روز مرہ کے سانحات ( حصہ اول)

ہزاروں مکتب مدارس ایسے بھی ہیں جہاں سے لاکھوں طلبا و طالبات قرآن پاک حفظ کرکے نکلتے ہیں

روز کی کہانی میں سیاسی داؤ پیچ، حریف کو نیچا دکھانے کے لیے گھٹیا بیانات اور غیر انسانی ظلم و ستم کے ساتھ اغوا، تشدد اور خودکشی کے واقعات نے اپنی جگہ بنا لی ہے۔ بھوک، افلاس اور بے روزگاری معمولی پریشانیاں بن گئی ہیں اور لوگ عادی بھی ہو گئے ہیں۔

انھیں معلوم ہے سرکار کو عوام سے ذرا سی بھی ہمدردی نہیں ہے ،مقتدر حضرات انسانی وصف اور اخلاقی رویوں سے بہت دور ہو چکے ہیں، لوگ نان نفقے کو ترس گئے ہیں۔ کھانا پینا، علاج معالجہ ان کی محدود آمدنی میں اب ممکن نہیں رہا ہے۔

بچے تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں، سوائے ان کے جن کی تنخواہیں زیادہ اور کاروبار کی مد میں ملنے والی رقم سے گزارا کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو دہری ملازمت کرکے معاشرے میں اپنا بھرم رکھتے ہیں۔ حکومت کو اس بات کی بھی پرواہ نہیں ہے کہ یہ غربا اور متوسط طبقے کے حضرات مہنگی، بجلی، پانی اور گیس کے بل کون سی آمدنی سے ادا کریں گے چونکہ آمدنی کے ذرائع تو نہ ہونے کے برابر ہیں جو ماہانہ یا روزانہ اجرت کی بنیاد پر رقم ملتی ہے اس سے تو گھر کا خرچ ہی بمشکل ہوتا ہے تو اب یوٹیلیٹی کے بل کا ادا کرنا ناممکن ہے۔

ہماری حکومت کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ منصوبہ بندی کے ذریعے سب کو برابر کے حقوق اور تنخواہوںکی تقسیم کرے اور اسکولوں و اسپتالوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ مفت دوائیں اور کتابیں فراہم کرنا اہم ذمے داری سمجھے لیکن اپنی زندگی کو خوبصورت بنانے اور خواہشات کی تکمیل کے لیے ہر جائز و ناجائز کام محض طاقت اور دولت کی بنا پر آسانی سے کر ہی لیے جاتے ہیں، ہر چیز حتیٰ کہ قانون اور بے بس و مجبور کی عزت کو بھی خرید لیا جاتا ہے۔

جب موجودہ منظرنامہ قتل و غارت اور ناانصافی کی شکل میں سامنے آتا ہے تو صاحبان ضمیر خون کے آنسو روتے ہیں۔ حکومتوں کی بداعمالیوں کے ساتھ عوام بھی دینی و دنیوی تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ ان مدارس کا بھی عمل ہے جو معصوم بچوں کو معمولی سی باتوں میں مار مار کر ان کی جان لے لیتے ہیں۔

بے بس بچے کو اپنے شکنجے میں جکڑ کر اتنی دھنائی کی جاتی ہے کہ بچہ بے دم ہو کر خالق حقیقی کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ جس کتاب کو انھیں پڑھانے کی ذمے داری دی گئی ہے، اسی کتاب میں زندگی گزارنے اور حقوق کی ادائیگی کے طریقے اور تعلیم موجود ہے ۔

ہزاروں مکتب مدارس ایسے بھی ہیں جہاں سے لاکھوں طلبا و طالبات قرآن پاک حفظ کرکے نکلتے ہیں اپنے والدین اور رشتے داروں کی بخشش کا سامان بنتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے سے رشتوں ناتوں کا تقدس ختم ہو چکا ہے۔

وہ نہیں جانتے کہ اپنے عزیز و اقارب سے تعلق ختم کرنے کی سزا جہنم ہے اور یہ بات بھی واضح طور پر بتا دی گئی ہے کہ کوئی مسلمان تین دن سے زیادہ تک ایک دوسرے سے ناراض اور قطع تعلق نہ کرے اور چوتھے روز فریقین میں سے کوئی ایک یا دونوں بیک وقت پہل کر لیں، اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ کے عذاب سے ان کا بچنا ممکن نہیں۔

قرآن و حدیث کی تعلیم سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے ہر روز اپنے رشتے داروں، اولادوں اور والدین کا قتل آسانی سے کردیا جاتا ہے، کبھی رشتہ نہ دینے کی شکل میں تو کبھی زمین کا تنازعہ، زن، زر، زمین ہی جھگڑوں اور ازلی دشمنی کی اصل وجہ بن جاتی ہے۔ یہ ظالم لوگ کسی قیمت میں معاف کرنے کے لیے تیار نہیں۔

جن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہیں ان پیارے نبیؐ نے فتح مکہ کے وقت بڑے سے بڑے دشمن کو معاف فرما دیا۔ عفو و درگزر سے کام لیا۔ انسانیت کو فروغ دیا، جھوٹ، دھوکہ دہی سے نجات دلائی لیکن ہمارے معاشرے میں ہوتا یہ ہے کہ اپنی ہی بیٹی کو محض پسند کی شادی کرنے پر موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔

بہلا پھسلا کر گھر لے جاتے ہیں اور تھوڑی سی دیر کیے بغیر قتل۔ اس کے ناتواں و بے بس جسم پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں اس کار خیر میں بھائی، باپ کے ساتھ چچا اور کزنز، رشتے کے بھائی بھی حصہ لیتے ہیں۔ یہ بات بھول چکے ہیں جس نے ایک انسان کا قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا اور جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے تمام انسانوں کو بچا لیا۔یہ جنگجو قوم مارتی ہے، بچاتی نہیں ہے زمانہ جاہلیت کی طرح بدلہ لینے پر پورا یقین رکھتی ہے اپنے مجرم کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہے اپنے خاندان بیوی بچوں کی فکر کیے بغیر کہ ان کی بھی تو ذمے داری گھر کے مردوں پر ہے۔

اگر ہمارا نظام حکومت چاہے تو یہ سب برائیاں اور بدترین جرائم کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے قانون کی بالادستی بہت ضروری ہے۔ بات یہ ہے کہ حکومت ان معاملات کو اپنا مسئلہ نہیں سمجھتی ہے وہ کہتی ہے جیسا چل رہا ہے چلنے دو۔

ان کا اور ان کے خاندان کو تو کوئی نقصان نہیں وہ تو اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ اللہ کی رسی دراز ہے۔ جب وہ کھینچتا ہے تب پتا چلتا ہے کہ ہم طاقت کے نشے میں کیا کر بیٹھے ہیں۔ دولت، شہرت، عزت، مال و متاع ایک نشے کی صورت میں ہوتی ہے۔ دنیا کے عیش و عشرت پا کر بھی انسان کو اپنی اوقات میں رہنا ہی اس کے لیے بہتر ہے کہ سب کے حصے میں دو گز زمین ہی آتی ہے۔ دولت پیسے سے زندگی خریدی جاتی ہے اور نہ موت سے روگردانی ممکن ہے۔ بیماریوں اور حادثات سے بھی بچاؤ ممکن نہیں، بچاؤ ہے تو راست بازی، تقویٰ اور حقوق کی ادائیگی میں۔ (جاری ہے)

Load Next Story