چیری صرف ذائقے دار پھل نہیں، صحت کے لیے بھی کئی فوائد رکھتی ہے

چیری کو مجموعی صحت اور مدافعتی نظام کے لیے مفید غذاؤں میں شمار کیا جاتا ہے

گرمیوں کے موسم میں دستیاب چیری اپنے خوبصورت سرخ رنگ اور میٹھے ذائقے کے باعث پسند کی جاتی ہے، لیکن اس چھوٹے سے پھل میں موجود مختلف غذائی اجزا اسے روزمرہ خوراک کا مفید حصہ بھی بنا سکتے ہیں۔ چیری میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس، فائبر، پوٹاشیم اور دیگر نباتاتی مرکبات صحت کے مختلف پہلوؤں سے وابستہ کیے جاتے ہیں۔

چیری کا گہرا سرخ رنگ اس میں موجود اینتھوسائننز کی وجہ سے ہوتا ہے، جو اینٹی آکسیڈنٹس کی ایک قسم ہیں۔ یہ مرکبات جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس سے نمٹنے میں کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ ان کی سوزش کم کرنے والی خصوصیات پر بھی تحقیق کی گئی ہے۔ اسی وجہ سے چیری کو مجموعی صحت اور مدافعتی نظام کے لیے مفید غذاؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

دل کی صحت کے حوالے سے بھی چیری کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس میں موجود پولی فینولز اور فلیونوئیڈز جیسے مرکبات سوزش اور بلڈ پریشر سمیت دل سے متعلق بعض عوامل پر مثبت اثرات سے منسلک کیے گئے ہیں۔ چیری میں فائبر اور پوٹاشیم بھی پایا جاتا ہے، جو متوازن غذا کا حصہ ہونے کی صورت میں صحت مند بلڈ پریشر برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

چیری کے بارے میں ایک اور دلچسپ پہلو اس کا درد اور سوزش سے تعلق ہے۔ اس پھل میں موجود اینتھوسائننز اور دیگر فائٹو کیمیکلز میں سوزش کم کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ بعض مطالعات میں چیری یا چیری کے جوس کے استعمال کو ورزش کے بعد پٹھوں کے درد اور بعض جوڑوں کی تکالیف میں ممکنہ کمی سے جوڑا گیا ہے، تاہم اسے کسی بیماری کے باقاعدہ علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

نیند کے حوالے سے بھی چیری کا ذکر کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں قدرتی طور پر میلاٹونن پایا جاسکتا ہے۔ میلاٹونن جسم کے نیند اور بیداری کے قدرتی چکر کو منظم کرنے میں کردار ادا کرنے والا ہارمون ہے۔ اسی لیے مناسب مقدار میں چیری یا اس کے بعض مصنوعات کا استعمال نیند کے معمول پر ممکنہ طور پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

یوں چیری ذائقے دار پھل ہونے کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگر غذائی اجزا کا ذریعہ بھی ہے، جسے متوازن اور متنوع خوراک کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

Load Next Story