نظریاتی بنیاد اورعمل پیہم
کسی بھی شے،عمارت،تنظیم یا مملکت کے قیام کے لیے بنیاد ناگزیر ہے۔قومیں بنتی ہیں تو نظریات و مقاصد کی بنیاد پر ورنہ لوگوں کا ہجوم کہلاتی ہیں،وہ ہجوم جو گروہ کی ہیئت اختیار کر لینے کے بعد بھی تنہا رہتا ہے۔اس جتھے کا ایک ایک انسان مصائب کا شکار ہوتا ہے۔
مصائب بھی تقریباً ایک ہی نوعیت کے یکساں، اس کے باوجود جدو جہد متحدہ نہیں ہوتی۔ نتیجتاً سال تو کیا،تاریخ کے ابواب گواہ ہیں جب تک انبوہ کثیر نے اپنا محاسبہ کر کے خود کو جماعت یا قوم کی صورت منظم نہ کیا،صدیاں گزرنے پر بھی ان کے مسائل جوں کے توں رہے۔
بدلاؤ تب ظہور پذیر ہوا،انقلاب کا سورج تب طلوع ہوا، جب کوئی منشاء لے کر، جہد کی سمت کا تعین کر کے توانائیاں ایک سمت میں صرف کی گئیں۔ سمت واضح کرنے کے لیے عموماً انھیں لوگوں میں سے کوئی شخصیت ابھر کر سامنے آتی ہے۔
یہاں ایک قابل غور بات عوام کا رہنماؤں کی رہبری قبول کرنے کا درست فیصلہ بھی ہے۔تاریخ میں ایسی داستانیں کم نہیں جن میں بہترین اور قابل قائدین نے اپنے لوگوں کو مسائل کے دلدل سے نکالنا چاہا مگر عوام کی ہٹ دھرمی کے آگے بے بس ہو کر رہ گئے۔
کسی کو سربراہی سونپ کر،پختہ نظریات پر مبنی ضابطے اور غرض لے کر قافلہ نکل پڑے تو قوم کیسے یکے بعد دیگرے ترقی کے زینے عبور کرتی ہے ،اس کی موجودہ وقت میں بہترین مثال چائنہ ہے۔ہر لحاظ سے پسماندہ اور دنیا کی نظروں میں ایک کم حیثیت ریاست کیسے وقت کی بہترین منظم مملکت کے طور پر سامنے آئی،بقا و بلندی کی یہ داستان متاثر کن ہے۔
اس سب میں ماؤ زے تنگ کا کردار بلاشبہ مرکزی تھا۔یہ شخص نہ صرف عوام کو متحد کرکے بیرونی غلامی و سامراج کے چنگل سے آزاد کروانے میں کامیاب ہوا بلکہ چینی کسانوں کو اپنے انقلاب کے ہراول دستے کے طور پر پیش کیا اور کامیاب ٹھہرا۔
اگرچہ چند ناکامیوں اور تضادات کی داستانیں اس کے نام سے منسوب ہیں مگر ماؤزے تنگ کا عمومی تاثر آج بھی بانی ملت اور ہیرو کا سا ہے۔ترقی کے اس سفر کی داغ بیل ڈالنے والے پیشوا کے جانے کے بعد سفر رکا نہیں ،کیونکہ اہل چین نے اس کے گزر جانے پر اس کے پڑھائے اسباق فراموش نہیں کیے۔
المختصر ترقی کے سفر کے آغاز کے لیے بنیاد اور دیر پا خوشحالی کے لیے مسلسل محنت ہی کامیابی کی ضامن ہے۔ حکمرانوں، رہنماؤں اور ان کے استوار کردہ نظام کو لے کر عوام میں اختلاف رائے انہونی نہیں ہے۔ معاشرے کی تعمیر وتخلیق میں یہ پہلو صدیوں سے نمایاں تھا اور صدیوں تک رہے گا،مگر یہ بھی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مٹھی بھر سہی،مگر ایسے راہبر گزرے ہیں جن کی اقدامات کو تقریباً سب نے سراہا اور اصلاح کو خاص و عام نے قبول کیا۔
مکمل اور موزوں ترین رہنماؤں میں بلاشبہ سرور دو عالم،خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اول ہیں،ان کے پیروکاروں میں بھی ایسی شخصیات گذریں جو ہر دلعزیز حاکم ثابت ہوئے، تاہم اگر خالصتاً سیاسی منشور سامنے رکھ کر سرپرست بننے والوں کو ان کی عوام میں دل پسندی کے مطابق صف بندی کیا جائے تب بھی ہر کوئی نہیں تو کوئی نا کوئی ایسا ضرور گزرا جس نے عوام کو اپنا مؤقف سمجھا کر ان کی حمایت کمائی اور اپنے عہد کا پاس رکھتے رعیت کی بہتری کے لیے انتھک کوششیں کیں،کوششیں ثمر آور ہوئیں اور عوام زوال سے عروج کی طرف گامزن ہوئی۔
پاکستانی تاریخ دیکھی جائے تو قریباً ہر دور میں حکمرانوں کو لے کر عوام کی آراء میں شدید اختلاف رہا ہے۔قیام پاکستان سے قبل قائد اعظم جیسے عظیم رہنما کو بھی کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا رہا تھا۔ تاہم قیام پاکستان کے بعد کوئی انھیں ناپسند کرنے والا نہیں تھا، بلکہ ہر کوئی مشکور ٹھہرا۔ اب یہاں ایک سوال لے کر حاضر ہوئی ہوں کہ ملکی حالات سب کے سامنے ہیں۔ ہمارے پاس نظریہ تھا اور منشور بھی۔
قائداعظم نے مقاصد پیش کر دیے تھے، اصول و طریق بھی سمجھا دیا تھا، اس کے باوجود مرض بڑھتا گیا جوں جوں کے مصداق، وقت گزرنے کے ساتھ ہم تنزلی کا شکار ہوئے ہیں۔ سوال ہے کیوں؟ اگر ہم بابائے قوم، ان کے نظریے، لائحہ عمل اور اصولوں کو بہترین مان چکے تھے تو دور حاضر میں پاکستان کے کئی نظام ان کے وضع کیے خطوط کے منافی کیوں چل رہے ہیں؟
پہلا سوال تو یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کے معیار تعلیم میں فرق کیوں ہے اور اس کے بعد یہ کڑوی سچائی کہ وہ ملک جہاں بڑے اداروں سے لی گئیں، اعلیٰ ڈگریاں بھی روزگار مہیا کرنے کی ضمانت فراہم نہیں کرتیں ،وہاں ہمارے بچوں کا بڑا تناسب معمولی اداروں سے تعلیم حاصل کررہا ہے، مناسب اور بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنیوالے وقت میں یہ اپنے آباؤ اجداد یا ان سے کم درجے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔
اس زوال پذیری کے رجحان کو روکنے کے لیے کسی ایک منشور پر متفق ہو کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ قائد اعظم کی سیاست کی پہچان نظریاتی تسلسل اور اس سے متعلقہ اصول پرستی تھی۔آج اس چیز کا فقدان ہے۔
نہ عوامی بہبود کے منصوبوں میں کوئی مستقل مراد،نہ نوجوانوں کے مسائل کے حل کے لیے دیرپا تدبیر۔یہ غیر مستقل مزاجی داخلی نہیں ،خارجی معاملات میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ حکومت بدلتی ہے اور نئی آنے والی حکومت نئی ترجیحات لے کر میدان میں آ جاتی ہے،جب تک ان کے منصوبوں پر عمل کا وقت آتا ہے یا کام شروع ہوتا ہے،ان کی جگہ نئے لوگ اقتدار میں آ جاتے ہیں جو اپنی انا کو مار کر،عوامی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے گزشتہ حکومت کے ادھورے منصوبے مکمل کرنے کے بجائے توانائیاں یہ ثابت کرنے میں صرف کرتے ہیں کہ سابقہ حکومت نااہل تھی اور اس کے طے کردہ لائحہ عمل بے سود۔
یہ طریق کار سیاست دانوں کے لیے سود مند ثابت ہو سکتا ہے مگر عوام کے لیے نہیں اور ملکی وسائل کا ضیاع الگ کہانی قصہ الم ہے۔دہائیوں سے یہ طرز عمل رہا ہے اور نتیجتاً ترقی کے میدان میں ہم کہاں کھڑے ہیں،سب کو معلوم ہے۔صاحب اقتدار طبقے کو اسلوب کی اساس بدلنے یا بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔