حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، یمنی فورسز کا 1122 کارروائیوں اور 1747 ہلاکتوں کا دعویٰ

یمنی ترجمان کے مطابق حملوں میں جنگی طیاروں، ڈرونز، میزائلوں، راکٹوں، توپ خانے اور اسنائپرز کا استعمال کیا گیا

یمن میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے دوران حکومت کی حمایت کرنے والی یمنی فورسز نے حوثی ٹھکانوں پر 1,122 حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

یمنی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ماجد عبداللہ النزیلی کے مطابق یہ کارروائیاں صعدہ، الجوف، تعز اور ساحلی علاقوں سمیت مختلف محاذوں پر کی گئیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

یمنی ترجمان کے مطابق حملوں میں جنگی طیاروں، ڈرونز، میزائلوں، راکٹوں، توپ خانے اور اسنائپرز کا استعمال کیا گیا۔ ان کارروائیوں میں حوثیوں کے توپ خانے کے ٹھکانوں، راکٹ لانچرز، دفاعی تنصیبات، رسد کے راستوں، فوجی کمک اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

النزیلی نے کہا کہ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً 1,747 حوثی جنگجوؤں کو ہلاک یا ’’غیر مؤثر‘‘ کیا گیا، جبکہ 364 فوجی گاڑیوں، سازوسامان اور رسد کی نقل و حمل کے ذرائع کو تباہ یا ناکارہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ اعداد یمنی فوج کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں اور آزاد ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہوئی۔

یہ دعوے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کیلئے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کیا ہے۔ صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا ہے کہ کارروائی کا مقصد ملک کے تمام علاقوں میں ریاستی اختیار اور اداروں کی عمل داری بحال کرنا ہے۔

حالیہ دنوں میں تعز کے اطراف لڑائی میں بھی شدت آئی ہے۔ حوثی فورسز کی پیش قدمی سے تعز اور عدن کے درمیان اہم زمینی راستوں کو خطرہ پیدا ہوا ہے، جبکہ یمنی حکومت کی افواج حوثیوں کی پیش قدمی روکنے اور ان کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔

یمن میں جاری نئی کشیدگی نے ملک کی طویل خانہ جنگی کو ایک بار پھر شدت دے دی ہے۔ سعودی عرب یمنی حکومت کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ حوثی تحریک ملک کے دارالحکومت صنعا اور شمال مغربی علاقوں کے بڑے حصے پر قابض ہے۔ تازہ فوجی کارروائی کے نتائج اور دونوں جانب ہونے والے نقصانات کے بارے میں آزادانہ معلومات محدود ہیں، اس لیے فریقین کے جنگی دعووں کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

Load Next Story