مودی ہے تو ممکن ہے

باہم سلوک تھا تو اٹھاتے تھے نرم گرم کاہے کو میر کوئی دبے جب بگڑ گئی

مودی جی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی دو ہزار چودہ میں اقتدار میں آئی۔ اگلے دو الیکشن اس نعرے کی بنیاد پر جیتے کہ ’’ مودی ہے تو ممکن ہے‘‘۔ اب بارہ برس کی کرپشن ، لاقانونیت اور آمرانہ ہتکھنڈوں کے ڈھانچے ہندوتوا قوم پرستی کے اس رول ماڈل کی الماری سے نکل نکل کے گر رہے ہیں۔

گذشتہ جولائی میں نئی پیڑھی نے یہ تاثر الٹ کے رکھ دیا کہ ایک بار مودی جی کوئی فیصلہ کر لیں تو اسے بدلنے کے لئے اوروں کی کیا اپنی بھی نہیں سنتے۔

مگر سب نے دیکھا کہ انھیں امتحانی پرچوں کے قبل از وقت افشا ہونے کے اسکینڈل کی پاداش میں جینزی پاور کے آگے جھک کے اپنے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو بلی چڑھانا پڑ گیا۔اس کے بعد مودی جی حسبِ عادت مطمئن ہو گئے کہ اب کاکروچ جنتا پارٹی کے نوجوان اپنے کام سے کام رکھیں گے۔شائد ایسا ہی ہوتا اگر گذشتہ ماہ اخبار انڈین ایکسپریس کی ایک حقائق جو رپورٹ نے بھارتی جمہوری دیگ کا ڈھکن بھک سے نہ اڑا دیا ہوتا۔

اس رپورٹ کے مطابق تین رکنی الیکشن کمیشن کے دو ارکان کے شدید تحفظات کے باوجود چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ووٹنگ لسٹ کی اسکروٹنی کے نام پر ملک بھر میں تیرہ کروڑ ووٹ خارج کر دیے۔ان میں زیادہ تر مسلمان اور ایسے ہندو ووٹر تھے جن کے بارے میں خدشہ تھا کہ وہ بی جے پی کے مخالف ہیں۔

بس پھر کیا تھا کاکروچ جنتا پارٹی کے نوجوان دوبارہ سڑک پر نکل آئے۔تین ماہ پہلے وہ تعلیمی نظام بچانے کے لئے میدان میں اترے تھے۔اس بار جمہوریت بچانے کے لئے پولیس کے ڈنڈے کھا رہے ہیں۔چونکہ کروڑوں ووٹوں کی چوری سیاسی جماعتوں کے مستقبل کا بھی سوال ہے لہذا کاکروچوں کی اس تحریک کی کانگریس ، عام آدمی پارٹی اور کیمونسٹ پارٹی سمیت حزبِ اختلاف کی لگ بھگ سب ہی سرکردہ جماعتیں حمائیت کر رہی ہیں۔

کاکروچ جتنا پارٹی نے دلی کے جنتر منتر میں اپنی پہلی ریلی کے لئے گاندھی جی کا جنم دن ( دو اکتوبر ) چنا۔اس سے یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ تحفظِ جمہوریت کی یہ تحریک عدم تشدد پر مبنی ہو گی۔مگر کیا طرفہ تماشا رہا کہ اس دن ایک جانب وزیرِ اعظم نریندر مودی گاندھی جی کی سمادھی پر پھول چڑھا رہے تھے اور عین اسی وقت ان کی پولیس جنتر منتر میں قومی گیت گانے اور ناچنے والے نوجوان مظاہرین کو پیٹ رہی تھی۔یہ بچے نعرہ لگا رہے تھے ’’ گیانو تیرے دن ہو گئے پورے‘‘ ( چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار )۔

وہ جو کہتے ہیں کہ جب مقدر کے ستارے گردش میں آ جائیں تو اونٹ پر بیٹھے کو بھی کتا کاٹ لیتا ہے۔مودی حکومت کے ساتھ لگ بھگ یہی کچھ ہو رہا ہے۔مصیبت ایک ایک کر کے نہیں بلکہ جوڑیوں میں اتر رہی ہے۔ابھی الیکشن فہرستوں میں فراڈ بازی کا مدعا ابھر ہی رھا تھا کہ جنوبی دلی کے آستھا کنج پارک میں پولیس وردی میں ملبوس تین افراد نے ایک سترہ سالہ لڑکی کو ریپ کا نشانہ بنایا۔اس واردات کے خلاف ہزاروں خواتین سڑک پر آ گئیں۔

سب سے بڑے تجارتی مرکز ممبئی میں آئی آئی ٹی کے ایک طالبِ علم ساحل وکوڈے نے ساتھی طلبا اور اساتذہ کی جانب سے ادنی ذات کے بارے میں مسلسل طعنوں اور ہراسانی سے تنگ آ کے خود کشی کر لی۔اس کے والدین ذمے دار اساتذہ کی گرفتاری کے مطالبے کو لے کر تادمِ مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں اور سیکڑوں دیگر شہری بھی اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں۔پونے میں سیکڑوں طلبا امتحانی نتائج میں بڑے پیمانے پر گھپلا سامنے آنے کے بعد مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے روز جلوس نکال رہے ہیں۔

کرپشن، ریپ یا نسلی و ذات پات کے امتیاز کے شکار لوگوں کی خودکشی اگرچہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ مگر جب آلودہ سسٹم کی شکستگی کے باوجود بھی عام لوگ تبدیلی کے امکانات نہیں دیکھتے تو پھر ایک معمولی سا واقعہ بھی چنگاری بن سکتا ہے اور اس وقت تو ہر جانب کئی چنگاریاں اڑ رہی ہیں۔ جانے کون سی والی کب آگ بن جائے۔ویسے بھی عظمت کے بت میں دراڑ آجائے تو اس دراڑ کو چہرے سے مٹانا ناممکن ہو جاتا ہے۔بارہ برس سے اپنے حال میں مست اردگرد سے بے خبر دیوتا سمان مودی جی کے ساتھ لگتا ہے یہی کچھ ہو رہا ہے۔

قومی میڈیا پر مکمل سرکاری گرفت کے باوجود یہ تاثر بھی نچلی سطح تک جڑ پکڑتا جا رہا ہے کہ انتظامی معاملات پر مودی سرکار کی گرفت تیزی سے ڈھیلی پڑ رہی ہے۔آج کوئی مودی جی کے چھپن انچ کے سینے کا ذکر نہیں کرتا اور کرتا بھی ہے تو طنزیہ انداز میں۔ نوجوان چہار جانب پھیلی بے انتظامی ، ادارہ جاتی کرپشن اور بڑھتی ہوئی ریاستی سختیاں نمایاں کرنے کے لئے ’’ مودی ہے تو ممکن ہے‘‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں۔

جب تک کوئی بھی لیڈر سنہری وعدوں اور رسیلے نعروں کے سبز باغ کے سحر میں جنتا کو مست رکھتا ہے جنتا ہر ستم اور بے انتظامی یہ سوچ کے برداشت کرتی جاتی ہے کہ بس اچھے دن آنے ہی والے ہیں۔

بھلے وہ کوویڈ کے دنوں میں لاک ڈاؤن کے سبب پھیلنے والی بے روزگاری ہو ، کرنسی نوٹ منسوخ کرنے کی غیر عاقلانہ پالیسی ہو جس کے سبب ملک بھر میں بینکوں کے آگے لمبی لمبی لائنیں لگ گئیں ، سائنسی حقائق کو دیومالائی روائیتوں کے ذریعے آنکھوں میں آنکھیں ڈھال کے جھٹلانے کا چلن ہو ، لاکھوں کسانوں کو کارپوریٹ سیکٹر کی غلامی میں دینے کا ناکام منصوبہ ہو ، قومی وسائل کی ریوڑیاں اپنے اپنے ارب پتیوں میں بانٹنے کی پالیسیاں ہوں یا پھر کشمیر کی خودمختاری کا تیا پانچا ہو۔ ایک روز جب پانی جنتا کے سر کے اوپر سے گذرنے لگتا ہے اور توقعات کا مندر آنکھوں کے سامنے جھڑنے لگتا ہے تو پھر کاہے کی مروت اور کون سی تمیز۔

باہم سلوک تھا تو اٹھاتے تھے نرم گرم

کاہے کو میر کوئی دبے جب بگڑ گئی

ایسا نہیں کہ بی جے پی کا سیاسی ٹائٹانک یکدم ڈوبنے والا ہے۔مگر جہاز پر کپتان کا کنٹرول رفتہ رفتہ کم ہوتا جا رہا ہے اور آگے چٹانی سمندر ہے۔مودی پرساشن کب تک چلے گا۔اس کا فیصلہ نئی نسل ہی کرے گی جسے پرانی نسل ورثے میں وہ مسائل سونپ رہی ہے جن کا اندازہ خود پچھلی پیڑھی کو بھی نہیں۔

 نفرت کی سیاست تیکھے نشے کی طرح ہے۔جتنی رفتار سے چڑھتی ہے حقائق کا سامنا ہوتے ہی اتنی ہی اسپیڈ سے نیچے بھی آتی ہے۔سونے پے سہاگہ کروڑوں ووٹوں کی چوری کے ذریعے جمہوریت پر ڈاکہ ڈالنے کی واردات اونٹ کی کمر پر آخری تنکہ ثابت ہو سکتی ہے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

Load Next Story