گیس چوری لائن اڑانے پر14سال قید اور 30لاکھ تک جرمانہ ہوگا قائمہ کمیٹی
گیس چوری کو ناقابل ضمانت جرم قراردے دیا گیا، بل کا بنیادی مقصد بقایاجات کی وصولی یقینی بناناہے، سینیٹ کمیٹی
وزیراعظم کوبھی کسی علاقے میں گیس کی مفت فراہمی کا اختیارنہیں، وزیرپٹرولیم شاہد خاقان عباسی۔ فوٹو: فائل
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم وقدرتی وسائل نے گیس چوری کی روک تھام اور بلوںکی وصولی کے بل2014کی منظوری دے دی۔
جسکے تحت گیس چوری پرمجموعی طورپر14سال قیداور30لاکھ روپے تک جرمانہ کیاجاسکے گا،2011میںسی آر پی سی میں گیس چوری کو بھی باقاعدہ جرم قرار دیدیاگیاتھا، اب گیس چوری کے مکمل خاتمے کیلیے مجرموں کی سزا اورجرمانے بڑھا دیے گئے ہیںاورگیس چوری کوناقابل ضمانت جرم قراردے دیاگیا،گیس چوری روکنے کیلیے اطلاع کنندہ کو واجب الادا رقم میںسے 5 فیصد ایوارڈ کا فیصلہ کیاگیا تاکہ لوگ چوروں کے بارے میں مطلع کریں،گیس ٹمپرنگ پر 10لاکھ تک جرمانہ، میٹرٹمپرنگ کے مجرم کو6ماہ قیدکی سزا، انڈسٹریل گیس چوری پر 10سال کی سزا، گیس لائن توڑنے والے کو14سال قیدکی سزا کافیصلہ کیا گیا۔ سینیٹ کمیٹی نے قراردیاکہ بل کا بنیادی مقصد بقایاجات کی وصولی یقینی بنانااورگیس چوری روکناہے، پارلیمنٹ سے قانون کی باقاعدہ منظوری کے بعد وزارت اور گیس کمپنیوں کے ہاتھ مضبوط ہو جائیںگے۔ سیکریٹری پٹرولیم نے اجلاس کو بتایا کہ ملک میں سالانہ 14 ارب روپے کی گیس چوری ہوتی ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرشاہدخاقان عباسی نے کہاکہ وزیراعظم کوبھی کسی علاقے میںمفت گیس دینے کا اختیارنہیں، جس زمین سے قدرتی ذخائرنکلیں وہ ریاست کی ملکیت ہے اوراس زمین کے مالک کو صرف رائلٹی دی جاتی ہے جوگیس اور تیل نکلنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت و ٹیکسٹائل نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنوںکو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہاکہ ان دھرنوں کی وجہ سے ڈالرکی قدر بڑھنے سے پاکستان پرقرضوں کا بوجھ 350ارب روپے بڑھ گیا اور500ارب روپے سے زائدکاتجارتی خسارہ ہوا۔ وفاقی وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر نے کہاکہ موجودہ سیاسی صورتحال کی وجہ سے ایکسپورٹرز امپورٹرز نے اپنے آرڈر روک دیے ہیں جبکہ معیشت کو کھربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
جسکے تحت گیس چوری پرمجموعی طورپر14سال قیداور30لاکھ روپے تک جرمانہ کیاجاسکے گا،2011میںسی آر پی سی میں گیس چوری کو بھی باقاعدہ جرم قرار دیدیاگیاتھا، اب گیس چوری کے مکمل خاتمے کیلیے مجرموں کی سزا اورجرمانے بڑھا دیے گئے ہیںاورگیس چوری کوناقابل ضمانت جرم قراردے دیاگیا،گیس چوری روکنے کیلیے اطلاع کنندہ کو واجب الادا رقم میںسے 5 فیصد ایوارڈ کا فیصلہ کیاگیا تاکہ لوگ چوروں کے بارے میں مطلع کریں،گیس ٹمپرنگ پر 10لاکھ تک جرمانہ، میٹرٹمپرنگ کے مجرم کو6ماہ قیدکی سزا، انڈسٹریل گیس چوری پر 10سال کی سزا، گیس لائن توڑنے والے کو14سال قیدکی سزا کافیصلہ کیا گیا۔ سینیٹ کمیٹی نے قراردیاکہ بل کا بنیادی مقصد بقایاجات کی وصولی یقینی بنانااورگیس چوری روکناہے، پارلیمنٹ سے قانون کی باقاعدہ منظوری کے بعد وزارت اور گیس کمپنیوں کے ہاتھ مضبوط ہو جائیںگے۔ سیکریٹری پٹرولیم نے اجلاس کو بتایا کہ ملک میں سالانہ 14 ارب روپے کی گیس چوری ہوتی ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرشاہدخاقان عباسی نے کہاکہ وزیراعظم کوبھی کسی علاقے میںمفت گیس دینے کا اختیارنہیں، جس زمین سے قدرتی ذخائرنکلیں وہ ریاست کی ملکیت ہے اوراس زمین کے مالک کو صرف رائلٹی دی جاتی ہے جوگیس اور تیل نکلنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت و ٹیکسٹائل نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنوںکو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہاکہ ان دھرنوں کی وجہ سے ڈالرکی قدر بڑھنے سے پاکستان پرقرضوں کا بوجھ 350ارب روپے بڑھ گیا اور500ارب روپے سے زائدکاتجارتی خسارہ ہوا۔ وفاقی وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر نے کہاکہ موجودہ سیاسی صورتحال کی وجہ سے ایکسپورٹرز امپورٹرز نے اپنے آرڈر روک دیے ہیں جبکہ معیشت کو کھربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔