نوجوانوں سے جنسی زیادتی، سابق آسٹریلوی بشپ کو ساڑھے 6 سال قید

سابق بشپ کو اگست میں ریپ کے ایک مقدمے اور غیر قانونی و فحش حملے کے 12 مقدمات میں مجرم قرار دیا گیا تھا

سڈنی: آسٹریلیا کی عدالت نے چرچ کے سابق اعلیٰ عہدیدار اور برووم کے سابق بشپ کرسٹوفر ایلن سانڈرز کو نوجوان مردوں کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمے میں 6 سال اور 6 ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔

عدالت کے مطابق سانڈرز کو سزا 12 اگست سے شمار کی جائے گی۔ وہ آسٹریلیا کے کیتھولک چرچ کے اہم عہدیداروں میں شمار ہوتے تھے اور دو دہائیوں سے زائد عرصے تک مغربی آسٹریلیا کے شمال مغربی علاقے میں واقع ڈائوسیز آف برووم کے سربراہ رہے۔

سابق بشپ کو اگست میں ریپ کے ایک مقدمے اور غیر قانونی و فحش حملے کے 12 مقدمات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

عدالت میں متاثرین میں سے ایک شخص کا بیان بھی پڑھ کر سنایا گیا، جس میں اس نے کہا کہ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ ایک کھلونا تھا جسے استعمال کیا جا رہا تھا۔ متاثرہ شخص نے اپنے بیان میں اپنی شدید ذہنی اور جسمانی تکلیف کا بھی ذکر کیا۔

کرسٹوفر سانڈرز نے 2020 میں بشپ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، جب آسٹریلوی میڈیا میں ان کے خلاف جنسی استحصال کے الزامات سامنے آئے۔ تاہم انہیں اعزازی بشپ کا عہدہ حاصل رہا۔

ابتدائی پولیس تحقیقات میں سانڈرز کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے کافی شواہد نہیں مل سکے تھے اور وہ مسلسل الزامات کی تردید کرتے رہے۔ تاہم ان کے بارے میں مسلسل گردش کرنے والی شکایات اور افواہوں کے بعد ویٹی کن نے 2022 میں ان کے خلاف الگ تحقیقات شروع کیں۔

یہ تحقیقات ان اختیارات کے تحت کی گئیں جو سابق پوپ فرانسس کے دور میں چرچ کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف جنسی بدسلوکی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے وسیع کیے گئے تھے۔

Load Next Story