مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور امن آمنے سامنے
فوٹو: پریس ٹی وی
دنیا میں کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جن کی اہمیت کا اندازہ نقشے پر انھیں دیکھ کر نہیں بلکہ ان کے رک جانے سے ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی ایک راستہ ہے۔ چند میل چوڑی یہ سمندری گزرگاہ بظاہر ایک جغرافیائی مقام ہے، مگر حقیقت میں عالمی معیشت کی ایک اہم شہ رگ ہے۔
یہاں سے گزرنے والا تیل اور گیس صرف چند ملکوں کی ضرورت پوری نہیں کرتے بلکہ دنیا کے کارخانوں، بجلی گھروں، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ زندگی کے بے شمار پہیوں کو حرکت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی کا اثر خلیج سے نکل کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ آج ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات، آبنائے ہرمز کی بندش و بحالی، اسرائیل میں امریکی فوجی تیاریوں، بحیرہ احمر میں حملوں اور خطے سے تیل کی مسلسل برآمدات نے ایک ایسا منظرنامہ پیدا کردیا ہے جس میں جنگ کا خطرہ بھی موجود ہے اور سفارت کاری کی امید بھی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا حالیہ بیان اسی پیچیدہ صورت حال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے ایک ثالث کے ذریعے ایران تک کچھ تجاویز پہنچائی ہیں، لیکن تہران یکطرفہ شرائط قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وقت ضایع کرنے اور اپنی شرائط دوسرے فریق پر مسلط کرنے کا زمانہ گزر چکا ہے۔ بظاہر یہ ایک سخت سیاسی بیان ہے، مگر اس کے اندر موجود اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان اختلاف صرف شرائط کا نہیں، بلکہ اس بات کا بھی ہے کہ ان شرائط پر عمل پہلے کون کرے گا۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں بڑے بڑے سفارتی عمل رک جاتے ہیں۔ ہر فریق چاہتا ہے کہ دوسرا پہلے قدم اٹھائے تاکہ اسے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کا تاثر نہ دینا پڑے۔ ایران نے سات روزہ اعتماد سازی کا منصوبہ پیش کیا ہے اور آبنائے ہرمز کی معمول کی آمدورفت بحال کرنے کو اس منصوبے کی شرائط سے جوڑا ہے۔ دوسری طرف واشنگٹن اپنی ترجیحات کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے، اگر دونوں جانب یہ سوچ غالب رہی کہ پہل صرف دوسرا فریق کرے تو مذاکرات ایک طویل تعطل میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔یہاں قطر کا کردار خاصا اہم ہوجاتا ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست اعتماد کی کمی کے باعث قطر دونوں کے درمیان پیغامات پہنچانے کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ سفارت کاری میں ثالث کی کامیابی ہمیشہ کسی فوری معاہدے سے نہیں ناپی جاتی۔ بعض اوقات سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ رابطہ ٹوٹنے نہ دیا جائے، اگر قطر دونوں فریقوں کو ایسی قابلِ عمل ترتیب پر آمادہ کرسکے جس میں دونوں کو بیک وقت کچھ نہ کچھ قدم اٹھانا پڑے تو موجودہ تعطل ٹوٹ سکتا ہے۔
اس پورے معاملے میں پاکستان کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو ایران نے آبنائے ہرمز کی بحالی سے جوڑ دیا ہے اور اس کے تحت طے شدہ سات شرائط پر عمل درآمد کو بنیادی اہمیت دی جارہی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ محض سفارتی اعزاز نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ذمے داری ہے، اگر اس مفاہمتی عمل نے ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت کا ایک راستہ پیدا کیا ہے تو اسلام آباد کو اسے محض ایک وقتی سفارتی پیش رفت سمجھنے کے بجائے مسلسل اور محتاط کوشش کے ذریعے آگے بڑھانا چاہیے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ صرف سیاسی بیانات سے نہیں بلکہ تیل کی ترسیل کے اعداد و شمار سے بھی ہوتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر حالیہ کشیدگی کے باوجود خطے سے خام تیل کی برآمدات مکمل طور پر نہیں رکیں۔ کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے آخری ہفتے میں سات میں سے چار دن خام تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی اوسط سطح سے بھی زیادہ رہیں۔ بعض دنوں میں یہ مقدار 19.5 سے 22.5 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی، جبکہ جنگ سے پہلے ایک سال کے دوران اوسط برآمدات تقریباً 18 ملین بیرل یومیہ تھیں۔ یکم اکتوبر کو سات روزہ اوسط 18.5 ملین بیرل یومیہ رہی۔
یہ اعداد و شمار ایک اہم حقیقت سامنے لاتے ہیں۔ عالمی توانائی کا نظام ابھی تک مکمل طور پر مفلوج نہیں ہوا۔ جہازوں کی نقل و حرکت، مختلف بندرگاہوں کے استعمال، متبادل انتظامات اور خلیج عمان میں ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل منتقل کرنے جیسے طریقوں سے سپلائی جاری رکھی گئی ہے، لیکن اس صورت حال کو مستقل تحفظ کی علامت سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔
تیل کی ترسیل جاری رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ خطرہ ختم ہوگیا ہے۔اگر آبنائے ہرمز میں حملوں کا سلسلہ بڑھتا ہے تو مسئلہ صرف تیل کی مقدار کا نہیں رہے گا۔ جہازوں کے بیمے مہنگے ہوں گے، بحری سفر کے خطرات بڑھیں گے، جہاز رانی کی لاگت میں اضافہ ہوگا اور بالآخر اس کا بوجھ دنیا کے عام صارف تک پہنچے گا۔ آج اگر برآمدات معمول کے قریب ہیں تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ عالمی تجارت نے بحران سے نمٹنے کے لیے راستے نکال لیے ہیں، یہ ضمانت نہیں کہ کسی بڑے تصادم کی صورت میں یہی نظام برقرار رہے گا۔
تشویش کی بات یہ ہے کہ سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ عسکری تیاریاں بھی بڑھ رہی ہیں۔ اسرائیل میں پہلے ہی تقریباً تین ہزار امریکی فوجیوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں اور مزید فوج اور طیاروں کی تعیناتی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ فضائی دفاع، لاجسٹکس اور معاون فوجی عملے کی موجودگی بتاتی ہے کہ امریکا خطے میں کسی ممکنہ بگاڑ کے لیے خود کو تیار رکھنا چاہتا ہے۔
بلاشبہ ہر فوجی تیاری کو جنگ کی پیش بندی قرار دینا درست نہیں، لیکن ایسے ماحول میں عسکری طاقت کا بڑھتا ہوا ارتکاز مخالف فریق کے خدشات ضرور بڑھاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورت حال میں سب سے زیادہ ضرورت احتیاط کی ہے۔
ایک طرف مذاکرات جاری ہوں اور دوسری طرف فوجی تیاریوں میں اضافہ ہوتا رہے تو معمولی غلط فہمی بھی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جنگیں ہمیشہ منصوبہ بندی کے مطابق شروع نہیں ہوتیں، کبھی ایک غلط اندازہ، ایک غلط اطلاع یا ایک محدود حملہ حالات کو ایسے مقام تک لے جاتا ہے جہاں واپسی مشکل ہوجاتی ہے۔یمن کی صورت حال اس خطرے کو مزید واضح کرتی ہے۔ تعز اور اس کے گرد و نواح میں لڑائی، اہم سپلائی لائن کا منقطع ہونا اور حوثیوں کے خلاف نئے فوجی آپریشن کا اعلان بتاتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران کسی ایک محاذ تک محدود نہیں رہا۔
سعودی عرب کی آرامکو تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کے حوثی دعوے اور سعودی زیرقیادت اتحاد کی تردید بھی اس بحران کی ایک اور حقیقت سامنے لاتی ہے۔ آج کی جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جا رہی، اطلاعات کے میدان میں بھی جاری ہے۔ دعوے، تردیدیں اور غیر مصدقہ اطلاعات عوامی رائے اور عالمی منڈیوں دونوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اس لیے ایسے وقت میں ذمے دارانہ صحافت اور مستند معلومات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
اس لیے دونوں فریقوں کو بڑے فیصلوں کے بجائے چھوٹے، قابلِ تصدیق اور مرحلہ وار اقدامات سے آغاز کرنا چاہیے، اگر ایران ایک قدم اٹھائے تو امریکا بھی اسی وقت ایک عملی قدم اٹھائے۔ اس طرح اعتماد باتوں سے نہیں بلکہ عمل سے پیدا ہوگا۔ کسی بھی مذاکرات میں یہی سب سے مضبوط بنیاد ہوتی ہے۔پاکستان کو بھی اپنی سفارتی کوششیں اسی اصول کے تحت آگے بڑھانی چاہئیں۔
اسلام آباد کی میزبانی میں ہونے والی مفاہمت کو کسی ایک ملک کے حق یا مخالفت کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ پاکستان اگر ایران، خلیجی ممالک اور امریکا کے درمیان رابطے کا ایک قابلِ اعتماد ذریعہ بن سکتا ہے تو یہ اس کی سفارتی اہمیت میں اضافہ کرے گا۔ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک راستہ مزید جنگ کی طرف جاتا ہے اور دوسرا مذاکرات کی طرف۔ تیل کی ترسیل کے موجودہ اعداد و شمار شاید وقتی طور پر اطمینان دیں، مگر سمندری راستوں پر حملے، فوجی تعیناتیاں اور زمینی لڑائیاں بتا رہی ہیں کہ خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ دنیا کو ایسے بحران کی ضرورت نہیں جس میں مذاکرات کی میز پر الفاظ اور سمندر میں میزائل ایک ساتھ حرکت کررہے ہوں۔
آبنائے ہرمز کو عالمی طاقتوں کے باہمی دباؤ کا میدان بنانے کے بجائے اسے محفوظ عالمی تجارتی راستہ بنانا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے طاقت سے زیادہ تدبر، دھمکی سے زیادہ اعتماد اور یکطرفہ مطالبات سے زیادہ باہمی ضمانتوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والا مفاہمتی عمل اس سمت میں ایک اہم موقع ہے، اگر فریقین نے اس موقع کو انا کی جنگ بنانے کے بجائے امن کی بنیاد بنانے کی کوشش کی تو شاید آج کی کشیدگی کل کی بڑی تباہی کا پیش خیمہ بننے کے بجائے ایک نئے سفارتی باب کا آغاز ثابت ہو۔