اونٹ ، مالک اور خیمہ
barq@email.com
آج ہم آپ سے ایک ’’اونٹ‘‘ کی بات کرنا چاہتے ہیں پہلے اس اونٹ کا نام خداداد ہوا کرتا تھا جب یہ پیدا ہوا تو یہی نام رکھا گیا تھا لیکن بعد میں اس کے مالکوں کو خیال آیا کیونکہ اس کے مالکوں کو جب بھی خیال آتا ہے ’’بعد‘‘ میں آتا ہے،یعنی’’کرتے‘‘ پہلے ہیں اور ’’سوچتے‘‘ بعد میں ہیں۔ خیال یہ تھا کہ جب ’’خدا‘‘ کے حکم کے مطابق کوئی کام اس ملک میں ہے ہی نہیں تو پھر اونٹ کا نام خداداد کیوں؟ چنانچہ اس کا نام ’’اللہ داد‘‘ رکھا گیا اور تبدیلی نام کے اشتہار میں کہا گیا کہ آج سے اونٹ کا نام بھی خداداد کی جگہ اللہ داد ہوگا اور جہاں جہاں پہلے’’خدا‘‘ کا نام لیا جاتا تھا وہاں اللہ داد کہا اور لکھا جائے اور کاغذات میں بھی درستگی کی جائے۔
اب خدا حافظ کی جگہ اللہ حافظ۔خدا خیر کرنے کی جگہ اللہ خیر کرے۔خدا جزائے خیر دے کی جگہ اللہ جزائے خیر دے۔ خدا بخشے کی جگہ اللہ بخشے کہا جائے گا۔اور صرف اشتہار کو کافی نہ سمجھ کر ریڈیو، ٹی وی چینلوں کے پروگراموں میں، دینی اداکاروں اور اداکاراؤں کو ہدایت کی گئی کہ دینی اداکاری میں اور خاص طور پر رمضان کے مہینے میں جب ٹاپ کلاس دینی اداکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں اس میں سابق لفظ خدا کی جگہ اللہ کا نام لیا جائے۔یہ تو معلوم نہیں ہوسکا کہ اب انجام کیا ہوگا۔
ہم اپنے اونٹ کی بات کرتے ہیں ، اس کی کوئی ’’کل‘‘ سیدھی نہیں ہے۔ محققین لگ بھگ نصف صدی سے کوشش کررہے ہیں کہ اس کے اندر کوئی سیدھی کل دریافت کریں لیکن کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ دراصل اس کے اندر ٹیڑھا پن اور ساتھ ہی میڑھا پن اتنا زیادہ سرایت کرچکا ہے جو سیدھی کلیں تھیں وہ بھی ٹیڑھی ہوگئی ہیں بلکہ جو سرجن اور ماہرین آتے ہیں وہ بھی خود ٹیڑھے ہوجاتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں اس سے بیچارے کی کوئی نہ کوئی اور کل ٹیڑھی ہوجاتی ہے جو آس پاس کی اور کلوں کو بھی ٹیڑھا کردیتی ہیں ؎
مریض ٹیڑھے پر رحمت خدا کی
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
یوں مختلف ڈاکٹروں، سرجنوں، جراحوں اور حجاموں نے اسی ٹیڑھے پن کو مزید ٹیڑھا اور ساتھ ہی میڑھا بھی کردیا چنانچہ اب یہ اتنا ٹیڑھا میڑھا ہوگیا ہے کہ خود بھی اپنے ٹیڑھے پن سے نہیں شرماتا ہے آئینہ کوئی دکھائے تو خفا ہوجاتا ہے اور کوئی اسے ٹیڑھا میڑھا کہے تو اور زیادہ ٹیڑھا ہوکر کہتا ہے کہ۔ہاں ہاں ٹیڑھا ہوں اور اس ٹیڑھے پن پر مجھے فخر ہے،کوئی مجھ سا ٹیڑھا میڑھا ہو کر زندہ رہ کر دکھائے۔
مجھ سا کوئی ہو تو سامنے آئے۔کہتے ہیں پیدائشی طور پر یہ اونٹ نہیں تھا بلکہ لومڑی تھا اور اس کا سب کچھ سر سے لے کر دُم تک سیدھا تھا۔لیکن شاہی لوگ آگئے اور انھوں نے اونٹ کا بچہ سمجھ کر پکڑلیا۔سرکاری قانون نافذ کرنے والے چونکہ بہت زیادہ سادہ لوح اور معصوم ہوتے ہیں اس لیے اکثر ان سے ایسی چھوٹی چھوٹی غلطیاں ہو جاتی ہیں اکثر بے گناہوں کو غلطی سے پکڑ کر پھانسی چڑھا دیتے ہیں اور جب غلطی کا احساس ہوتا ہے تو کفارے کے طور پر سزا ’’گناہگار‘‘ کو دے دیتے ہیں جو بے گناہ کو دینی چاہیئے۔
اس لومڑی کو بھی اونٹ کا بچہ سمجھ کر پکڑ کر لے گئے تو بعد میں اپنی غلطی کو اونٹ کا ’’بچہ‘‘ بنا چکے تھے۔اب اسے دوبارہ لومڑی بنانا تو ممکن نہیں تھا کیونکہ یہ ادارے اور اس کے ماہرین ’’سیدھی کلوں‘‘ کو ٹیڑھا تو کرسکتے ہیں اور کرتے رہتے ہیں لیکن ’’ ٹیڑھوں ‘‘کو سیدھا نہیں کرسکتے تب سے اب تک اس اونٹ کا یہی مسئلہ ہے کہ ٹیڑھی کلوں کے ساتھ جینا تو اس نے سیکھ لیا ہے اور جی رہا ہے۔لیکن بیٹھنے کا مسئلہ پیدا ہوگیا کسی کو بلکہ خود اس کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ میں کس کروٹ بیٹھوں بیچارا دائیں کروٹ بیٹھنا چاہتا ہے تو بائیں کروٹ بیٹھ جاتا ہے اور بائیں بیٹھنا چاہتا ہے تو دائیں لڑھک جاتا ہے۔ بے شمار ماہرین آئے باہر سے بھی بڑے بڑے سرجن بلائے گئے لیکن نہ تو اس کی کوئی کل سیدھی کر پائے اور نہ کسی کروٹ بٹھا پائے۔ولولہ انگیز قیادت فخرایشیا۔کمانڈ،قرض اتارو ملک سنوارو چاروں صوبوں کی زنجیر۔سب بھاری بھاری۔بانی مبانی یہاں تک تعویز گنڈے بھی کیے گئے لیکن سب بے سود ؎
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دعا نے کام کیا
دیکھا ’’ان بیماریوں‘‘ نے اونٹ کا کیا انجام کیا
ہاں انجام کے بارے میں تو ہم نے آپ کو بتایا ہی نہیں۔آخری بریکنگ نیوز(سننے والوں کو توڑنے موڑنے والی)یہ ہے۔کہ اونٹ نے مالک کو خیمے سے نکال کر باہر پھینک دیا۔اونٹ اور مالک پر کسی صحرا میں رات آگئی تھی، بڑی سخت سردی تھی۔مالک نے خیمہ گاڑا ہوا تھا۔اور اونٹ باہر تھا رات کو سردی زیادہ بڑھ گئی تو مالک نے ترس کھاکر اونٹ کی گردن کو خیمے کے اندر کرلیا۔پورا اونٹ تو خیمے میں آنہیں سکتا تھا اس نے سوچا اگر صرف گردن تک بھی خیمے میں ہو تو بیچارے کو تھوڑا آرام ہوجائے گا۔ یہ انتظام کرکے مالک خیمے کے اندر سوگیا۔رات کو شدید سردی محسوس ہوئی تو جاگ پڑا۔دیکھا تو خیمے سے باہر کھلے آسمان تلے پڑا ہوا ہے اور اونٹ پورے کا پورا خیمے کے اندر لیٹا جگالی کررہا ہے،اور سنا ہے کہ آخری خبریں آنے تک۔اونٹ اندر اور مالک باہر اورا ونٹ اندر تھا، ہے اور رہے گا اور مالک؟…