جاپان میں امریکی فوجی گرفتار، 39 سالہ خاتون کے قتل اور ڈکیتی کا الزام
جاپان کے جنوبی جزیرے اوکیناوا میں تعینات ایک 20 سالہ امریکی میرین کو ایک جاپانی خاتون کے قتل اور ڈکیتی کے شبہے میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
جاپانی پولیس کے مطابق لانس کارپورل ڈیون جیکب بالارڈ پر 39 سالہ انا یاگی کو ناہا شہر کے ایک ہوٹل میں قتل کرنے اور اس کا بٹوا اور بیگ لے جانے کا شبہ ہے۔ بالارڈ نے الزامات سے انکار کیا ہے۔
جاپانی میڈیا کے مطابق پولیس کو ہوٹل کے قریب کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے ایک غیر ملکی شخص کے بارے میں معلومات ملیں، جو ایک خاتون کے ساتھ ہوٹل میں داخل ہوا اور بعد میں اس کے سامان کے ساتھ باہر نکلتا دکھائی دیا۔ پولیس نے فوٹیج میں موجود شخص کی مشتبہ فوجی سے مماثلت کے بعد اسے حراست میں لیا۔
مقتولہ کی لاش ہفتے کے روز ناہا کے ہوٹل سے ملی تھی۔ پولیس واقعے کو قتل اور ڈکیتی کے طور پر دیکھ رہی ہے، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔ امریکی میرین کور نے تصدیق کی ہے کہ مشتبہ فوجی جاپانی حکام کی تحویل میں ہے اور ادارہ تحقیقات میں مکمل تعاون کررہا ہے۔
واقعے پر جاپان نے امریکا سے سخت احتجاج بھی کیا ہے۔ وزیراعظم سانائے تاکائچی نے واقعے کو انتہائی سنگین اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے امریکی حکام سے تحقیقات میں مکمل تعاون، امریکی فوجی اہلکاروں میں سخت نظم و ضبط اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ جاپان کے وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے بھی واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
امریکی سفیر جارج گلاس نے مقتولہ کے خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا جاپانی حکومت اور مقامی حکام کے ساتھ تحقیقات میں تعاون کررہا ہے۔ امریکی میرین کور نے بھی کہا ہے کہ الزامات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جارہا ہے اور ہر میرین سے اعلیٰ معیار کے رویے کی توقع کی جاتی ہے۔
اوکیناوا میں امریکی فوجی موجودگی ایک عرصے سے مقامی سطح پر حساس معاملہ رہی ہے۔ جاپان میں تقریباً 54 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، جن میں بڑی تعداد اوکیناوا میں موجود ہے۔ امریکی اہلکاروں سے متعلق ماضی کے جرائم اور حادثات پر بھی جزیرے میں احتجاج ہوتے رہے ہیں، جس کے باعث تازہ واقعے نے ایک بار پھر امریکی فوجی موجودگی سے متعلق مقامی خدشات کو نمایاں کردیا ہے۔