سفارت کاری کا آخری راستہ

جنگ میں اصل کامیابی صرف دشمن کی عسکری صلاحیت کو نقصان پہنچانے سے حاصل نہیں ہوتی

جنگ کے میدان میں کبھی سب سے خطرناک سوال یہ نہیں ہوتا کہ اگلا میزائل کہاں گرے گا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اگلا فیصلہ کون کرے گا اور اس فیصلے کی آخری ذمے داری کس کے ہاتھ میں ہوگی۔ ایران کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ انھیں معلوم نہیں اس وقت ایران کو کون چلا رہا ہے، محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ موجودہ بحران کی پیچیدگی کا ایک سنگین اعتراف بھی ہے۔

کسی ریاست کی قیادت اور فیصلہ سازی کے بارے میں ابہام جنگ کے دوران معمولی معاملہ نہیں ہوتا۔ ایسی صورت حال غلط اندازوں، غیر متوقع ردعمل اور ایسے فیصلوں کا راستہ کھول سکتی ہے جن کے نتائج بعد میں قابو سے باہر ہو جائیں۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی متوازی بحرانوں کی زد میں ہے اور اب ایران کا تنازع یمن، سعودی عرب، خلیج، بحیرہ احمر اور عالمی توانائی کی منڈی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اس لیے ایک محاذ پر اٹھنے والا قدم دوسرے محاذ پر نئی آگ بھڑکانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے ایرانی قیادت کی دوسری صف کے بھی ختم ہونے کا دعویٰ اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اگر واقعی فیصلہ سازی کا روایتی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے تو اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ ایران جنگ سے باہر ہو گیا یا اس کی مزاحمت ختم ہو گئی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھتا ہے تو جنگی فیصلے بعض اوقات مزید مرکزی، سخت اور غیر متوقع ہو جاتے ہیں۔

اس کے برعکس اگر واشنگٹن خود یہ تسلیم کر رہا ہے کہ اسے تہران میں اصل اختیار رکھنے والی قیادت کے بارے میں مکمل یقین نہیں، تو پھر کسی بڑے فوجی حملے کا فیصلہ کس درجے کے خطرے کو قبول کرتے ہوئے کیا جائے گا؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کی روشنی میں موجودہ امریکی حکمت عملی کو پرکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر ممکنہ بڑے حملے کی تیاری کی اطلاعات اس خدشے کو مزید گہرا کرتی ہیں کہ کہیں عسکری دباؤ سفارتی راستوں کو ہی بند نہ کر دے۔

جنگ میں اصل کامیابی صرف دشمن کی عسکری صلاحیت کو نقصان پہنچانے سے حاصل نہیں ہوتی، فیصلہ کن مرحلہ اس وقت آتا ہے جب فوجی کارروائی اپنے سیاسی مقصد کو بھی حاصل کرے۔ اگر مقصد اور نتیجے کے درمیان فاصلہ بڑھتا جائے تو جدید ہتھیار، فضائی برتری اور وسیع فوجی وسائل بھی سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں رہتے۔ ایران کی روایتی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچنے کے دعوے اپنی جگہ، لیکن تہران کی غیر روایتی جنگی حکمت عملی نے امریکی حساب کتاب کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ڈرون، میزائل، سائبر کارروائیاں، منتشر اہداف اور بالواسطہ محاذ ایسے عوامل ہیں جنھوں نے جدید جنگ کو محض طیاروں اور میزائلوں کی تعداد کا مقابلہ نہیں رہنے دیا۔ کسی بڑی طاقت کی تکنیکی برتری بھی اس وقت محدود ہو جاتی ہے جب مخالف فریق جنگ کے میدان کو غیر متوقع اور کثیرالجہتی بنا دے۔

روس کی جانب سے تہران کو کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے لیے ثالثی کی پیشکش بھی اسی وسیع تناظر میں اہم ہے۔ یہ تنازع اب صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان دو طرفہ کشمکش نہیں رہا۔ اس کے اثرات عالمی طاقتوں کے مفادات، توانائی کی رسد، علاقائی سلامتی اور نئی سفارتی صف بندیوں تک پھیل چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں روس ہو یا کوئی خلیجی ریاست، ثالثی کا ہر راستہ جنگ کے خاتمے کی ممکنہ کھڑکی سمجھا جانا چاہیے۔ سفارتی کوشش کو کمزوری سمجھنے کی بجائے اسے تباہی کا دائرہ محدود کرنے کی آخری عملی گنجائش تصور کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

بحران کا ایک انتہائی تشویش ناک پہلو یمن کا دوبارہ بڑے علاقائی تصادم کے مرکز میں آ جانا ہے۔ حوثیوں کے ریاض، ابہا، خمیس مشیط اور عدن کے ہوائی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے، سعودی تنصیبات کو لاحق خطرات اور باب المندب کے گرد بڑھتی ہوئی جھڑپیں اس بات کی علامت ہیں کہ جنگ کا جغرافیہ مسلسل پھیل رہا ہے۔ ہوائی اڈوں پر شہریوں کی ہلاکتیں اور درجنوں افراد کا زخمی ہونا کسی بھی عسکری منطق سے زیادہ ایک انسانی المیے کی تصویر پیش کرتا ہے۔ دو لاکھ سے زائد افراد کا بے گھر ہونا بھی واضح کرتا ہے کہ طاقت کی اس کشمکش کی سب سے بھاری قیمت وہ عام لوگ ادا کر رہے ہیں جن کے پاس نہ جنگ شروع کرنے کا اختیار ہے اور نہ اسے ختم کرنے کا فیصلہ۔

باب المندب محض ایک علاقائی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی تجارت اور بحری آمدورفت کے اہم راستوں میں شامل ہے۔ یہاں عدم استحکام میں اضافہ ہوا تو جہاز رانی کے اخراجات، بیمہ، رسد کے نظام اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں براہ راست متاثر ہوں گی۔ یمن کا بحران اس طرح خلیج سے بحیرہ احمر اور وہاں سے عالمی معیشت تک پہنچنے والی ایک ایسی لہر بن سکتا ہے جس کا اثر جنگ زدہ علاقوں سے ہزاروں میل دور معاشروں تک محسوس کیا جائے گا۔

سعودی عرب میں پاکستانی فوجی اہلکاروں کی موجودگی کی تصدیق اور مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ان کی ذمے داریوں کا ذکر بھی اسی وسیع تر صورت حال میں دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، اس لیے سعودی سرزمین پر پاکستانی فوجی موجودگی کوئی نئی حقیقت نہیں، تاہم موجودہ حالات میں اس تعلق کی حساسیت یقیناً بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کے لیے بنیادی اصول یہی ہونا چاہیے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے اسے کسی ایسے براہ راست جنگی تصادم میں غیر ضروری طور پر نہ دھکیلا جائے جو ملک کی اپنی سلامتی، معیشت اور سفارتی گنجائش کو متاثر کرے۔

ترکیہ کی جانب سے سعودی عرب کو دفاعی اور تکنیکی معاونت، انٹیلی جنس، نگرانی، ڈرون آپریشنز اور لاجسٹک تعاون کی اطلاعات بھی خطے میں نئی دفاعی صف بندی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مکہ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد تیز ہونے کی صورت میں سعودی عرب کے گرد ایک وسیع دفاعی ڈھانچہ تشکیل پا سکتا ہے، لیکن اصل امتحان یہ ہوگا کہ یہ بندوبست محض دفاعی حدود تک محدود رہتا ہے یا یمن کے محاذ کو مزید وسیع کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ دفاعی اتحاد کا مقصد اگر تحفظ کے بجائے محاذ آرائی میں اضافہ بن جائے تو خطے میں استحکام کی بجائے کشیدگی مزید گہری ہوگی۔

پاکستان کے لیے اس پیچیدہ صورت حال میں متوازن سفارت کاری کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اسلام آباد کے پاس سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات، ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت اور خطے میں نسبتاً قابل قبول سفارتی حیثیت کا منفرد امتزاج موجود ہے۔ یہی حیثیت پاکستان کو جنگی صف بندی کا حصہ بننے کے بجائے مذاکرات، رابطہ کاری اور کشیدگی میں کمی کے لیے موثر کردار ادا کرنے کا موقع دیتی ہے۔

پاکستان خلیجی شراکت داروں، ایران، ترکیہ، روس اور دیگر متعلقہ قوتوں کے ساتھ اپنے روابط کو ایسے سفارتی فریم میں استعمال کر سکتا ہے جس کا بنیادی مقصد جنگ کے دائرے کو مزید پھیلنے سے روکنا ہو۔پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار رکھنے والے ملک کے لیے عالمی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول مہنگا ہونے کا مسئلہ نہیں۔ اس کے اثرات بجلی، صنعت، زراعت، نقل و حمل، درآمدی اخراجات اور بالآخر عام آدمی کی قوت خرید تک پہنچتے ہیں۔ اس لیے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پھیلاؤ کو محض خارجہ پالیسی کا مسئلہ سمجھنا ایک بڑی غلطی ہوگی۔ یہ معاشی سلامتی، زرمبادلہ، مہنگائی اور قومی استحکام سے براہ راست جڑا ہوا معاملہ ہے۔

اصل دانش مندی یہ نہیں کہ کون زیادہ طاقتور دکھائی دیتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون جنگ کو اس مقام تک پہنچنے سے روک سکتا ہے جہاں واپسی کا راستہ باقی نہ رہے۔ اگر امریکا واقعی یہ نہیں جانتا کہ ایران میں فیصلہ سازی کس کے ہاتھ میں ہے تو ایسی صورت میں مزید بڑے حملے کے بجائے سفارتی رابطوں کو ترجیح دینا زیادہ ذمے دارانہ راستہ ہوگا۔ ایران کو بھی شدید جنگی دباؤ کے باوجود ایسے دروازے کھلے رکھنے چاہییں جہاں سے مذاکرات کی روشنی داخل ہو سکے۔ سعودی عرب، ترکیہ، پاکستان، روس اور خلیجی ریاستیں اپنی اپنی سطح پر کشیدگی محدود کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ دنیا کو اس وقت کسی نئی فتح کے جشن سے زیادہ ایک ایسے راستے کی ضرورت ہے جو مزید محاذ کھلنے، مزید معاشی تباہی پھیلنے اور مزید بے گناہ جانیں ضایع ہونے سے پہلے جنگ کو روک دے۔

پاکستان کو اس موقع پر اپنی سفارتی گنجائش کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی رابطہ کاری میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اسلام آباد اگر واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے ساتھ بیک وقت موثر رابطے برقرار رکھے تو وہ غلط فہمیوں کے خاتمے اور مذاکرات کے لیے قابلِ عمل راستہ نکال سکتا ہے۔ خطے میں پاکستان کی اصل قوت کسی ایک فریق کی حمایت نہیں بلکہ مختلف فریقوں سے بات کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہی غیر جانب دارانہ توازن پاکستان کو ایک ذمے دار ثالث کا کردار دے سکتا ہے، اگر جنگ بندی کی کوئی نئی کوشش شروع ہوتی ہے تو پاکستان کو اس میں محض شریک نہیں بلکہ فعال سہولت کار بننے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ خطے کا امن براہِ راست پاکستان کی سلامتی اور معاشی استحکام سے جڑا ہے۔

Load Next Story