو دے۔