وزیراعظم کا اسلام آباد میں طالبہ کی دردناک موت کا نوٹس، ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم
فوٹو: پی آئی ڈی
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں امریکی یونیورسٹی میں داخلے کا خواب دیکھنے والی طالبہ لائبہ اعجاز کی دردناک موت کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا جبکہ اہل خانہ کی درخواست پر وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے بھی کارروائی شروع کر دی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو ملزم کی فوری گرفتاری کی ہدایت کرتے ہوئے قانون کے مطابق سزا دلوانے کا حکم دیا ہے۔
وزیراعظم کے احکامات کے بعد وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیرمملکت طلال چوہدری لائبہ اعجاز کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کے لیے ان کے گھر پہنچ گئے اور لائبہ کے والد سے تعزیت کی، طالبہ لائبہ کے والد وزیر داخلہ سے گلے لگ کر روپڑے۔ چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف بھی ان کے ہمراہ وہاں پہنچے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں جو بھی ملوث ہے اسے جلد پکڑیں گے، ریکوری بھی کروائیں گے اور ان کو سزائیں بھی دلوائیں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ اس بندے نے جس طرح سے نوکری اور باقی چیزوں کے پیسے لیے ہیں اس کا بندوبست کرنا ہے، ہماری پولیس ان شااللہ سرخرو ہو گی اور ایف آئی اے بھی پیچھے لگی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملزم کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا، ہم کوشش کر رہے ہیں اس طرح کے جرائم کم ہوں، یورپی یونین نے بھی ہماری کوششوں کو سراہا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ این سی سی آئی کی افرادی قوت بہت کم ہے جس کو پوری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد کے علاقے تھانہ رمنا کی حدود میں جمعے کو ایک درخت سے لٹکی ہوئی طالبہ کی لاش ملی، جس کی شناخت لائبہ اعجاز کے نام سے ہوئی، پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاہم موت کی حتمی وجہ تفتیش اور پوسٹ مارٹم کے بعد سامنے آئے گی۔
لائبہ کے اہل خانہ کے مطابق امریکی یونیورسٹی میں داخلے کے نام پر مبینہ ایجنٹ نے 70 لاکھ روپے سے زائد کا فراڈ کیا، جس کے بعد طالبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں، لائبہ نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے گولڈ میڈل کے ساتھ بی ایس مکمل کیا تھا اور وہ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی میں مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی۔
اہل خانہ کا الزام ہے کہ امریکی یونیورسٹی میں داخلے اور اسکالرشپ کا جھانسہ دے کر مبینہ ایجنٹ نے ان سے لاکھوں روپے وصول کیے، لائبہ کے والد نے بیٹی کا خواب پورا کرنے کے لیے اپنا پلاٹ فروخت کیا اور 21 لاکھ روپے ایجنٹ کو دیے اور مزید رقم کے لیے والدہ کے زیورات بھی دیے گئے۔
لائبہ کے ماموں رانا امجد نے بتایا کہ جب ایجنٹ کی جانب سے فراہم کردہ ہارورڈ یونیورسٹی کے ایڈمشن لیٹر، اسکالرشپ لیٹر اور دیگر دستاویزات کی تصدیق کروائی گئی تو وہ جعلی نکلیں، ان کے بقول فراڈ سامنے آنے پر لائبہ شدید پریشانی میں مبتلا ہوگئی تھیں۔
لائبہ کے اہل خانہ نے مقدمے کے اندراج کے لیے ایف آئی اے کو درخواست دے دی ہے اور ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ ٹیم نے اہل خانہ سے ملاقات کرکے تفصیلات اور مبینہ جعلی دستاویزات حاصل کر لی ہیں، ملزم کے خلاف فراڈ اور جعل سازی کی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔