ایران سے مبینہ تعلق کے شبہے میں کارروائی، برطانوی ائیربیس واقعے میں ساتویں گرفتاری
لندن: برطانیہ میں امریکی فوج کے زیر استعمال اہم ائیربیس کے قریب مشکوک واقعے کے سلسلے میں پولیس نے ساتویں شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 22 سالہ برطانوی شہری کو لندن میں دہشت گردانہ کارروائی کی تیاری کے شبہے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ گرفتاری ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل برطانوی ائیربیس سے تمام B-1 بمبار طیارے منتقل کیے جانے کی تصدیق کی تھی۔
یہ واقعہ آر اے ایف فیئرفورڈ کے قریب 27 ستمبر کو پیش آیا تھا۔ اس سے قبل پولیس نے ائیربیس کے قریب تین مشکوک وینز کو روک کر 20 سال کی عمر کے 6 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ان میں سے ایک برطانوی-ایرانی دوہری شہریت رکھنے والا شخص بھی شامل تھا۔
برطانوی پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے چھوں افراد کو بعد میں ضمانت پر رہا کردیا گیا، تاہم تاحال کسی کے خلاف فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔
حکام کے مطابق مشکوک وینز کی تلاشی کے دوران کوئی دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم کچھ مقدار میں پیٹرول ضرور ملا تھا۔ واقعے کو برطانوی حکام نے ’سنگین نوعیت کا واقعہ‘ قرار دیا تھا، جس کے بعد قریبی علاقے کے ایک گاؤں کو بھی خالی کرایا گیا۔
تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ وینز میں موجود افراد کا اصل مقصد کیا تھا اور ائیربیس کو کس نوعیت کا خطرہ درپیش تھا۔
برطانوی وزیرِاعلیٰ اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے مضبوط شواہد موجود ہیں، تاہم ایران نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہوگیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ برطانیہ کے فیئرفورڈ ائیربیس پر موجود امریکی B-1 بمبار طیاروں کو منتقل کردیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ طیاروں کی منتقلی کی وجہ ’کچھ خطرات‘ تھے اور دعویٰ کیا کہ امریکی حکام ان لوگوں کے بارے میں جانتے ہیں جنہوں نے یہ خطرہ پیدا کیا۔
امریکا نے رواں سال مارچ میں برطانیہ سے فیئرفورڈ ائیربیس کو ایران کے خلاف مخصوص دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت حاصل کی تھی۔ اس کے بعد امریکی بمبار طیاروں سمیت دیگر جنگی طیاروں کی اس ائیربیس سے آمد و رفت دیکھی جاتی رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کسی مخصوص خطرے کی اطلاعات کو زیادہ اہمیت نہ دینے کی کوشش کی اور صورتحال کو محدود رکھنے کا اشارہ دیا۔
واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور پولیس کی جانب سے ساتویں گرفتاری کے بعد اس معاملے میں ممکنہ دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کے پہلو سے تفتیش مزید اہم ہوگئی ہے۔