میر رضا کیس: سینئر پولیس افسران نے جوڈیشل کمیشن کے سوالات کے جواب جمع کرا دیے

ایڈووکیٹ جبران ناصر نے سوال  کیا کہ کیا پولیس آپ کے گھر آئی تھی

میر رضا کیس میں قائم جوڈیشل کمیشن میں ایڈیشنل آئی جی کراچی سمیت 2 ڈی آئی جیز کو بھیجے گئے سوالنامے کے جوابات جمع کرادیئے گئے، آج ڈی ایس پی سراج لاشاری اور سی پی ایل سی نمائندے کاشف کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے۔

میر رضا کیس میں قائم جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں کارروائی شروع ہوئی۔ گلستان جوہر کے رہائیشی گواہ محمد ریاض جو طلب کیا گیا۔ ریاض نے بتایا کہ میں وہاں ایک گھر میں چوکیداری کرتا ہوں۔

کمیشن نے پوچھا کہ  جہاں آپ نوکری کرتے ہیں وہ جگہ مسجد خضراء کے قریب ہے؟ ریاض نے کہا کہ میں صبح 8 بجے جاتا ہوں پھر گھر آتا رہتا ہوں۔ 29 کی رات کو 3 بج کر 24 یا 28 منٹ کا وقت کا تھا۔ میں اوپر چھت پر جاکر سگریٹ پی رہا تھا، ایک گاڑی دیکھی آلٹو اور ایک گاڑی ایگزیو دیکھی تھی۔

جب دوسری مرتبہ گاڑی اوپر چڑھانے کی کوشش کررہا تھا۔ کمیشن نے پوچھا کہ کیا آپ نے کسی کی شکل دیکھی تھی، کتنے بندے تھے وہاں پر۔ ریاض نے کہا کہ  ایک بندہ تھا اس نے گالی دے کر کہا کہ تم سے گاڑی اوپر نہیں چڑھ رہی، دونوں گاڑیوں کا کلر سفید تھا۔ کمیشن نے کہا کہ  اس پہلے وہاں پر آپ نے گاڑیاں وہاں دیکھی تھی۔

ریاض نے کہا کہ نہیں میں اس سے پہلے وہاں یہ گاڑیاں نہیں دیکھی تھی ایک مؤثر سائیکل بھی اس دوران گزری تھی۔ کمیشن نے پوچھا کہ  کوئی نشہ وغیرہ کرتے ہیں آپ۔ ریاض نے کہا کہ نہیں میں کوئی نشہ نہیں کرتا ہوں۔

جبران ناصر ایڈووکیٹ نے سوال کیا کہ کیا پولیس آپ کے گھر آئی تھی۔ ریاض نے کہا کہ جی میں سنا تھا لڑکوں سے کہ پولیس آئی تھی پوچھ گچھ کررہی تھی۔ جبران ناصر نے کہا کہ  مشکوک گاڑی کا نمبر ہم نے پولیس کو دیا ہے کسی طارق صاحب کے نام پر تھی۔ 2 سال سے گاڑی کا ٹیکس نہیں بھرا گیا اس گاڑی کا نمبر  بی ایس کے 009 نمبر ہے۔ کمیشن نے صحافیوں بابر سلیم اور صولت جعفری کو پریزینٹیشن کے لئے طلب کرلیا۔

صحافیوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی میں ایسا لگا کہ میر رضا کی ریکی کی جارہی تھے۔ بظاہر میر رضا کی گاڑی کا گلستان جوہر سے پیچھا کیا جارہا تھا۔ گلستان جوہر سے میر رضا کے پیچھے نظر آنے والی گاڑی گیسٹ ہاؤس کے باہر رکی۔

جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کے پیچھے 4:50 پر وہ گاڑی دوبارہ جاتی نظر آتی ہے۔ پولیس کے مطابق گاڑی میں موجود لوگ گیسٹ ہاؤس میں کوئی جھگڑا نمٹانے آئے تھے۔ سی پی ایل سی کے مطابق میر رضا 4:25 تک آئی میسج کے ذریعے رابطے میں تھا۔

صحافی نے کہا کہ پولیس کی جانب سے مبینہ دانستہ طور پر کیس خراب کیا گیا۔ موبائل فون کو کھولنے کی کوشش میں لاک کردیا گیا۔ 28 اور 29 جولائی کو ایک مشکوک آلٹو علاقے میں گھومتی نظر آئی ہے۔

جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ 11 اگست تک پولیس سی سی ٹی وی فوٹیجز نہیں لے سکی تھی لیکن صحافیوں نے حاصل کی۔ صحافی نے کہا کہ میر رضا کے کرپٹو ٹریڈنگ کے آئی دی 2021 میں بنائی۔ مجموعی طور پر ایک سال میں 8 کروڑ کی ٹریڈنگ سامنے آئی۔

میر رضا کی کرپٹو میں خریداری زیادہ ہے اور فروخت کم ہے۔ ایک برس کی ٹریڈنگ کے بعد بھی میر رضا نقصان میں نہیں تھا۔ میر رضا کو ایک برس میں مجموعی طور پر تین کروڑ کا نقصان ہوا تھا۔ جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کے نقصانات کو بنیاد بنا کر خودکشی کے بیانیہ کو فروغ دیا گیا۔

صحافی نے کہا کہ این سی سی آئی اے فیصل آباد نے میر رضا کو فراڈ ٹرانسیکشن کے سلسلے میں طلب کیا تھا۔ جبران ناصر نے کہا کہ فیملی این سی سی آئی اے کے پاس متعدد بار جاچکی ہے۔

این سی سی آئی اے نے کبھی یہ فیملی کو نہیں بتایا۔ کرپٹو ٹریڈنگ کرنے والوں کی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے واقعات شہر میں رونما ہوتے رہے ہیں۔ میر رضا نے آخری 3 ماہ میں 90 لاکھ روپے کرپٹو میں ڈالے۔

کرپٹو پلیٹ فارم کے نمائندے کے مطابق میر رضا کی جانب سے آخری تین ماہ میں کرپٹو ٹریڈنگ میں تیزی آئی۔ ممکن ہے یہ تیزی کسی کے دباؤ کا نتیجہ ہو۔ صحافی نے کہا کہ تحقیقاتی ادارے اپنی غلطیاں تسلیم کرنے سے تاحال انکاری ہیں۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ بڑا آدمی اپنی غلطی تسلیم کرتا ہے۔ تحقیقاتی اداروں کی جانب سے فیملی کو کچھ معلومات فراہم نے کیس خراب نہیں ہوتا۔ جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ 9 ستمبر کو فیملی کو پولیس نے بتایا کہ کرپٹو کا ڈیٹا مل گیا ہے۔ اسی روز کرپٹو اکاؤنٹ کے اسکرین شاٹس میڈیا پر چل رہے تھے۔

پولیس حکام اپنی ٹیم میں میر رضا سے متعلق ڈیٹا لیک کرنے والے کا سراغ نہیں لگا سکے۔ صحافی نے کہا کہ ایسا لگتا ہے میر رضا کو نشان عبرت بنایا گیا۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا تین چار کروڑ روپے کے لئے ایسا کیا جاسکتا ہے؟ صحافی نے کہا کہ ماضی میں بہت سے واقعات ایسے ہوئے ہیں جہاں انا کی خاطر ظلم کیا گیا۔

کمیشن نے کارروائی کل 7 ستمبر تک ملتوی کردی۔ کارروائی کے بعد جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کارروائی کے دوران دو صحافیوں نے بریفنگ دی۔

کمیشن نے بھی سی سی ٹی وی کیمروں میں نظر آنے والی گاڑیوں اور موٹر سائیکل کو مشکوک قرار دیا۔ ایسا لگ رہا تھا گاڑی اور موٹر سائیکل سوار ریکی یا باڈی پھینکے کے لئے استعمال کی گئی۔ پولیس آج تک ان گاڑیوں کا سراغ نہیں لگا سکی۔ گیسٹ ہاؤس کے باہر نظر آنے والی گاڑی سے متعلق پولیس نے فیملی کو غلط معلومات فراہم کیں۔ ہمیں پولیس کی جانب سے کرپشن نااہلی اور سینیئر افسران کی انا نظر آئی ہے۔

تمام شواہد بہیمانہ قتل اور نشان عبرت بنانے کی جانب اشارہ کررہے ہیں۔ پولیس شاید کمیشن کے ختم ہونے کا انتظامات کررہی ہے۔ ہمارا مطالبہ پہلے روز سے جے آئی ٹی کا قیام ہے۔ پولیس سے ہمیں کوئی امید نہیں ہے۔ کمیشن کی کارروائی میں پولیس کی نااہلی کے ثبوت سامنے آئے ہیں۔

امید ہے کمیشن کی کارروائی کے دوران نظر آنے والی برہمی فائنڈنگز میں بھی سامنے آئے گی۔ میر رضا کیس میں پولیس کی نااہلی، مبینہ کرپشن اور انا کے ثبوت کمیشن کے سامنے آئے۔ پولیس کی نااہلی، کرپشن اور انا تینوں کے شواہد کمیشن کے سامنے موجود ہیں۔ کمیشن نے پولیس کی کارکردگی پر برہمی، ناراضی اور مایوسی کا اظہار کیا۔ 

جن پولیس اہلکاروں نے قتل چھپانے یا ملزمان کو تحفظ دینے کی کوشش کی، ان کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ پولیس نے نہ صرف میر رضا کے قتل کو چھپایا بلکہ ممکنہ قاتلوں کی پشت پناہی بھی کی۔ پولیس مبینہ طور پر ملزمان کو بچانے اور ان کے ہاتھ مضبوط کرنے میں سہولتکاری کر رہی ہے۔ اگر میر رضا کا قتل دہشت پھیلانے کے لیے کیا گیا تو پولیس مبینہ طور پر دہشت پھیلانے والوں کا ساتھ دے رہی ہے۔ قتل کا مقصد کچھ بھی ہو، پولیس ایک سنگین جرم کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ 

اب تک کی صورتحال میں سہولتکاری مقتول اور اس کے اہلخانہ کے بجائے مبینہ طور پر ملزمان کو مل رہی ہے۔ میر رضا کے اہلخانہ کو انصاف کے بجائے مبینہ طور پر مشکلات کا سامنا ہے۔

میر رضا کیس میں بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کے روبرو ایڈیشنل آئی جی کراچی ،ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار نے سوالات کے جوابات دے دیئے۔

کمیشن میں معاون تجمل لودھی ایڈووکیٹ نے جوابات کا سیل لفافے میں کمیشن میں جمع کروائے۔ اہلخانہ کی جانب سے بھی پولیس افسران کے لیے سوالات جمع کروائے تھے۔

Load Next Story