Love, Life and the Left (حصہ اوّل)
Love, Life and the Left ایک ایسی جرات مند خاتون کی داستان حیات ہے جس کے پاس سچ کے سوا کہنے کو کچھ اور نہیں ہے۔ بائیں بازو کی کارکن، سوشل ایکٹیوسٹ اور بہادر مہناز نے اس کتاب میں وہ سب کچھ لکھ دیا ہے، جتنا سچ خواتین تو کیا مرد بھی اپنی زندگی کے بارے میں نہیں لکھ سکتے۔
فی الحال یہ کتاب انگریزی زبان میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کی ادارت کے فرائض معروف صحافی احفاظ الرحمن اور مہناز کے صاحبزادے رمیز رحمن نے انجام دیے ہیں ۔جب یہ کتاب اردو میں شائع ہوگی تو سیکڑوں قارئین کو حیرت زدہ کردے گی۔ یہ کتاب تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب مہناز کی زندگی سے، دوسرا بائیں بازو سے منسلک ہونے اور تیسرے کا عنوان محبت ہے۔ جب وہ احفاظ الرحمن کی اسیر ہوئیں۔ کاش یہ کتاب احفاظ الرحمن کی زندگی میں شائع ہوجاتی۔
مہناز رحمن اپنی زندگی کے بارے میں لکھتی ہیں کہ 16، جون، 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئی مگر ان کے بچپن کی ابتدائی یادیں لاہور کے وزیر علی خان مسجد کے محلہ کی ہیں۔ان کی والدہ ایک متحرک خاتون تھیں۔ اس بناء پر ان کی پرورش والدہ کے Over Protective Disciplineمیں ہوئی۔
مہناز جب یونیورسٹی میں زیر ِ تعلیم تھیں تو بھی ان کی والدہ ہی ان کے کپڑے خریدتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی والدہ کبھی کہتی تھیں کہ مہناز صفر بٹا صفر ہے۔ مہناز کا ستارہ Gemine ہے۔ اس بناء پر انھوں نے لکھا ہے کہ Gemene کچھ بھی کرسکتی ہیں۔ مہناز نے یہ دلچسپ جملہ لکھا ہے کہ پاکستان بنے بغیر ان کی پیدائش ممکن نہیں تھی۔
امرتسر کی ایک کشمیری لڑکی دہلی کے ایک خوش مزاج، سحر کن شخصیت کے مالک لڑکے کے عشق میں مبتلا ہوئیں۔ مہناز اپنے نانا کاذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ یہ دانش ور والد نے 1930میں اپنی بچیوں کو اسکول بھیجا تھا اور اپنی بچیوں کو یہ شعور دیا کہ زیورات ہی نہیں بلکہ بچیوں کو تعلیم کی بھی ضرورت ہے مگر جب ان کی والدہ بہت چھوٹی تھیں تو نانا کا انتقال ہوگیا تھا۔ مہناز نے اس باب میں 1947ء میں ہونے والے فسادات کا ذکر کیا ہے۔ اس دوران ان کے ماموں کا جوانی میں انتقال ہوگیا۔
نانی اپنی بیٹیوں کو لے کر اپنا آبائی وطن چھوڑ کر کراچی ہجرت کرگئیں۔ مہناز کی خالہ امرتسر کے ٹیلی فون ایکسچینج میں ملازمت کرتی تھیں۔امرتسر سے آنے والے اکثر کشمیری خاندان لاہور کے علاقے گوالمنڈی میں آباد ہوئے تھے مگر پھر خالہ کو ملازمت کے لیے کراچی جانا پڑا اور تینوں خواتین کراچی منتقل ہوگئیں اور کراچی میں انھیں ایک کوارٹر الاٹ ہوگیا۔ اس وقت مہناز کی والدہ کی عمر 16سال تھی۔ اس کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ مہناز نے اپنے ذاتی واقعات کے ساتھ سیاسی واقعات کا بھی ذکر کیا ہے۔
مہناز کے والد کا تعلق پرانی دلی سے تھا جہاں ان کی پرورش چاند والی حویلی میں ہوئی تھی۔ مہناز کی والدہ اور والد کی ابتدائی زندگی میں بڑی مشکلات آئی تھیں۔ امی کی شخصیت پر تو ان مشکلات کے اثرات تھے مگر ان کے والد کے طرزِ عمل سے ان مشکلات کا اظہار نہیں ہوتا تھا۔ ان کے والد ہندوستان کی تقسیم کے وقت سرکاری ملازم تھے۔ مہناز کے دادا قوم پرست تھے اور تقیسم ہندکے خلاف تھے۔ وہ پاکستان نہیں آئے اور مہناز کے والد تنہا پاکستان آگئے۔ ان کے ابا کی پھوپھی نے ان کی منگنی دہلی میں ایک خاتون سے کردی تھی۔ مہناز کی خالہ کو تو کراچی میں کوارٹر مل گیا تھا مگر ان کے ابا غیر شادی شدہ تھے ۔ پھر کسی عزیز کے کہنے پر مہناز کی خالہ نے ان کے والد کو Paying Guestکے طور پر رکھ لیا، یوں ان کی والدہ اور والد کا رومانس پروان چڑھا۔ وہ لکھتی ہیں کہ ان کے والد آرڈیننس فیکٹری چلے گئے۔
وہ لاہور کے محلہ وزیرخاں کی یادوں کا خوب ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ گلیوں میں جلوس نکلنے لگے۔ ایک شخص کو لوگوں نے کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا تو والدہ نے بتایا کہ یہ شخص بعد میں انتخاب میں کامیاب ہوا ہے۔ اس طرح سیاست پہلی دفعہ ان کے کانوں میں داخل ہوئی۔ 1952 میں لاہور فسادات ہوئے اور لاہور میں مارشل لاء لگ گیا۔ ان کے والد کو لائل پور میں ملازمت مل گئی۔ سہگل خاندان کی کوہِ نور مل کے سربراہ رفیق سہگل کا انھیں اسپیشل اسسٹنٹ مقرر کیا گیا اور لائلپور کی فیکٹری کی ایک کالونی میں انھیں اچھا مکان مل گیا، وہاں ایک نئی زندگی شروع ہوئی۔
مہناز نے اپنی ایک مختصر کہانی ماہانہ حرم میں بھیجی ،اس وقت ان کی عمر 8سال تھی، یہ کہانی شائع ہوگئی۔ مہناز نے تیسرے باب میں اپنے والد اور ایک لیڈی ڈاکٹر کے رومانس کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ کوہِ نور کالونی میں ہمارے گھر کے قریب ایک دواخانہ تھا جہاں ایک خوبصورت ڈاکٹر نعیم تعینات تھا۔ ڈاکٹر نعیم لاہور سے ایک لڑکی کو ساتھ لے آئے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ ایک جن اس لڑکی پر عاشق تھا اور اس لڑکی کے سات منگیتر قتل ہوچکے تھے۔ ڈاکٹر نعیم نے ملز کی ملازمت چھوڑدی اور لاہور میں ایک اچھی ملازمت تلاش کرلی مگر وہ لاہور جاتے ہوئے ایک حادثے میں انتقال کرگئے۔ پھر ایک خوبصورت لیڈی ڈاکٹر جو امریکا سے MD کرکے آئی تھیں انھیں اس دواخانہ میں نوکری مل گئی۔
وہ سلیو لیس قمیضیں اور رنگین فراکس پہنتی تھیں او رایک کتا بھی ساتھ رکھتی تھیں۔ مہناز کے والد اس ڈاکٹر کی محبت میں مبتلا ہوگئے۔ مہناز کی امی اس زمانے میں روزانہ ڈائری لکھتی تھیں۔ پھر ابا نے اس ڈاکٹر سے شادی کرلی۔ گھر کا ماحول کشیدہ ہوگیا اور گھر ایک نئے بحران میں مبتلا ہوگیا اور سوتیلی والدہ نے اپنی شادی کی پہلی سالگرہ منائی۔ اپنی پہلی اہلیہ اور بچوں کو بلایا اور گانے کی محفل ہوئی۔ اس محفل میں گلوکار مالا نے بھی گانے گائے تھے، پھر یہ شادی ختم ہوگئی۔
مہناز کے والد کی ملازمت ختم ہوگئی اور یہ خاندان کراچی آگیا، ان کا داخلہ حیدرآباد کے زبیدہ کالج میں کرایا گیا اور وہ ہاسٹل میں رہنے لگیں۔ بعد ازاں ان کا کراچی یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات میں داخلہ ہوگیا اور وہ کراچی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہنے لگیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ زبیدہ کالج اور کراچی یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران انھیں اردو ادب کے مطالعہ کا موقع ملا، وہ ساحر، کرشن چندر، فیض احمد فیض، منٹو اور عصمت چغتائی کی تحریروں سے واقف ہوئیں۔ بقول مہناز کہ مطالعہ کے لیے اس دوران یونیورسٹی کی لائبریری سے کتابیں لی جاتی تھیں اور ان کی زندگی کا کتابوں کے مطالعہ کے حوالے سے یہ انتہائی اہم دور تھا۔ اس وقت تک ان کے ذہن میں کسی نظریے اور سوشل ازم کا تصور نہیں تھا۔ زبیدہ کالج میں مہناز کے ساتھ عظیم شاعرہ فہمیدہ ریاض کی ہمشیرہ نجمہ منظور بھی تھیں۔
فہمیدہ ریاض، زبیدہ کالج سے رخصت ہوچکی تھیں اور لندن میں بی بی سی میں کام کررہی تھیں۔ مہناز نے اس وقت فہمیدہ ریاض کی شاعری کا مجموعہ ’’پتھر کی زبان‘‘‘ کا مطالعہ کیا۔ مہناز نے چوتھے باب میں کراچی کے کشمیر اسکول کا ذکر کیا۔ یہ اسکول کنیز فاطمہ نے قائم کیا تھا جو پاکستان کی معروف خاتون مزدور رہنما کے طور پر مقبول ہوئیں۔ مہناز نے کشمیر اسکول میں غیر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا اور معروف صحافی افضل صدیقی کے ڈرامہ ’’ٹافی کا ڈبہ‘‘ میں حصہ لیا اور یہ ڈرامہ کراچی کے تھیوفیکل ہال (Theosophical Hall) میں پیش کیا گیا۔
جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں جب مہناز روزنامہ امن میں کام کررہی تھیں تو روزنامہ امن کے ایڈیٹر افضل صدیقی اور روزنامہ انجام کی اس ڈرامہ میں شائع ہونے والی تصویر دکھائی گئی۔ مہناز نے 1965ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور سراج الدولہ کالج میں پری میڈیکل فرسٹ ایئر میں داخلہ لے لیا۔ سراج الدولہ کالج میں ترقی پسند ادیب پروفیسر مجتبیٰ حسین اردو اور پروفیسر عتیق احمد انگریزی کے استاد تھے۔ اس وقت مہناز کے والد، والدہ کے ساتھ شکارپور کی سیون اپ فیکٹری میں ملازمت کے لیے چلے گئے اور بچے نانی کے پاس عزیز آباد میں رہتے تھے۔
مہناز نے لکھا ہے کہ جس سال انھوں نے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اسی سال احفاظ الرحمن چین چلے گئے تھے۔ غالباً 1970 یا 1971 کے دوران، چین کے ایک دور دراز فارم پر جہاں احفاظ کام کر رہے تھے ، ان کی ملاقات ایک کمزور اور بوڑھی چینی عورت سے ہوئی۔وہ عورت ایک دور دراز علاقے سے زبردستی وہاں لائی گئی تھی اور اسے اپنے خاندان سے جدا کر دیا گیا تھا۔ اسے اپنے بیٹے ، بہو اور پوتے پوتیوں سے الگ کر دیا گیا تھا، جنھیں بھی ملک کے مختلف حصوں میں بھیج دیا گیا تھا۔وہ عورت بہت بوڑھی اور کمزور تھی۔ اس کے لیے جسمانی محنت کا وہ انتہائی دشوار کام کرنا مشکل تھا جو اس پر عائد کیا گیا تھا۔
(جاری ہے)