ڈنکی روٹ کا بڑا گینگ بے نقاب، دو ایجنٹ گرفتار، 21 افراد تحویل میں
ایف آئی اے کی جانب سے بازیاب کرائے گئے افراد، چھوٹی تصاویر دو ملزمان کی ہے (فوٹو: ایف آئی اے)
ایف آئی اے نے ڈنکی روٹ کے ذریعے پاکستانی شہریوں کو بیرون ملک بجھوانے والے گینگ کو بےنقاب کرتے ہوئے دو ایجنٹ کو گرفتار کرلیا، بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں اور کراچی سے مافیا کے ہاتھوں ٹریپ ہوئے 21 افراد کو تحویل لے لیا گیا، بازیاب افراد کو ترکیہ، گریس اور سائپرس سمیت دیگر میں ڈنکی کے ذریعے روانہ کیا جانا تھا۔
اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر افروز کلوڑ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ انسانی اسمگلرز کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران دو ایجنٹس بابر شہزاد اور امتیاز ملک کو گرفتار کیا گیا جو کہ 20 سال سے پاکستانی شہروں کو ورغلا کر ڈنکی روٹس سے بیرون ملک بجھوانے کا گھناؤنا دھندا کر رہے تھے، کارروائی میں یورپ جانے کی کوشش کرنے والے 16 افراد کو بھی تحویل میں لیا گیا ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق مذکورہ افراد ایران اورعراق کے زمینی راستوں کے ذریعےغیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے،اس مقصد کے لیے استعمال ہونے والے راستے کو عام طور پر ڈنکی روٹ کہا جاتا ہے،جہاں غیر محفوظ سرحدی گزرگاہوں اور غیر قانونی سفری انتظامات کے باعث انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار ملزمان نے مبینہ طور پر بھاری رقوم کے عوض مذکورہ افراد کے سفر اور دیگر انتظامات کیے،اس امر کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ان انتظامات میں کون سے افراد اور سہولت کار ملوث تھے اور غیر قانونی ہجرت کے اس نیٹ ورک کا دائرہ کس حد تک پھیلا ہوا ہے۔
ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کے تفتیشی آفیسر مسرور بلوچ کا ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں کہنا تھا کہ مذکورہ افراد میں 16 کو بلوچستان جبکہ 5 کو کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ سے بازیاب کروایا گیا، سینٹرل پنجاب سے کراچی آنے والے اور بعد ازاں بلوچستان اور اس کے بعد ایران کے ساحلی مقام چاہ بہار تک زمینی اور سمندر کے راستے سے اسمگل ہونے والے ان افراد کو عراق اور ترکی میں مختلف قسم کی ملازمتوں کا جھانسہ دیا گیا تھا جبکہ کچھ کو جیوانی (بلوچستان) کے بعد چاہ بہار (ایران) اور بعد ازاں انھیں ڈنکی روٹس کے ذریعے ترکیہ، گریس اور سائپرس روانہ کیا جانا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ افراد سے 5 لاکھ روپے فی کس وصول کیے گئے، اس ساری کارروائی میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ ان میں ماضی میں تاوان بھی وصول کرچکے ہیں جبکہ کئی کے جسمانی اعضا نکال کر فروخت کرنے کے چشم کشا انکشافات بھی ہوئے۔
مسرور بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں کراچی میں ڈنکی کے روٹس کے لی مارکیٹ اور دیگرعلاقوں میں قائم منظم اسٹاپ ختم کردی تھے جبکہ بین الاقوامی روٹس میں بھی کافی حد تک سختیاں بڑھا دی گئی ہیں جس کی وجہ سے اب اس قسم کا دھندہ کرنے والے مافیا معصوم شہریوں کو گروپ کی شکل میں نہیں بلواتے، کسی پنجاب کے مختلف علاقوں سے بسوں، کسی کو بذریعہ ٹرین بلوایا جاتا ہے، کراچی میں قیام کے دوران انھیں صدر میں مختلف ہوٹلوں میں رکھا جاتا ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف پریوینشن آف اسمگلنگ آف مائیگرنٹس ایکٹ اور انسانی اسملنگ سے متعلق دیگر قابل اطلاق قوانین کے تحت قانونی کارروائی شروع کردی گئی،مزید تفتیش کے ذریعے نیٹ ورک کے دیگر ارکان، مالی روابط اور سہولت کاروں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
ایف آئی اے انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ شہریوں کو غیر محفوظ راستوں اور جھوٹے سفری وعدوں کے ذریعے استحصال سے بچانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔