سائبیریا میں طاعون سے دوسری ہلاکت کا دعویٰ؛ روس کا ردعمل سامنے آگیا
لیبارٹری سے طاعون پھیلنے کا خدشہ؛ دوسری ہلاکت کی اطلاع (فوٹو؛ فائل)
روس نے سائبیریا میں طاعون سے دوسری ہلاکت اور وبا پھیلنے سے متعلق خبروں کو غلط قرار دیتے ہوئے شہریوں کو سرکاری طبی اداروں کی معلومات پر بھروسا کرنے کی ہدایت کی ہے۔
روسی خبر رساں اداروں کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے دوسری ہلاکت سے متعلق سوال پر کہا کہ اس معاملے میں ذرائع ابلاغ پر گردش کرنے والی زیادہ تر معلومات غلط ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صورتِ حال سے متعلق مستند معلومات کے لیے روس کے صحت کے نگران ادارے ’’روسپوتریب نادزور‘‘ کے سرکاری بیانات پر انحصار کیا جائے۔
یہ معاملہ سائبیریا میں طاعون کے خلاف کام کرنے والے ادارے کی 28 سالہ ملازمہ داریا شپیلوا کی موت کے بعد سامنے آیا۔
وہ گزشتہ جمعے کو نمونیا کے باعث انتقال کر گئی تھیں تاہم ان کی موت کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہوسکی تھی۔
موت کی خبر کے بعد روس میں طاعون پھیلنے کے خدشات ظاہر کیے گئے اور بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ممکنہ متاثرین کی جانچ کے لیے تقریباً 200 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا۔
ان اطلاعات نے بین الاقوامی سطح پر تشویش پیدا کی جبکہ عالمی ادارۂ صحت نے بھی روس سے خاتون کی موت کی وجہ کے بارے میں مزید معلومات طلب کیں۔
روسی صحت کے حکام نے تاہم ملک میں طاعون کی وبا پھوٹنے کے خطرے کو مسترد کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی اس معاملے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے روس کو مدد کی پیشکش کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
تاحال دستیاب معلومات میں داریا شپیلوا کی موت کی حتمی وجہ اور طاعون سے ممکنہ تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی۔
روسی حکام نے دوسری ہلاکت کی خبروں کو مسترد کیا ہے اس لیے وبا یا مزید اموات سے متعلق دعوؤں کو مصدقہ حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔