معمولی ای میل کی غلطی نے امریکا کے ایف-35 طیارے کی حساس ٹیکنالوجی چین تک پہنچا دی

طیارے کے کاک پٹ شیشہ اور ہتھیار خانے کا دروازہ مرمت کیلیے بھیجنا تھا جن پر ریڈار سے بچاؤ کیلیے مواد کی تہہ بھی تھی

(فوٹو: اے آئی) معمولی ای میل کی غلطی نے امریکا کیلیے بڑا سیکیورٹی خطرہ پیدا کردیا

امریکی ایف 35 لڑاکا طیارے کی حساس ٹیکنالوجی سے متعلق پرزے ترسیل کے دوران غلطی سے ہانگ کانگ پہنچ گئے جہاں چین تک رسائی حاصل ہونے کے خدشے نے امریکی حکام کو تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ مئی کے آخر میں پیش آیا تھا جب ایف 35 کے کاک پٹ کا شیشہ اور ہتھیاروں کے خانے کا دروازہ مرمت یا تلفی کے لیے امریکا بھیجا جانا تھا۔

دونوں پرزوں پر ریڈار سے بچاؤ کے لیے خصوصی مواد کی تہہ بھی چڑھی ہوئی تھی جو طیارے کی خفیہ صلاحیتوں کا اہم حصہ ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سامان کو آسٹریلیا سے جنوبی کوریا اور تائیوان کے راستے سان فرانسسکو پہنچنا تھا تاہم روانگی میں تاخیر کے بعد ترسیل جلد مکمل کرنے کی کوشش میں اسے غلطی سے ہانگ کانگ بھیج دیا گیا۔

ایف 35 تیار کرنے والی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کی جانب سے کام کرنے والی مال بردار کمپنی ڈی ایس وی نے یو پی ایس کو ای میل کے ذریعے خبردار کیا تھا کہ یہ سامان امریکی اسلحہ برآمدی قوانین کے تحت حساس ہے اور مخصوص ممالک سے نہیں گزارا جاسکتا۔

تاہم یو پی ایس کے متعلقہ ملازم نے یہ ای میل نہیں دیکھی کیوں کہ ممکنہ طور پر یہ ای میل مختلف اور محفوظ نظام کے ذریعے بھیجی گئی تھی۔ جس کے نتیجے میں سامان ہانگ کانگ پہنچ گیا۔

ہانگ کانگ کو چین اپنی ملکیت سمجھتا ہے اور کافی اثر و رسوخ بھی رکھتا ہے۔ جس سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ چین کو ایف 35 کے ان پرزوں تک رسائی ملنے سے اسے طیارے کی خفیہ ٹیکنالوجی کا مطالعہ کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

اس واقعے کے بعد امریکی محکمہ دفاع اور محکمہ خارجہ نے تحقیقات شروع کردیں جبکہ ارکان کانگریس نے امریکی دفاعی سازوسامان کی عالمی ترسیلی زنجیر کا ازسرنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

Load Next Story