مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا اثر، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں

ماہرین کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باوجود مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل مکمل طور پر بند نہیں ہوئی

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔

سرمایہ کار خطے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے تیل کی قیمت میں اضافی ’’جغرافیائی سیاسی خطرے‘‘ کا عنصر شامل کررہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 27 سینٹ یا تقریباً 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 100.59 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 30 سینٹ یا 0.3 فیصد اضافے کے بعد 89.73 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔ مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق ستمبر کے آخری دنوں میں بعض مواقع پر خطے سے خام تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی زیادہ رہیں، جبکہ متبادل راستوں اور لاجسٹک انتظامات کے ذریعے تیل کی ترسیل جاری رکھی گئی۔

تاہم مارکیٹ ماہرین کے مطابق اسے تیل کی سپلائی کی مکمل بحالی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ آبنائے ہرمز کے قریب ٹینکروں پر دوبارہ حملوں کی اطلاعات اور حالیہ دنوں میں واقعات کی تعداد میں اضافے نے شپنگ، انشورنس، متبادل راستوں اور سیکیورٹی کے اخراجات کو بلند رکھا ہوا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ایران کے علاوہ خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل ستمبر میں جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 81 فیصد تک پہنچ گئی۔ سعودی عرب کی برآمدات میں بحالی اس اضافے کی ایک بڑی وجہ رہی، حالانکہ سعودی تیل تنصیبات کو حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا ہے۔

دوسری جانب ایران کی تیل برآمدات امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث صفر تک گرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایران کی سپلائی میں کمی اور آبنائے ہرمز کے اطراف موجود سیکیورٹی خطرات نے عالمی تیل مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رکھی ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق فی الحال تیل کی قیمتوں پر دو متضاد عوامل اثرانداز ہورہے ہیں؛ ایک طرف خلیجی ممالک سے خام تیل کی ترسیل میں بحالی قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں مدد دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات قیمتوں میں اضافی جغرافیائی سیاسی پریمیم برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

Load Next Story