قلم ، کتاب اورسیاہی

قوموں کی زندگی میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں،جب انھیں اپنے مستقبل کی سمت متعین کرنا ہوتی ہے۔

قوموں کی زندگی میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں،جب انھیں اپنے مستقبل کی سمت متعین کرنا ہوتی ہے۔ یہ سمت محض جذباتی نعروں، عارضی فیصلوں یا محض طاقت کے اظہار سے متعین نہیں ہوتی بلکہ اس سوچ سے جنم لیتی ہے جو ایک پوری نسل کے ذہنوں میں پروان چڑھتی ہے۔

ایک بچے کے ہاتھ میں پکڑا ہوا قلم، اس کے سامنے کھلی کتاب اور اسے علم کی روشنی دکھانے والا استاد بظاہر ایک معمولی منظر ہیں، مگر حقیقت میں یہی وہ بنیادی ستون ہیں جس پر پائیدار معاشروں کا مستقبل تعمیر ہوتا ہے۔ تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے یا معلومات جمع کرنے کا نام نہیں، بلکہ انسان کے اندر تنقیدی سوچ، اخلاقی شعور اور حالات کو مثبت سمت میں بدلنے کی صلاحیت بیدار کرنے کا عمل ہے۔

جب ایک نسل کو سوال کرنے، دریافت کرنے اور تخلیقی انداز میں سوچنے کا موقع ملتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے لیے بہتر مستقبل کی راہ ہموار کرتی ہے بلکہ پورے معاشرے کو فکری جمود سے نکال کر حقیقی ترقی کی طرف لے جانے کی صلاحیت بھی حاصل کرتی ہے۔

پاکستان کے مستقبل کی بات کرتے ہوئے صرف اسکولوں کی تعداد، عمارتوں یا امتحانی نتائج پر گفتگو کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے بچوں کو کس معیار کی تعلیم مل رہی ہے، ان کے ذہنوں میں کیسے خیالات پرورش پا رہے ہیں اور ان کے ہاتھ میں قلم کے ذریعے اپنا مستقبل بنانے کے کتنے حقیقی مواقع موجود ہیں۔ پاکستان کی سب سے بڑی قوت اس کی باصلاحیت نوجوان آبادی ہے، لیکن نوجوان اسی وقت قومی طاقت بنتے ہیں جب انھیں معیاری تعلیم، جدید ہنر، تحقیق اور عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ آج بھی لاکھوں بچوں کا اسکولوں سے باہر ہونا اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ تعلیمی میدان میں ہمیں ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔

ایک بچہ جب کتاب کی روشنی سے محروم رہ جاتا ہے تو یہ محرومی صرف اس کے بچپن تک محدود نہیں رہتی، اس کے منفی اثرات اس کی معاشی زندگی، سماجی حیثیت اور آنے والی کئی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں، یوں ایک بچے کے ہاتھ سے چھوٹنے والا قلم دراصل پورے معاشرے کے امکانات کو محدود کر دیتا ہے۔

تعلیم کی اصل طاقت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ انسان کی سوچ، رویے اور کردار کو تبدیل کرتی ہے۔ کتاب انسان کو سوال کرنا، دلیل سننا، اختلاف برداشت کرنا اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا سکھاتی ہے۔ یہی اخلاقی شعور ایک فرد کو محض پڑھا لکھا نہیں بلکہ ایک باشعور انسان بناتا ہے۔ جس معاشرے میں علم اور مطالعے کی روایت مضبوط ہو، وہاں پیچیدہ مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کے لیے مکالمے اور منطقی دلیل کی گنجائش بڑھتی ہے۔

اس کے برعکس جب علم کا رشتہ کمزور پڑنے لگے، کتابوں کی جگہ افواہیں لے لیں اور دلیل پر جذباتی نعرے غالب آجائیں تو غلط فہمیوں، تعصب اور عدم برداشت کے لیے خود بخود جگہ پیدا ہونے لگتی ہے۔ رفتہ رفتہ اچھائی کی آواز مدھم اور برائی کے خلاف اجتماعی مزاحمت کمزور پڑ جاتی ہے۔ یہی وہ نازک مقام ہے جہاں تعلیم کا تعلق صرف کلاس روم سے نکل کر پورے معاشرے کے اخلاقی اور سماجی رویوں سے جڑ جاتا ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں تشدد، نفرت، عدم برداشت اور بداعتمادی جیسے سنگین مسائل پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ان مسائل کا مقابلہ قانون، ریاستی نظم اور موثر اداروں کی مضبوطی کے بغیر ممکن نہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قانون انسان کے ظاہری عمل کو تو روک سکتا ہے، اس کی باطنی سوچ کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کر سکتا۔

پائیدار تبدیلی اس وقت آتی ہے جب انسان خود یہ سمجھنے لگے کہ نظریاتی اختلاف کا جواب تشدد نہیں بلکہ دلیل ہے، محرومی کا جواب نفرت نہیں بلکہ علم ہے اور مایوسی کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے محنت سے حالات بدلے جا سکتے ہیں۔ یہ شعور کسی ایک سیاسی حکم یا تقریر سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ مسلسل تعلیم، تربیت، مطالعے اور مثبت ماحول سے تشکیل پاتا ہے۔ اسی لیے قلم کو صرف لکھنے کا ذریعہ سمجھنا اس کی اصل طاقت کو محدود کرنا ہے۔ قلم انسان کو رک کر سوچنے، اپنی بات شائستگی سے کہنے، دوسروں کو سننے اور اپنی غلطیوں سے سچی اصلاح کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ان کے ہاتھ میں موجود قلم تبدیلی کا ایک پُرامن اور دیرپا ذریعہ ہے۔ ہتھیار صرف خوف پیدا کرتا ہے، جب کہ قلم نئی فکر کو جنم دیتا ہے، طاقت کسی کو عارضی طور پر خاموش کرا سکتی ہے، لیکن علم انسان کو دلیل کے ساتھ اپنی بات کہنے کا ابدی حوصلہ دیتا ہے۔

کتاب ہمیں ماضی کے تجربات سے روشناس کراتی ہے اور یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ دنیا کے دیگر کامیاب معاشروں نے مشکلات سے نکلنے کے لیے کس طرح علم، تحقیق اور تخلیقی سوچ سے کام لیا۔ جن قوموں نے تعلیم کو بنیادی ترجیح بنایا، تحقیق کی حوصلہ افزائی کی اور اپنے بچوں کو سوال کرنے کی آزادی دی، انھوں نے اپنی تاریخی کمزوریوں کو بھی طاقت میں تبدیل کر دیا۔ پاکستان کو بھی ایسی تعلیم کی ضرورت ہے جو طلبہ کو صرف امتحان پاس کرنے کے قابل نہ بنائے بلکہ انھیں زندگی، معاشرے اور دنیا کو گہرائی سے سمجھنے کی صلاحیت دے۔

اس اصلاحی سفر میں استاد کا کردار بنیادی اور کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ استاد صرف کتاب کا سبق پڑھانے والا نہیں بلکہ ذہنوں کی تعمیر کرنے والا معمار ہے۔ ایک اچھا استاد بچے کو صرف جواب یاد نہیں کرواتا بلکہ اسے سوال کرنے، دلیل تلاش کرنے اور اپنے ذہن سے آزادانہ سوچنے کی تربیت دیتا ہے۔ اسی طرح گھر بھی بچے کی پہلی اور سب سے موثر درس گاہ ہے۔

جس گھر میں کتاب کی قدر ہو، سوال کرنے کی آزادی ہو اور علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے، وہاں تعلیم اسکول کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتی۔ جب والدین، اساتذہ اور تعلیمی ادارے ایک مشترکہ مقصد کے لیے کام کرتے ہیں تو صرف ایک تعلیم یافتہ فرد نہیں بلکہ ایک ذمے دار، بااخلاق اور باشعور شہری پروان چڑھتا ہے۔

تاہم یہ تمام تر ذمے داری صرف خاندان اور استاد پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ ریاست کا آئینی فرض ہے کہ وہ پاکستان کے ہر بچے کو تعلیم کا حق عملی طور پر فراہم کرے۔ غربت، دور دراز علاقے میں رہائش، اسکولوں کی کمی، بنیادی سہولتوں کا فقدان یا تعلیمی اخراجات کسی بچے کے روشن مستقبل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے چاہئیں۔

سرکاری اسکولوں کی معیار کے مطابق بہتری، اساتذہ کی جدید تربیت، عصری ضروریات سے ہم آہنگ نصاب، سائنسی و فنی تعلیم، ڈیجیٹل مہارتوں کا فروغ، بچیوں کے لیے تعلیمی مواقع اور اسکول چھوڑنے والے بچوں کو دوبارہ نظامِ تعلیم میں لانا ہماری قومی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔ تعلیم پر خرچ ہونے والا سرمایہ محض آج کے طالب علم پر نہیں ہوتا، اس کے ثمرات آنے والی متعدد نسلوں کے معاشی اور سماجی استحکام کی صورت میں ملتے ہیں۔

تعلیم کو صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھنا بھی اس کے وسیع مقصد کو محدود کرنا ہے۔ ایک ڈاکٹر کو طب کے علم کے ساتھ انسانیت کا شعور، ایک انجینئر کو فنی مہارت کے ساتھ اخلاقی ذمے داری کا احساس، ایک افسر کو اختیار کے ساتھ انصاف کی سمجھ اور ایک عام شہری کو اپنے حقوق کے ساتھ دوسروں کے حقوق کا ادراک ہونا ضروری ہے، اگر تعلیم انسان کے اندر یہ بنیادی شعور پیدا نہ کر سکے تو ڈگریوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود معاشرہ اندر سے کھوکھلا رہتا ہے۔ حقیقی تعلیم وہ ہے جو انسان کو اپنے ذاتی مفاد سے آگے دیکھنے، دوسروں کے دکھ کو محسوس کرنے اور اجتماعی بھلائی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنائے۔

Load Next Story