کراچی؛ سندھ میں رواں سال ایم پاکس کے 93 کیسز کی تصدیق، 11 اموات  

ایم پاکس کے رپورٹ ہونے والے کیسز میں 73 مرد اور 23 خواتین شامل ہیں، پی ڈی ایس آر یو

فوٹو: فائل

سندھ میں رواں سال ایم پاکس کے 93 مصدقہ کیسز سامنے آچکے ہیں اور اس کے نتیجے میں 11 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

سندھ کے محکمہ صحت کے صوبائی سطح پر بیماریوں کی نگرانی اور ردعمل یونٹ (پی ڈی ایس آر یو) کے لیب سرویلنس نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق ایم پاکس کے مجموعی 93 مصدقہ کیسز میں 70 مرد شامل ہیں، جو مجموعی کیسز کا 75.27 فیصد بنتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 23 خواتین میں بیماری کی تصدیق ہوئی ہے، عمر کے لحاظ سے 30 سے 39 سال کی عمر کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، اس عمر کے گروپ میں 26 مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 0 سے 9 سال کی عمر کے  23 بچوں میں مصدقہ ایم پاکس رپورٹ ہوا۔

پی ڈی ایس آر یو کے مطابق ماہانہ صورتحال دیکھی جائے تو رواں سال اپریل میں ایم پاکس کے سب سے زیادہ 31 کیسز رپورٹ ہوئے، ستمبر میں 20، اگست میں 17، جولائی میں 7، اکتوبر میں اب تک 6، مارچ میں 5، جون میں 4 جبکہ مئی میں 2 کیسز رپورٹ ہوئے۔

دوسری جانب آج نواب شاہ کے ایک 50 سالہ شہری میں بھی ایم پاکس کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، متاثرہ شخص کو تشویش ناک حالت میں سندھ انفیکشن ڈیزیز اسپتال نیپا کراچی منتقل کیا گیا، جہاں انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کیا گیا ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق مریض کے ہاتھوں اور پیروں پر دانوں کے نشانات موجود ہیں، جس کے باعث ایم پاکس کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، مریض کے نمونے مزید تشخیص اور لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے حاصل کیے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایم پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو عموماً متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی جسمانی رابطے، جلد سے جلد رابطے یا متاثرہ شخص کے زخموں، جسمانی رطوبتوں اور بعض آلودہ اشیا کے ذریعے انسانی جسم میں منتقل ہوسکتی ہے۔

ماہرین صحت نے مزید بتایا کہ بیماری کی عام علامات میں بخار، سر درد، جسم میں درد، کمزوری، غدود میں سوجن اور جسم پر دانے یا چھالے شامل ہیں جبکہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں متاثرہ شخص کو دوسروں سے فاصلہ رکھنا چاہیے اور فوری طبی معائنہ اور تشخیصی ٹیسٹ لازمی کروانا چاہیے۔

محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کے مطابق ایم پاکس کی صورت حال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، شہریوں کو بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر طبی مرکز سے رجوع کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Load Next Story