بھارت نسل کش اسرائیلیوں کو سکون بیچتا ہے

فلم میں ایک خاتون اسرائیلی فوجی کی اس وقت کے ڈپٹی وزیرِ اعظم ایلی یشیائی سے بات چیت بھی دکھائی گئی ہے

دو ہزار سات میں اسرائیلی ڈائریکٹر یووال شمیر نے بھارت یاترا کرنے والے اسرائیلی سیاحوں میں منشیات کے بڑھتے استعمال کے موضوع پر ’’ فلپنگ آؤٹ ‘‘ نامی دستاویزی فلم بنائی۔اس میں بتایا گیا کہ لازمی فوجی خدمات انجام دینے والے اسرائیلی سیاح جب اپنا ’’ ڈسچارج آف ڈیوٹی بونس ‘‘ وصول کر کے بھارت کا رخ کرتے ہیں تو مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے ’’ ٹور آف ڈیوٹی ‘‘ کی تلخیاں بھولنے کے لیے نوے فیصد فوجی سیاح منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔ ان میں سے سینکڑوں ایسے ہوتے ہیں جنھیں منشیاتی علت سے چھٹکارا پانے کے لیے گھر واپسی پر نفسیاتی تھراپی لینا پڑتی ہے۔

فلم میں ایک خاتون اسرائیلی فوجی کی اس وقت کے ڈپٹی وزیرِ اعظم ایلی یشیائی سے بات چیت بھی دکھائی گئی ہے۔وہ بتا رہی ہے کہ دو بار بھارت اس لیے گئی تاکہ خود کو گولیوں اور بموں کی آوازوں سے دور رکھ کے خود کو ایک نارمل انسان محسوس کروا سکے اور چند دن پرسکون فضا میں سکھ کا سانس لے سکے۔

یہ نفسیاتی مسئلہ غزہ میں نسل کشی کے تازہ خونی باب نے اور سنگین بنا دیا ہے۔

غزہ کی چھ سالہ ہند رجب کی اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں شہادت کے بعد تشکیل پانے والی ہند رجب فاؤنڈیشن کا بنیادی کام یہ ہے کہ ان تمام اسرائیلیوں کا تعاقب کرے جو غزہ میں جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے۔برسلز میں قائم ہند رجب فاؤنڈیشن کے رضاکار غزہ میں ’’ مشن ’’ مکمل کر کے ضمیر کی ملامت سے بچنے اور محاذ جنگ کی ’’ تھکن ‘‘ اتارنے کے لیے بیرونِ ملک سیرسپاٹے کے لیے جانے والے اسرائیلی فوجیوں پر نظر رکھتے ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے میزبان ممالک پر ثبوتوں کی مدد سے اخلاقی دباؤ ڈالتے ہیں۔

حال ہی میں فاؤنڈیشن نے دو اسرائیلی فوجی سیاحوں کا بھارت میں سراغ لگا کے ان کے جرائم کی فہرست حکومتِ بھارت کو فراہم کی۔اس کے بعد دونوں فوجی سیاح کسی ممکنہ کارروائی کے ڈر سے بھارت سے خاموشی سے نکل گئے۔ان میں سے ایک کی شناخت بطور ایتان گیلبوا ہوئی جو غزہ میں عمارتیں منہدم کرنے والی انجنیرنگ بٹالین سے منسلک رہ چکا ہے اور بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں تعطیلات منا رہا تھا۔

دوسرا اسرائیلی فوجی کہ جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا راجھستان کے ایک متبرک مقام پشکر میں چند ایکٹوسٹ لوگوں کے گھیرے میں آ گیا جنہوں نے اس پر فلسطین کے بارے میں سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔اسے پولیس نے اپنی حفاظت میں لے کر پشکر سے رخصت کیا اور سوال و جواب کرنے والے افراد کے خلاف ہراسانی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

ہند رجب فاؤنڈیشن بطور ثبوت ایسے تمام سیاح فوجیوں کی سوشل میڈیا پوسٹس ، وڈیوز اور چین آف کمانڈ سے متعلق دستاویزی ثبوت جمع کر کے میزبان ممالک کے حکام کو کارروائی کے لیے بھیجتی ہے۔

اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ کو ہند رجب فاؤنڈیشن کی حقائق جو مہم اور جنگی مجرموں کے تعاقب سے شدید الرجی ہے۔حالانکہ یہ فاؤنڈیشن لگ بھگ وہی کام کر رہی ہے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمن نازی قاتلوں کی تلاش اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے آسٹریا کے ایک معروف یہودی سائمن ویزنتھال نے وی آنا میں ’’ ڈاکومینٹیشن سینٹر آف دی جیوش وکٹمز آف دی نازی رجیم ‘‘ بنایا تھا۔اس مرکز نے دنیا بھر میں یہودیوں کی نسل کشی میں ملوث نازی فوجیوں اور عہدیداروں کا تعاقب کیا اور بہت سوں کو گرفتار کروا کے سزائیں بھی دلوائیں۔

کہا جاتا ہے سالانہ اسی ہزار تک اسرائیلی سیاح لازمی فوجی خدمات انجام دینے کے بعد بھارت میں چھٹیاں گذارتے ہیں۔ہماچل پردیش ان سیاحوں میں پرسکون پہاڑی مناظر کے سبب ٹریکنگ کے لیے بہت مقبول ہے۔یہ سیاح دھرم کوٹ ، میکلوڈ گنج ، کسول ، توش ، اولڈ منالی روٹ پر ٹریکنگ کرتے ہیں۔مقامی لوگوں نے اس ٹریک کا نام ہی حمس ٹریل رکھ دیا ہے۔یہاں دوکانوں پر عبرانی زبان میں بورڈ بھی لگے ہیں اور کئی دوکاندار ٹوٹی پھوٹی عبرانی بھی بول لیتے ہیں۔اس ٹریل کے گیسٹ ہاوسز اور چھوٹے چھوٹے پہاڑی ہوٹلوں میں میوزک ، چرس ، گانجا وغیرہ باآسانی دستیاب ہے۔

مغربی ، شمالی اور جنوبی بھارت میں گوا ، ہمپی ، گورکانا ، کوڈائی کنال ، رشی کیش ، بنارس اور بشکر ان کے پسندیدہ مقامات ہیں۔

یوگا کلاسیں بھی قتل و غارت کی یادیں عارضی طور پر بھلانے میں ان اسرائیلیوں کی مدد کرتی ہیں۔ بڑی تعداد کے پیشِ نظر ان کے پسندیدہ کوشر کھانے بھی تیار کیے جاتے ہیں۔کئی سیاح تو مہینوں ان علاقوں میں قیام کرتے ہیں۔کچھ ہوٹل اور ریسٹورنٹس مقامی باشندوں کی حوصلہ شکنی بھی کرتے ہیں تاکہ اسرائیلیوں کو زیادہ محفوظ قیام و طعام کی جگہ مل سکے۔

 اسرائیلی جنگی مجرموں میں بھارت اس لیے بھی حالیہ برسوں میں زیادہ مقبول ہے کہ یورپ اور جنوبی امریکا کے جانے پہچانے سیاحتی مقامات پر لوگ انھیں پہچان کر آوازے کستے ہیں ، وڈیوز بناتے ہیں اور کئی ریسٹورنٹس انھیں مقامی ردِ عمل سے بچنے کے لیے ناپسندیدہ کسٹمر بھی سمجھتے ہیں۔مگر بھارت کے پہاڑی و ساحلی و صحرائی علاقوں میں ان سے سوال و جواب کرنے والے یا پیچھے لگنے والے بہت کم ہیں۔

ویسے بھی مودی حکومت اسرائیل کے لیے مجموعی طور پر نرم گوشہ رکھتی ہے اور بھارتی میڈیا میں بھی اسرائیلی جنگی جرائم پر بہت زیادہ بات نہیں ہوتی لہذا عام لوگ بھی سیاحوں کے بھیس میں گھومنے والے جنگی مجرموں اور روائیتی گورے سیاحوں میں تمیز نہیں کر پاتے۔جبکہ بڑے شہروں میں اگر فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے چار لوگ بھی جمع ہو جائیں تو انھیں پولیس کی طاقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ سیاحتی ٹریفک یکطرفہ نہیں۔کوویڈ کی وبا اور پھر غزہ کی نسل کشی سے قبل اسرائیل ایک مقبول سیاحتی مرکز تھا۔دو ہزار انیس میں پینتالیس لاکھ غیر ملکی یہاں آئے اور اسرائیلی محکمہ سیاحت کو لگ بھگ ساڑھے آٹھ ارب ڈالر کی آمدنی ہوئی۔سب سے زیادہ سیاح امریکا ، برطانیہ اور فرانس سے اسرائیل کا رخ کرتے ہیں جبکہ ایشیا میں بھارت سرِ فہرست ہے۔وہاں سے دو ہزار انیس میں ستر ہزار سیاح اسرائیل پہنچے۔

غزہ کے بحران کے سبب اسرائیلی سیاحتی صنعت کو بھی دھچکا لگا اور سیاحوں کی آمد میں اکتوبر دو ہزار تئیس سے اب تک ساٹھ فیصد کی کمی ہوئی ۔تاہم اسرائیل کو امید ہے کہ اگلے برس بھارت سے پچاس ہزار سیاح ادھر کا رخ کریں گے۔

اسرائیلی وزارتِ سیاحت کا ایک پبلسٹی مرکز نئی دلی میں بھی قائم ہے۔یہ مرکز نہ صرف بھارت آنے والے اسرائیلی سیاحوں کی رہنمائی کرتا ہے بلکہ بھارتیوں کو بھی یروشلم و بیت اللحم (مقبوضہ) کے تاریخی مقامات اور تل ابیب و حیفہ کا نیلگوں ساحل بیچتا ہے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

Load Next Story