صومالی قزاقوں کی قید سے رہا بقیہ تین پاکستانی بھی کراچی پہنچ گئے

ایئرپورٹ پر گورنر سندھ نہال ہاشمی اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سمیت دیگر نے استقبال کیا

کراچی:

صومالی قزاقوں کی قید سے رہائی باقی ماندہ تینوں پاکستانی ملاح ایتھوپین ایئر لائن کی پروازکے ذریعےکراچی پہنچ گئے۔

صومالی بحری قزاقوں کی قید سے بازیاب  ہونے والے تین پاکستانی کریو ممبر کراچی  پہنچے تو ایئرپورٹ پر گورنر سندھ نہال ہاشمی، مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب ،جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق،منسٹری آف فارن افئیرز،پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی اور اعلی سرکاری افسران نے ان کا استقبال کیا۔

 اس موقع پر گورنر سندھ نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ بحری قزاقی کے واقعہ میں جاں بحق عملے کے تینوں ارکان کے اہل خانہ اور زخمیوں سمیت زندہ بچ جانے والے تمام سات  ارکان  کےلئے حکومت کے اعلان کردہ امدادی پیکج پر عمل درآمد آئندہ دو روز میں کر دیا جائے گا۔

 میئرکراچی مرتضی وہاب کا کہناتھا کہ یہ یقینا ان خاندانوں کےلیےخوشی کا موقع ہےجوپانچ ماہ سے اپنےپیاروں کا انتظارکررہےتھے مگردوسری جانب کچھ پاکستان خاندان جن کے پیارے شہید ہوئے وہ غمزدہ ہیں، اس قسم کے واقعات کے دوران بہ حیثیت پاکستانی ہمیں متاثرہ خاندانوں کےشانہ بشانہ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔

رہائی پانے والے کریوممبران میں سیکنڈ انجینیئر حسین یوسف، عمران علی جونیجو اور محمد یاسین شامل ہیں،رہائی پانے والے دو کریو ممبران کا تعلق کراچی اور ایک کا سوات سے ہے۔

 رہائی پر اللّہ کے شکر گزار ہیں، سیکنڈ انجینئر حسین یوسف کا میڈیا سےگفتگومیں کہناتھاکہ21اپریل کو بحری قزاقوں نےجہاز کو یرغمال بنایا،29ستمبر کو جہاز پر آپریشن کےلیے کارروائی شروع کی گئی،اتنی شدید فائرنگ تھی کہ کچھ سمجھ میں نہیں آرہاتھا،تین پاکستانی شہید ہوگئے،ایک بھارتی چیف کک تھااورایک میانمار کا چیف انجینئر تھا جو واقعے میں ہلاک ہوئے۔

چارپاکستانی اس افسوسناک سانحےمیں زخمی ہوئے،بحری جہاز کے عملے میں شامل محمد یاسین کا کہناتھاکہ بحری قزاقوں نے ہمارے بیشتر ساتھیوں کو ریلنگ سے باندھ کر مارا،بہت کڑا وقت تھا وہ ہم سب کےلیے مگر رب کا کرم ہوا کہ اس سانحے میں مجھ سمیت کچھ لوگ معجزانہ طورپربچ گئے۔

عملے میں شامل عمران علی جونیجو کےمطابق پانچ ماہ کےدوران جوکچھ ہم پر بیتا وہ لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے،ہرروز ایک امتحان سےگزرتے تھے،اس افسوسناک سانحے میں ہمارے پاکستانی بھائی جانوں سے بھی گئے اورزخمی بھی ہوئے۔

جناح اسپتال کی ڈاکٹر امبر کا کہناتھا کہ زخمی بظاہر طور پ رمکمل صحت مند ہیں،اس لیے انھیں گھر بجھوایاجارہا ہےلیکن ان کو جو بھی طبی مسائل ہیں،کوئی درد یا زخم ہیں تو ٹیسٹ وغیرہ کے لیے انھیں کل جے پی ایم سی بلوایا گیاہے جبکہ اس واقعے کی وجہ سے انھیں اگر کسی اموشنل اسپورٹ کی ضرورت ہے تو وہ معائنہ بھی ان کا کروایاجائےگا۔

Load Next Story