اوپن اے آئی اور سابق سیفٹی محققین کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے
اوپن اے آئی نے تین سابق سیفٹی محققین کی برطرفی سے متعلق الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے اعتماد کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی کی مالک کمپنی اوپن اے آئی اور اس کے تین سابق سیفٹی محققین، جیسمین وانگ، ٹومیک کورباک اور میکیتا بالیسنی کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
تینوں سابق محققین نے ایک خط شائع کیا تھا جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ان کی اچانک برطرفی سے کمپنی کے دیگر ملازمین میں بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے اور سیفٹی سے متعلق خدشات اٹھانے کی وہ ثقافت متاثر ہو سکتی ہے جو ماضی میں محققین کو کھل کر بات کرنے کا موقع دیتی تھی۔
میکیتا بالیسنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خط کے ساتھ جاری اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ انہیں کمپنی کے فوری کاروباری مفادات کے بجائے سیفٹی کو ترجیح دینے پر ملازمت سے فارغ کیا گیا۔
دوسری جانب اوپن اے آئی نے ایکس پر جاری بیان میں سابق ملازمین کے مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی برطرفی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی کے باعث ہوئی۔ تاہم، کمپنی نے اس خلاف ورزی کی نوعیت واضح نہیں کی۔
کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ عموماً ملازمین کے انفرادی معاملات کو نجی رکھتی ہے اور اس معاملے پر عوامی بحث کو آگے بڑھانا نہ تو مفید ہوگا اور نہ ہی اس سے کسی حل تک پہنچنے میں مدد ملے گی لیکن سابق محققین کے خط میں اٹھائے گئے نکات کا براہ راست جواب دینا ضروری سمجھا گیا۔
اوپن اے آئی نے اس الزام کی بھی تردید کی کہ محققین کو سیفٹی خدشات کا اظہار کرنے یا اپنے تحفظات سامنے لانے کی وجہ سے برطرف کیا گیا۔
کمپنی کے مطابق وہ اپنے کسی ملازم کو خدشات اٹھانے پر ملازمت سے فارغ نہیں کرتی اور مصنوعات کی حفاظت سے متعلق کھلی، سخت اور تنقیدی بحث کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
اس معاملے نے مصنوعی ذہانت کی صنعت میں سیفٹی، ملازمین کے اظہارِ رائے اور کمپنیوں کے کاروباری مفادات کے درمیان توازن سے متعلق بحث کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ تاہم، برطرفی کے اصل اسباب سے متعلق دونوں فریقوں کے مؤقف میں واضح اختلاف برقرار ہے۔