پتا پتا بوٹا بوٹا
ہمارے یہاں کا سیاسی ماحول ، ہمیشہ سے ہی گرد آلود رہا ہے۔ شاید اسی وجہ سے گوڈگورننس دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ شاید اسی وجہ سے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی باتیںکی جارہی ہیں۔اور یہ صورتحال سب کے لیے بڑی پریشان کن ہے۔ میر تقی میرؔنے کیاخوب کہا۔
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
حال میں کس کس کا خیال نہیں آتا،کس کس کا کمال نہیں آتا، کس کازوال نہیںآتا۔باغ میں ایک سے بڑھ کر ایک چمن اور لگن، اور وہاں کونسا کونسا پھول نہیں کھلتا ۔بے شک!پھول بہت نازک ہوتے ہیں۔اور بے شک!اس کی زندگی کم ہوتی ہے، لیکن اس کی خوشبو باغ در باغ سفرکرتی ہے۔کتابوں میں رکھے ہوئے پھول کی یادیں بھی مہک رہی ہوتی ہیں۔اور ساتھ ساتھ فریاد بھی بن جاتی ہیں۔ثاقبؔ لکھنوی کا ایک شعر نذرِ قارئین ہے۔
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سو گئے داستاں داستاں کہتے کہتے
کبھی زمانہ بنام افسانہ ہوتا ہے،کبھی بنام بیگانہ ہوتا ہے اور کبھی کبھی بنام دیوانہ ہوتا ہے۔ان کے اپنے اپنے انداز ہوتے ہیں، ساز ہوتے ہیں۔یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ زمانے میں کئی موڑبھی آتے ہیں ۔کئی راستے بھی نکل آتے ہیں۔اور … جہاں سے چلے تھے، اُس سے بھی پیچھے چلے آتے ہیں۔یہ بھی دیکھا کہ کئی اس کی راہ میں کئی پتھر بھی نظر آتے ہیں۔اور تو اورآہ اور واہ کی منظر بھی ملتے ہیں۔ یہ بھی عرض کرتے چلیں جو وقت کے ساتھ چلتے ہیں ،زمانہ بھی انہیں کے سنگ چلتا ہے۔
عبدالمجید سالک اپنی کتاب’’ یارانِ کُہن‘‘میں آغا محمد حشر کاشمیری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ’’اُنہیں نے جب بھی اپنے گھرکی فضا کو اپنے فنی رجحانات کے خلاف پایا تو بھاگ کر بمبئی پہنچ گئے اور تھیڑ کی دُنیامیں اپنے لیے گنجائش پیدا کرنے کی کوشش شروع کردی۔اس وقت حسن اتفاق سے چند اور ذہین و طباع نوجوان بھی بمبئی میں موجود تھے۔چنانچہ آغاحشر، مولانا ابوالکلام آزاداور اُن کے بھائی ابوالنصیر غلام یاسین آہ،نظیر حسن سخا اور ایک آدھ اور صاحب کی ایک ’’ منڈلی‘‘قائم ہو گئی۔چند روز بعد مولانا ظفر علی خان بھی ان میں شامل رہے لیکن جلد ہی کسی کاروبار کے سلسلے میں سومالی لینڈ چلے گئے۔
اس زمانے میں کوئی سیاسی اسٹیج موجود ہی نہ تھا۔مذہبی مناظروں کا زمانہ تھا۔… آغا حشرنے نئی ملازمت پر فائز ہوتے ہی ڈراما کی دُنیا کو اپنی غیرمعمولی قابلیت و صلاحیت کا احساس کرادیا اور سب سے پہلے’’ مرید ِ شک‘‘ لکھ کر ڈراما میں ایک نیا راستہ پیدا کر دیا۔آغا صاحب سے پہلے اگر چہ احسن، بیتاب، اور طالب بنارسی کا طوطی بولتا تھا۔لیکن ان کی نظم و نثر میںوہ شان وشوکت ، وہ پاکیزگی اور قوت مفقود تھی جو حشر کی تحریرات میں نمایاں تھی۔کچھ تو آغا کے اسلوب میں ان کی طبعی شور انگیزی اور زور آزمائی کا اثر تھا اور کچھ خطابت ومناظر کے مشاغل نے انہیں فقرے چست کرنے صلا حیت بخش دی تھی،جنہیں عوام بے حد پسند کرتے تھے۔بمبئی میں آغاحشر نے پے درپے کوئی چھ ساتٖ ڈرامے لکھے جو بے حد کامیاب ہوئے اور تھیٹر کی دنیا آغا حشر کے نام سے گونجنے لگی۔
دوسرے ڈرامانگاروں نے آغا صاحب کو ناکام رکھنے کی بے حد کوشش کی لیکن ’’عصرِ حشر‘‘ شروع ہو چکا تھا او ر دُنیا کی کوئی طاقت اس ’’ عصر‘‘ کی رفتار کو روک سکتی تھی۔آغا صاحب نے متعدد دوسری کمپنیوںکے لیے بھی ڈرامے لکھے جن میں بہت سے شیکسپیئر سے ماخوذ تھے…آغا صاحب سے میری ملاقات پہلی ملاقات 1916 میں ہوئی جب وہ لاہور میں مقیم تھے اورڈراما کی دُنیا میں کساد بازاری کے باعث بے روزگار ہورہے تھے… 1934 کے اواخر میں آغا صاحب بیمار ہو کر لاہور آئے۔ چند روز حکیم فقیر محمد چشتی کے ہاں قائم کیا، علاج ہوتا رہا ۔لیکن عارضی سا افاقہ ہوا۔اس زمانے میں ’’ حشر پکچرز‘‘ کی بنیاد رکھی۔ریس کورس پر سینٹرل جیل کے پاس ایک کوٹھی کرائے پر لی ا ور وہاں’’ بھیشم ‘‘ کی کاسٹ مرتب ہوئی۔ابھی تیاریاں جاری تھیں کہ پیغا م ِ اجل آن پہنچا اور 28 اپریل1935 کو اُردو ڈراما کا یہ آفتاب عالم ڈوب گیا‘‘۔ حفیظ ؔ ہوشیارپوری کا بھی ایک شعر ۔
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
محفل در محفل محبت کا چراغ جلتا رہتا ہے۔ چہرے بھی بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن محبت بھی آگے بڑھتی رہتی ہے۔محفل اور دل کا بھی ایک سنگم ہوتا ہے، اوران کا سفر جاری رہتا ہے۔کبھی یہ دریا کے دو کنارے بن جاتے ہیں، اور کبھی ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔یعنی ہجر اوروصل کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ بات کہیں سے کہیں چلی جاتی ہے۔ کیفیؔاعظمی کا ایک شعر۔
کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں
اس سر پہ جھوم کے جو گھٹا ئیں گزر گئیں
یہ بھی دیکھا کہ جو گھٹائیں جھوم کر آتی ہیں اور اُسی طرح جھوم کی چلی آتی ہیں۔یہ بھی کہیں گے کہ بن بادل بھی برسات ہو جاتی ہے۔کیا اسے کسی کی محروی سے تشبیہ دے سکتے ہیں؟اگرپیاس میں آس کا بندھن پاس رہے ، وقت بھی گزر جاتا ہے۔یہ بھی درست کہ ’’ وقت کرتاجو وفا آپ ہمارے ہوتے ‘‘۔ہمارے میں کئی پیارے اور بھی پیارے لگتے ہیں اور وفا بھی کسی ٹیگ سے کم نہیں ہوتی۔آج کے ریفرنس میں ہم پاکستان کے نامور صحافی احمد علی خان کا ذکر کرتے ہیں۔’’ وہ 1924 کو بھوپال میں پیدا ہوئے تھے۔ 1945 اُنھوں نے بھوپال کے جریدے ’’ ترجمان ‘‘ سے اپنی صحافیانہ زندگی کا آغاز کیا۔ وہ1946ء میں ڈان دہلی سے وابستہ ہوئے۔قیامِ ِ پاکستان کے بعد وہ ’’ پاکستان ٹائمز‘‘سے وابستہ ہو گئے، جس کے ایڈیٹر ان دنوں فیض احمد فیض تھے۔1962میں وہ ڈان کراچی سے وابستہ ہو گئے اور 2000 تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ بعدازاں 2003سے 2004تک بھی اس اخبار سے وابستہ رہے۔
احمد علی خان کا شمار پاکستان کے ترقی پسند صحافیوں میں ہوتا تھا۔ ان کا تعلق ادبی خانوادے سے تھا۔ان کی اہلیہ باجرہ مسرور اور ان کی جواہر نسبتی خدیجہ مستور اُردو کی مشہور ادیبہ تھیں،جب کہ مشہور شاعر خالد حسن ان کے برادر نسبتی ہیں ۔ ان کے ہم زُلف ظہیر بابر اور حسن عابدی بھی صحافت کے شعبے سے وابستہ تھے۔ان کے ایک اور ہم زُلف حبیب وہاب الخیری قانون کے شعبے سے وابستگی کی وجہ سے معروف ہیں۔13جون 2007 کو احمد علی خان دُنیا سے رخصت ہو گئے‘‘۔