معاشی استحکام کے دعوے اور عوامی کرب
پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان ایک ارب اکیس کروڑ ڈالر کی پانچویں قسط کے لیے اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پانا بلاشبہ اہم پیش رفت ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد اس رقم کی فراہمی سے ملک کو ادائیگیوں کے توازن، زرِمبادلہ کی دستیابی اور مالیاتی ضروریات پوری کرنے میں سہارا مل سکتا ہے۔
دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو فراہم کی جانے والی مجموعی رقم پانچ ارب ستر کروڑ ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان میں اصلاحاتی عمل کی رفتار اور معاشی استحکام کی کوششوں کو تسلیم کیا ہے، جب کہ اقتصادی ترقی کی شرح تین اعشاریہ چھ فیصد رہنے کا تخمینہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس مالی سہولت سے حاصل ہونے والی مہلت کو ملک کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے گا یا قرضوں کی ادائیگی اور فوری مالی ضرورتوں کے چکر میں ایک بار پھر ضایع کر دیا جائے گا۔
پاکستانی معیشت کا تجزیہ کیا جائے تو اس کی بنیادی کمزوریوں میں قرضوں پر انحصار، محدود ٹیکس بنیاد، کمزور صنعتی نمو، غیر مؤثر سرکاری ادارے اور غیر متوازن معاشی ترجیحات نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔ ملک کو جب بھی بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کا سامنا ہوتا ہے تو قرض، نئی مالیاتی شرائط اور اخراجات میں کٹوتیوں کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ وقتی طور پر بحران ٹل جاتا ہے، مگر وہ ساختی بیماریاں برقرار رہتی ہیں جو کچھ عرصے بعد معیشت کو دوبارہ اسی مقام پر لے آتی ہیں۔ یہ سلسلہ اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک قومی آمدن میں اضافے کے پائیدار ذرائع پیدا نہیں کیے جاتے۔
قرض لینا اگر کسی پیداواری منصوبے، برآمدی صلاحیت میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی یا توانائی کے نظام کی بہتری کے لیے ہو تو اس سے مستقبل میں آمدن پیدا ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے، لیکن اگر قرض کا بڑا حصہ سابقہ واجبات کی ادائیگی اور جاری مالی خسارے پورے کرنے میں صرف ہو تو ملک کی مالی خودمختاری مزید محدود ہوتی جاتی ہے۔ معیشت کو محض قرض کی اگلی قسط تک پہنچانے کے بجائے اس مقام تک لے جانا ضروری ہے جہاں اسے ہر چند ماہ بعد نئی مالیاتی بیساکھیوں کی ضرورت نہ پڑے۔
عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدے میں پیٹرول پر سبسڈی کی اسکیم مرحلہ وار ختم کرنے، توانائی کے نرخوں میں بروقت ردوبدل، سماجی و صحت کے شعبوں کے اخراجات بہتر بنانے اور سرکاری ملکیتی اداروں کی حکمرانی موثر کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ ان شرائط کو صرف بیرونی دباؤ کا نتیجہ قرار دینا بھی درست نہیں، کیونکہ خسارے میں چلنے والے ادارے، توانائی کے شعبے کے مالی مسائل اور سرکاری وسائل کا غیر مؤثر استعمال پاکستان کے اپنے معاشی مسائل ہیں۔ تاہم کسی اصلاح کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس کا بوجھ کس پر پڑتا ہے اور اس کے فوائد کس طبقے کو حاصل ہوتے ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے حکومت کو محصولات کی صورت میں فایدہ پہنچ سکتا ہے، لیکن اس کا اثر صرف گاڑی چلانے والے شخص تک محدود نہیں رہتا۔ مال برداری مہنگی ہوتی ہے، زرعی مشینری کے اخراجات بڑھتے ہیں، اشیائے خورونوش کی ترسیل مہنگی پڑتی ہے اور یوں قیمتوں کا دباؤ پوری معیشت میں پھیل جاتا ہے۔ غریب شہری کے پاس نہ ذاتی سواری ہوتی ہے، نہ زیادہ ایندھن استعمال کرنے کا اختیار، لیکن کرایوں اور روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ اسے بھی اٹھانا پڑتا ہے۔
اس تناظر میں پیٹرول پر سبسڈی کے خاتمے کا فیصلہ کرتے وقت یہ فرق ملحوظ رکھنا ناگزیر ہے کہ عمومی رعایت اور مستحق طبقے کے لیے ہدفی امداد ایک جیسی چیزیں نہیں، اگر سبسڈی کا فایدہ غیر مستحق اور زیادہ وسائل رکھنے والے افراد بھی حاصل کر رہے ہوں تو اس نظام کی اصلاح ضروری ہے، لیکن اس کے متبادل میں کم آمدن والے گھرانوں کو موثر تحفظ فراہم کیے بغیر امداد ختم کر دینا سماجی مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
حکومت کو مستحق افراد کی درست نشاندہی، امدادی رقوم کی بروقت ادائیگی اور شفاف نگرانی کا ایسا نظام بنانا ہوگا جو سیاسی وابستگی یا انتظامی سفارش کے بجائے حقیقی ضرورت کی بنیاد پر کام کرے۔ امدادی رقم اگر مہنگائی کی رفتار سے مطابقت نہ رکھتی ہو تو اس کی افادیت بھی محدود رہ جاتی ہے۔ اسی طرح صحت اور سماجی تحفظ کے اخراجات میں بہتری کا مطلب صرف بجٹ میں رقم مختص کرنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ علاج، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے لیے مختص وسائل حقیقی مستحقین تک پہنچیں۔
معاشی بحران کی سب سے نمایاں تصویر روزگار کی سکڑتی ہوئی منڈی اور گھریلو بجٹ کی بے بسی میں دیکھی جا سکتی ہے۔ چھوٹے کاروبار بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں، مہنگے خام مال، بلند مالیاتی لاگت اور محدود طلب کے باعث توسیع سے گریز کرتے ہیں۔ نئی صنعتیں لگانے والے سرمایہ کار کو پالیسیوں کے تسلسل، توانائی کی دستیابی، ٹیکسوں کے پیچیدہ نظام اور کاروباری اخراجات کے بارے میں یقین درکار ہوتا ہے۔ جب ان عوامل میں غیر یقینی برقرار رہے تو سرمایہ کاری رک جاتی ہے، پیداوار محدود ہوتی ہے اور نئی ملازمتوں کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں بھٹکتے ہیں، ہنرمند افراد بہتر مواقع کے لیے بیرون ملک جانے پر مجبور ہوتے ہیں اور کم آمدن والے گھرانے غیر رسمی کاموں پر انحصار بڑھا دیتے ہیں۔
پاکستانی معیشت میں زراعت کا شعبہ بھی اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق کردار ادا نہیں کر پا رہا۔ کسان بیج، کھاد، ڈیزل، بجلی اور زرعی ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرتا ہے، لیکن فصل تیار ہونے پر اسے اکثر منڈی میں مناسب معاوضہ نہیں ملتا۔ گندم کی مثال واضح کرتی ہے کہ زرعی پیداوار اور کسان کی خوش حالی کے درمیان کس قدر فاصلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ فصل اگانے والا کسان مالی خطرات برداشت کرتا ہے، جب کہ منڈی کے پیچیدہ نظام میں درمیانی کردار ادا کرنے والے بعض عناصر قیمتوں کے فرق سے زیادہ فایدہ اٹھا لیتے ہیں۔ نتیجتاً کسان کی آمدن محدود رہتی ہے اور اگلی فصل کے لیے سرمایہ جمع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس صورت حال سے نکلنے کے لیے زرعی منڈیوں کو شفاف بنانا، ذخیرہ کرنے کی سہولتیں بڑھانا، جدید آب پاشی متعارف کرانا، معیاری بیجوں کی دستیابی یقینی بنانا اور کسان کو منڈی کی حقیقی قیمتوں تک رسائی دینا ضروری ہے۔ زرعی اجناس کی پراسیسنگ اور خوراک سے متعلق صنعتوں کی ترقی بھی دیہی معیشت میں روزگار پیدا کر سکتی ہے۔ اگر زرعی پیداوار کو محض خام جنس کے طور پر فروخت کرنے کے بجائے اس کی قدر میں اضافہ کیا جائے تو برآمدات اور کسان کی آمدن دونوں بہتر ہو سکتے ہیں۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت کے لیے اہم سہارا ہیں۔ ان ترسیلات سے لاکھوں خاندانوں کے گھریلو اخراجات پورے ہوتے ہیں اور ملک کو زرِمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے، لیکن ان رقوم کو مستقل معاشی ترقی کا متبادل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
یہ رقوم بنیادی طور پر محنت کرنے والے پاکستانیوں کی کمائی ہیں، جن کا بڑا حصہ اہل خانہ کی ضروریات، تعلیم، علاج، رہائش اور روزمرہ اخراجات پر صرف ہوتا ہے۔ حکومت کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ ترسیلات کے ذریعے حاصل ہونے والے زرِمبادلہ کے ساتھ ملکی برآمدات، صنعتی پیداوار اور سرمایہ کاری میں بھی اضافہ کیا جائے۔ اگر ملک اپنی درآمدی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل بیرونی قرضوں اور ترسیلات پر انحصار کرتا رہے تو بیرونی کھاتے کا بنیادی عدم توازن برقرار رہ سکتا ہے۔ برآمدی صنعتوں کو سہولتیں، چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو آسان قرض، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور مقامی پیداوار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اسی لیے ضروری ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ نے جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تیل کی غیر مستحکم قیمتوں، عالمی مالیاتی حالات میں سختی اور تجارتی رکاوٹوں کو پاکستان کی معیشت کے لیے خطرات قرار دیا ہے۔ یہ خدشات اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ درآمدی توانائی پر زیادہ انحصار کرنے والی معیشت بیرونی بحرانوں سے جلد متاثر ہوتی ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع، شمسی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار، ترسیلی نظام کی بہتری اور بجلی چوری کی روک تھام کے بغیر صنعتی لاگت کم کرنا مشکل رہے گا۔ اسی طرح سرکاری ملکیتی اداروں کی حکمرانی بہتر بنانے کے لیے سیاسی مداخلت، غیر ضروری تقرریوں اور ناقص انتظامی فیصلوں پر قابو پانا ہوگا۔
حکومت کو اپنی ترجیحات واضح کرنا ہوں گی، غیر ضروری اخراجات میں کمی، ٹیکس نظام میں انصاف، صنعتوں کے لیے پالیسیوں کا تسلسل، زرعی منڈیوں کی اصلاح، توانائی کی لاگت میں پائیدار کمی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع۔ ان اقدامات کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر تعاون بھی ناگزیر ہے، کیونکہ زراعت، تعلیم، صحت اور مقامی ترقی جیسے شعبوں میں نتائج مشترکہ کوششوں سے ہی حاصل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت کو قرضوں کے سہارے چلنے والے نظام سے نکال کر پیداوار، برآمدات، منصفانہ محصولات اور انسانی ترقی پر استوار کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ورنہ ہر نئی قسط کے ساتھ وقتی اطمینان تو حاصل ہوتا رہے گا، مگر عام آدمی کی زندگی میں بہتری کا انتظار طویل تر ہوتا جائے گا۔