ذکر عبداللہ ملک کا

عبداللہ ملک نے ادبی دنیا میں اس وقت قدم رکھا جب وہ کالج میں زیر تعلیم تھے۔ انھوں نے کالج میگزین کے مدیر کے طور پر صحافت کا آغاز کیا

10 اکتوبر 1920 کو لاہور میں پیدا ہونے والے عبداللہ ملک نے اس وقت ہی زمانے کے نشیب و فراز کا ادراک کر لیا تھا، جب ان کی عمر عزیز فقط دس گیارہ برس تھی اور پانچویں جماعت میں حصول تعلیم کے لیے کوشاں تھے چنانچہ ان کے استاد محترم نے انھیں ان کے ذوق مطالعہ کو دیکھتے ہوئے عبدالعلیم شرر اور راشد الخیری کے ناول دیے۔ یوں محمد عمر ملک کے صاحبزادے عبداللہ ملک کے دل میں غلامی کے خلاف لڑنے کا جذبہ بیدار ہو گیا تھا۔

البتہ جب وہ کالج میں زیر تعلیم تھے تو اس وقت تک وہ سوشلزم و کمیونزم کا مکمل وقوف حاصل کر چکے تھے ،اپنے کالج کے زمانے ہی میں عبداللہ ملک کے ذاتی مراسم فیروز الدین منصور، چراغ حسن حسرت اور باری علیگ سے قائم ہو چکے تھے۔ یہ زمانہ تھا 1936-37 کا۔ اس وقت اسپین میں جمہوریت پسندوں و آمروں کے مابین شدید لڑائی جاری تھی۔ یہ لڑائی اسپین میں فقط اسپین یا ہسپانیہ کے لوگ ہی نہیں لڑ رہے تھے بلکہ جمہوریت کے دفاع میں لڑی جانے والی اس لڑائی نے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آنے والے وقتوں میں آمریت کا راج ہوگا یا عوام کا حقیقی راج ہوگا ؟یہ وضاحت ضروری ہے کہ اسپین یا ہسپانیہ ایک ہی ملک کے دو نام ہیں پرانا نام ہسپانیہ اور نیا نام اسپین۔ نوجوان عبداللہ ملک اس لڑائی میں پوری طرح دلچسپی لے رہے تھے۔

اس لڑائی کی ممکن حد تک معلومات بھی حاصل کر رہے تھے۔ اس لڑائی کی خاص بات یہ تھی کہ اس لڑائی میں دنیا بھر کے اہل قلم و ادبا اس جمہوریت کی جدوجہد میں اپنے اپنے قلم چھوڑ کر اس لڑائی میں ہتھیار ہاتھوں میں تھامے جمہوریت کے دشمنوں کے مدمقابل تھے۔ اس لڑائی میں اہل قلم اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا مقابلہ کر رہے تھے اور اپنے نظریات و جمہوریت کے دفاع کے لیے اپنی جانیں نچھاور کر رہے تھے۔

عبداللہ ملک ان جمہوریت پسندوں کے کارناموں سے بے حد متاثر تھے چنانچہ انھوں نے اسپین میں آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے کارناموں کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔ چنانچہ عبداللہ ملک نے اس جنگ میں اسپین کے لوچرا، لوپیرا(Battle of Lopera) قصبہ کی حفاظت پر مامور انگریزی بولنے والے جنگ جوؤں کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا ۔ یہ انگریزی بولنے والے امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی، کینیڈا سے میڈرڈ ، بارسلونا و گرانیکو کا رخ کر رہے تھے۔ عبداللہ ملک نے ان انگریز جنگ جوؤں کی قیادت کرنے والے رالف فاکس کا ذکر بڑے احترام سے کیا ہے جس نے اس جنگ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ عبداللہ ملک نے نہ صرف اسپین کے مجاہدوں کو یاد کیا بلکہ انھوں نے چیکوسلواکیہ میں جمہوری جدوجہد کرنے والے جیولس فیوچک کے کارناموں کا بھی ذکر کیا ہے جس کو جرمن فوجیوں نے 25 اگست 1943 کو اس بنا پر پھانسی کی سزا دی اور موت کے گھاٹ اتار دیا کہ وہ اپنے دیس چیکوسلواکیہ کی آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا۔

یہ وہی جیولس فیوچک ہے جس نے جیل میں قید کے دوران پھانسی کے سائے نامی کتاب لکھی۔ اس کتاب نے عالم گیر شہرت حاصل کی۔ پھر عبداللہ ملک نے گبریل پیری کی داستان حیات کو بھی بڑی محبت کے ساتھ قلم بند کیا جس نے 1941 میں پھانسی کی سزا پائی جس کا تعلق فرانس سے تھا اور اسے پیرس میں موت کی نیند سلا دیا گیا۔ عبداللہ ملک اپنے پڑھنے والوں کو اس انداز میں مخاطب کرتے تھے کہ محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کوئی بزرگ اپنے بچوں سے بات کر رہا ہو یا کوئی شفیق استاد اپنے شاگردوں سے مخاطب ہو۔ یہی باعث تھا کہ ان کی تحریریں لوگ بڑی توجہ و محبت سے پڑھتے۔ انھوں نے چی گویرا کی داستان کو بھی تفصیل و تحقیق کے ساتھ لکھا بلکہ میرداد سے تو وہ ذاتی مراسم بھی رکھتے تھے۔ یہ بھی کھلی صداقت ہے کہ وہ فقط قلمی دانشور نہ تھے بلکہ وہ عملی جدوجہد میں بھی بھرپور شرکت کرتے۔

عبداللہ ملک نے ادبی دنیا میں اس وقت قدم رکھا جب وہ کالج میں زیر تعلیم تھے۔ انھوں نے کالج میگزین کے مدیر کے طور پر صحافت کا آغاز کیا۔ نسیم تخلص کے ساتھ شاعری بھی کی اور معاشیات پر مضمون نگاری بھی کی۔ بعدازاں انھوں نے سامراج مخالف و سوشلزم کی حمایت میں سرمایہ داری کے نام سے کتاب بھی لکھی۔ اس کتاب کا دیباچہ شورش کاشمیری نے لکھا۔ 1942 میں عبداللہ ملک جنگ آزادی نام کا ایک ہفت روزہ لاہور سے چھپنا شروع ہوا تو اس کے ایڈیٹر فیروز الدین منصور تھے، کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان اس ہفت روزہ عبداللہ ملک اسسٹنٹ ایڈیٹر نامزد ہوئے بعدازاں انھیں سجاد ظہیر نے قومی جنگ کی مجلس ادارت میں شامل کرکے بمبئی میں کام کرنے کے لیے روک لیا، یوں انھیں سردار جعفری و سبط حسن کے ساتھ رہنے و کام کرنے کا موقعہ ملا۔ انھوں نے ترجمے، خطوط نویسی، تجزیے، تبصرے و سوانح نگاری پر مشتمل 34 کتب تحریر کیں جبکہ ماہنامہ احتساب لاہور جن کے وہ ایڈیٹر رہے وہ شمارے بھی علمی ورثے کے طور پر چھوڑے جبکہ ایک ڈرامہ لینن پر بھی قلم بند کیا اور خوب کیا چھوڑا ہے جبکہ بمبئی قیام کے دوران وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کی نشستوں میں بھی شرکت کرتے اور احتجاجی جلسے و جلوسوں میں بھی عملی طور پر حصہ لیتے وہ کئی بار جیل میں بھی مقید رہے۔ البتہ 10 اپریل 2003 بروز ہفتہ انھوں نے حیات کی آخری سانسیں پوری کیں اور دنیا فانی سے کوچ کیا۔ بہرکیف 10 اکتوبر 2026 کے روز ان کی 126 ویں سالگرہ ہے چنانچہ اس موقع پر ہم ان عظیم ترقی پسند قلم کار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اس عزم کے ساتھ کہ دنیا سے جہالت، جبر، استحصال و افلاس کا خاتمہ کرکے ہی دم لیں گے۔

Load Next Story