ہمارے خواب صرف ہمارے ہی ہوتے ہیں

خواب تو سب دیکھتے ہیں لیکن اہم یہ ہے کہ وہ خواب ہمارے لیے کیا معنی رکھتے ہیں

خواب صرف ہماری آنکھوں میں نہیں بلکہ ہماری روح میں پلتے ہیں۔ خواب صرف سوتے ہوئے نہیں دیکھے جاتے بلکہ خواب تو وہ ہوتے ہیں جنہیں کھلی آنکھوں سے دن کے اجالے میں، چلتے پھرتے دیکھا جائے جو انسان کی روح کو بے چین کر دیں۔

ہم سب کے کچھ نہ کچھ خواب ہوتے ہیں، کوئی اچھی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے تو کوئی بہتر زندگی کے خواب دیکھتا ہے، کوئی اپنے بچوں اور ان کے مستقبل کے خواب بُنتا ہے، کوئی اچھی ملازمت کے، تو کوئی نوکری چھوڑ کر کاروبار کرنے کے خواب دیکھتا ہے، کوئی ادیب تو کوئی شاعر بننا چاہتا ہے۔ غرض سب کے خواب ہوتے ہیںـ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی کا کوئی خواب نہ ہو، ہاں سب کے لیے ان کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ جب ایک خواب پورا ہو جاتا ہے تبھی ایک اور نئے خواب کی تخلیق ہوجاتی ہے۔ زندگی گزرتی جاتی ہے اور وقت کے ساتھ نئے خواب بھی سجتے چلے جاتے ہیں۔

خواب دیکھنا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن اپنے خوابوں کو دوسروں کی نظروں سے دیکھنا یا ان کی باتوں کے ترازو میں تولنا غلط ہے، کیونکہ ہمارے دل کی بات یا ہمارے خوابوں کی اہمیت اور افادیت کوئی دوسرا سمجھ ہی نہیں سکتا۔ بے شک وہ شخص ہمارا کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو۔

جب ہم کسی کے سامنے اپنے دل کی بات کرتے ہیں تو وہ ہنس دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، یا یہ کام تم کر ہی نہیں سکتے۔ کوئی کہتا ہے کہ اچھی بھلی زندگی گزر رہی ہے کیوں اتنا بڑا خطرہ مول لے رہے ہو۔ کوئی کہتا ہے کہ زندگی خوابوں کے سہارے نہیں چلتی، حقیقت پسند بنو، خوابوں کی دنیا سے باہر نکلو، یہ زندگی ہے کتابی باتیں نہ کرو، وغیرہ وغیرہ۔

بظاہر تو یہ سادہ سی باتیں ہیں جو لوگ کچھ سوچے سمجھے اور آپ کے احساسات کا خیال کیے بغیر بول تو دیتے ہیں اور اکثر اوقات بول کر بھول بھی جاتے ہیں، لیکن ان کی باتوں کا اثر ہمارے دل و دماغ پر ہوتا ہے اور برسوں سے انسان کے اندر جو امید کا چراغ جلا ہوتا ہے وہ مدہم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

جب ہم کسی سے اپنے خوابوں کا ذکر کرتے ہیں تو وہ اپنی ذاتی سمجھ اور تجربات کی روشنی میں ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ کوئی دوسرا آپ کے خوابوں کو سمجھ ہی نہیں سکتا، بے شک آپ ان کو جتنا مرضی سمجھا لیں یا قائل کرنے کی کوشش کرلیں۔ ایک مینڈک کی مثال لیتے ہیں جو تالاب میں رہتا ہے، اُس نے اِس سے باہر کی دنیا دیکھی ہی نہیں ہے تو اُسے کیسے معلوم ہوگا کہ سمندر کس قدر وسیع اور گہرا ہے۔ اس کے لیے تو سمندر کا نام ہی نیا ہے، لہٰذا وہ کیسے اس کی گہرائی یا اس کے محرکات کے بارے میں بتا سکتا ہے۔

ہمارے خواب صرف ہمارے ہوتے ہیں، ان کی اہمیت کوئی دوسرا سمجھ ہی نہیں سکتا۔ اس لیے لوگ اس راستے پر چلنے سے منع کرتے ہیں کیونکہ ان کے لیے وہ راستہ انجان ہے۔ ویسے بھی دوسرے لوگ آپ کو ترقی کرتا یا کچھ ہٹ کر کرتا دیکھ ہی نہیں سکتے اور کامیابی تبھی ملتی ہے جب ہم کچھ مختلف، کچھ منفرد کرتے ہیں، اپنے دل کی سنتے ہیں۔

ہماری یہ عادت ہے کہ ہم اکثر کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے اپنے اردگرد لوگوں سے مشورہ کرتے ہیں۔ اب یہ دیکھنا اہم ہے کہ ہم جس سے مشورہ کر رہے ہیں کیا وہ اس قابل ہے بھی یا نہیں؟ کیا اس کو اس بارے میں معلومات یا تجربہ ہے۔ اگر ہم محض اس لیے مشورہ کر رہے ہیں کہ وہ ہمارا قریبی عزیز ہے یا قابلِ احترام ہے یا ہم سے عمر و تجربہ میں بہت بڑا ہے تو یہ غیر مناسب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اسی شخص سے مشورہ طلب کریں جو اس کام کا یا شعبہ کا ماہر ہو یا معلومات رکھتا ہو۔ کچھ لوگ ہمارے مخلص تو ہوتے ہیں اور بھلا بھی چاہتے ہیں لیکن منع اس لیے کرتے ہیں کہ ہمیں نقصان نہ ہو۔ لہٰذا آپ میں خود اتنی عقل، سمجھ بوجھ ہونی چاہیے کہ اپنا فیصلہ خود کرسکیں اور اتنی ہمت اور طاقت ہونی چاہیے کہ اس کیے گئے فیصلے پر عمل پیرا ہوسکیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ صرف خواب دیکھنا کافی نہیں ہوتا اس سلسلے میں ہمارا اٹھایا پہلا قدم اہم ہوتا ہے۔ اب ضروری نہیں کہ ہم جو کام کریں وہ پہلی دفعہ میں ہی بہت اچھا ہوجائے اور ہم اپنا خواب پالیں۔ منزل کو پانے میں اکثر سالہا سال لگ جاتے ہیں اور کبھی تو پوری عمر گزر جاتی ہے لیکن خواب پورے نہیں ہوتے۔

کچھ لوگ ناکامی کے خوف سے خواب ادھورے چھوڑ دیتے ہیں۔ دراصل ناکامی ہمیں سکھاتی ہے، دروازے بند نہیں کرتی۔ ہاں جب ناکام ہوجائیں تو اپنا جائزہ لیں اور محاسبہ کریں۔ دیکھیں کہ کہاں غلطی ہوئی ہے، کہاں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ یعنی اپنی حکمتِ عملی کو تبدیل کریں، نہ کہ مایوس ہو کر بیٹھ جائیں۔ کامیاب وہی ہوتا ہے جو اپنی ناکامیوں سے، اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے اور ان کو دوبارہ نہیں دہراتاـ

وقت کے ساتھ خود احتسابی بہت ضروری ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ خواب کو پورا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ ضد پر اڑ جائیں اور یہ سوچیں کہ سب لوگ غلط ہیں اور صرف آپ ٹھیک ہیں اور اپنا نقصان کر بیٹھیں۔ کبھی کبھی دوسروں کی تنقید میں بھی وہ حقیقت چھپی ہوتی ہے جو ہمیں اس وقت جوش میں نظر نہیں آتی یا ہم نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر تنقید کا جواب نہ دیا جائے، کسی سے کسی معاملے میں بحث نہ کی جائے، کیونکہ آپ کی کامیابی ہی جواب ہوتی ہے۔

اگر آپ زندگی میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ضروری نہیں کہ آپ ایک دم سے بڑا قدم اٹھائیں اور سب کو اعلان کرکے بتائیں، بلکہ خاموشی سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر اپنا کام کرتے رہنا چاہیے اور آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے۔ کامیابی خود شور مچاتی ہے اور بے شمار لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو اس طویل عرصے کی محنت اور جدوجہد کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔

ہمیں اپنے خوابوں کو پورا کرنے کےلیے کسی کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی اور منزل گھر سے نکلتے ہی نہیں مل جاتی۔ یہ ایک طویل اور صبر آزما سفر ہوتا ہے جس میں مستقل مزاجی سب سے اہم ہے۔ ہمیں تھک کر مایوس ہوکر اپنے خوابوں کو چھوڑنا نہیں چاہیے بلکہ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ کبھی کبھار دوسرا دروازہ تبھی کھلتا ہے جب پہلا بند ہوتا ہے۔ جب ہم چلتے ہیں، تبھی راستے بننا شروع ہوتے ہیں۔

خواب تو سب دیکھتے ہیں لیکن اہم یہ ہے کہ وہ خواب ہمارے لیے کیا معنی رکھتے ہیں۔ ہم اس کو حاصل کرنے کے لیے کس قدر سنجیدہ ہیں اور کتنا وقت، کتنی محنت کرسکتے ہیں۔ لوگوں کا ہم پر یقین ہونا نہیں بلکہ ہمارا خود پر اور اپنی صلاحیتوں پر یقین ہونا اہمیت رکھتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے دن رات تگ دو کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں اور اپنے لیے خود ہی راستے بناتے ہیں۔

جب تک ہمارے اندر اپنی صلاحیتوں پر یقین پیدا نہیں ہوگا، ہم کبھی بھی زندگی میں کچھ نہیں کرسکیں گے۔ لہٰذا خود پر توجہ دیں، اپنے دل کی بات سنیں، اپنا جائزہ لیں، کیونکہ خواب وہ نہیں جو صرف بند آنکھوں سے دیکھا جائے، بلکہ خواب وہ ہے جس کےلیے آنکھیں کھول کر، اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتوں کو استعمال کرکے دن و رات محنت کی جائے اور راستے میں آنے والی ہر طرح کی مشکلات کےلیے تیار رہا جائے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story