اسلام آباد ہمارا ہے لانگ مارچ یہاں کیوں نہیں پہنچے گا؟ بیرسٹر گوہر
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی مشروط پیشکش کی ہے، مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں مگر کسی شرط کے بغیر ہونے چاہئیں، اسلام آباد بھی ہمارا ہے یہاں لانگ مارچ کیوں نہیں پہنچےگا؟
میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات پر بیٹھنا آسان نہیں تھا، ہم بڑی مشکل سے بیٹھے تھے، اٹھنا نہیں چاہیے تھا، جس نے بھی کہا چلیں ختم کریں، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، ہم اپنی طرف سے بیٹھے رہے، مذاکرات ختم ہونے کے بعد باہر آکر بیانات بڑا غلط عمل تھا اس سے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے، ملک، قوم اور جمہوریت کے لیے مذاکرات کا کامیاب ہونا بڑا ضروری ہے۔
انہوں ںے کہا کہ اس وقت صوبے کے حالات بڑے سنگین ہیں ملک اس وقت غیر آئینی، غیر قانونی اور عوام کی مرضی کے بغیر صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا، ہر حال میں مذاکرات کے ذریعے بہتری کی طرف جانا چاہیے، گورنر راج، ایمرجنسی نہیں ہونی چاہیے، چیزیں اچھے طریقے سے حل ہونی چاہئیں، ہمارے مطالبات بہت سادہ تھے، بانی سے ملاقات، بشریٰ بی بی سے ملاقات، بانی پی ٹی آئی کے بلڈ پریشر اور ان کے ڈاکٹر کی ملاقات میں چلتے چلتے ذکر ہوا تھا یہ کہنا مناسب نہیں کہ باہر جا کر بتانے سے منع کیا گیا تھا۔
انہوں ںے کہا کہ ڈاکٹر اگست میں آیا تھا اور اس نے معائنہ کیا تھا، میں نے پارٹی کے خاص لوگوں اور فیملی کو بھی بتایا تھا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی مشروط پیشکش کی ہے ہم نے پہلے ہی فیصلہ کیا تھا کہ حکومت کی طرف سے پیشکش آئے گی تو ہم غیر مشروط ہو کر بیٹھیں گے، سیاسی معاملات میں بغیر کسی شرط کے لوگ بیٹھتے ہیں، بات چیت کرتے ہیں اور حل نکلنے تک بات چیت جاری رکھنی چاہیے، مذاکرات ہونے چاہئیں اور بغیر کسی شرط کے ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہمارا ہے لانگ مارچ یہاں کیوں نہیں پہنچے گا؟ لانگ مارچ اپنے شیڈول کے مطابق 11 یا 12 کتوبر کو اسلام آباد پہنچے گا، مذاکرات کے بغیر لانگ مارچ کو کمزوری سمجھنا بڑی نامناسب بات ہے۔
انہوں ںے کہا کہ اندر کی باتیں باہر ڈسکس ہونے لگیں تو وقت ایک دوسرے کو جواب دینے اور پریس کانفرنسز میں گزر جاتا ہے، بانی پی ٹی آئی کو مائنس نہیں کیا جا سکتا وہ بڑے لیڈر ہیں، بانی پی ٹی آئی کبھی مائنس نہیں ہو سکتے بانی نے پارٹی میں لوگوں کو اختیارات دیے، سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی بھی بنائی، ہم نے سیاسی و کور کمیٹی سے ناموں کی توثیق کروائی اور اختیارات لیے ہمیں چیزوں کو ڈی ریل کرنے کے بجائے حل کی طرف جانا چاہیے۔