عوام کو جینے دو

فرانس کا طالب علم اگر کہتا ہے کہ مجھے بہتر تعلیم دو تو ہمیں اپنے بچے کی آواز بھی سنائی دینی چاہیے

فرانس میں اسکولوں کے طلبہ اپنے تعلیمی مستقبل کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، ہندوستان میں ووٹر لسٹوں اور انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات نے ایک نئی سیاسی کشمکش پیدا کر دی ہے اور پاکستان میں بھی سیاسی مطالبات کے ساتھ احتجاجی سیاست جاری رہتی ہے۔ ملک الگ ہیں ،حالات الگ ہیں، مطالبات الگ ہیں،مگر ان سب واقعات کے درمیان ایک سوال مشترک ہے جب عوام اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں تو ریاست کا پہلا ردعمل کیا ہونا چاہیے۔ عوام کو سننا یا انھیں خاموش کرانا؟

فرانس میں گزشتہ چند ہفتوں سے ہائی اسکولوں کے طلبہ احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا بنیادی اعتراض اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں اساتذہ کی کمی، کلاس رومز کی خراب صورت حال اور تعلیم کے لیے ناکافی وسائل پر ہے۔ احتجاج چھ اکتوبر کو مزید شدت اختیار کر گیا، سیکڑوں اسکول متاثر ہوئے، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور ایک پندرہ سالہ طالب علم کا ہاتھ شدید زخمی ہوا۔

اس واقعے کے بعد فرانسیسی حکومت نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کے اسٹن گرینیڈز کے استعمال کو تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کر دیا۔ حکومت نے طلبہ کے خدشات کو تسلیم بھی کیا ہے،اگرچہ احتجاج کے دوران بعض اسکولوں میں آتش زنی اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی ہوئے۔

یہاں اصل سوال صرف فرانس کا نہیں ہے۔ یہ سوال پاکستان کے ہر اس اسکول کا بھی ہے جہاں ایک استاد کئی جماعتوں کو سنبھال رہا ہے،جہاں عمارت برسوں سے مرمت کی منتظر ہے جہاں بچوں کے پاس کتابیں اور بنیادی سہولتیں نہیں ہیں اور جہاں والدین اپنے بچوں کو اس امید پر اسکول بھیجتے ہیں کہ شاید ان کی اگلی نسل ان سے بہتر زندگی گزار سکے گی۔

فرانس کا طالب علم اگر کہتا ہے کہ مجھے بہتر تعلیم دو تو ہمیں اپنے بچے کی آواز بھی سنائی دینی چاہیے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ فرانس میں یہ سوال سڑک پر اٹھ رہا ہے اور ہمارے ہاں اکثر وہی سوال خاموشی میں دفن ہو جاتا ہے۔

ہم نے تعلیم کو بھی طبقاتی بنا دیا ہے۔ ایک طرف ایسے ادارے ہیں جہاں بچے دنیا کے بہترین تعلیمی نظام سے مقابلہ کرنے کی تیاری کرتے ہیں، دوسری طرف سرکاری اسکول ہیں جہاں بچے کبھی استاد کے انتظار میں اور کبھی بنیادی سہولتوں کے انتظار میں بڑے ہو جاتے ہیں۔

پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ سماج میں عدم مساوات کیوں بڑھ رہی ہے۔ تعلیم پر خرچ کسی حکومت کا احسان نہیں۔ یہ ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے۔ اسی لیے فرانس کے بچوں کا احتجاج ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ریاست کی اصل ترجیح کیا ہے ایک جدید ریاست کا وقار صرف بلند عمارتوں بڑے منصوبوں اور طاقتور پولیس سے نہیں بنتا۔ ریاست کا اصل وقار اس کے اسکول، اسپتال ،عدالت اور عام شہری کی زندگی میں نظر آتا ہے۔

ہندوستان میں معاملہ مختلف ہے مگر سوال پھر بھی عوام کے حق کا ہے۔ وہاں انتخابی فہرستوں کی Special Intensive Revision یعنی خصوصی نظرثانی کے خلاف اپوزیشن اور مختلف شہری گروہوں کا احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے Special Intensive Revision روکنے اور مبینہ طور پر خارج کیے گئے اہل ووٹروں کے نام بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سات اکتوبر کو راہول گاندھی سمیت اپوزیشن رہنماؤں کو احتجاج کے دوران حراست میں بھی لیا گیا۔ الیکشن کمیشن کا موقف اس سے مختلف ہے وہ کہتا ہے کہ نظرثانی کا مقصد انتخابی فہرستوں کو درست کرنا ہے اور اہل شہریوں کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ یہاں بھی الزام اور ثابت شدہ حقیقت کو ایک نہیں سمجھنا چاہیے۔ جمہوریت میں شکایت کا وجود ہی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اسے شفاف طریقے سے سنا جائے۔ ووٹ کسی حکومت کی ملکیت نہیں ہوتا۔ ووٹ شہری کی امانت اور اس کی سیاسی آواز ہے، یہ بات پاکستان کے لیے بھی اجنبی نہیں۔

ہماری اپنی تاریخ میں انتخابی شفافیت ووٹر لسٹوں نتائج حلقہ بندیوں اور انتخابی اداروں پر اعتماد کے سوال بارہا اٹھتے رہے ہیں۔ کبھی ایک سیاسی جماعت سوال کرتی ہے، کبھی دوسری۔ کبھی حکومت کو اعتراض ہوتا ہے، کبھی اپوزیشن کو ،مگر اگر ہر انتخاب کے بعد ایک بڑا طبقہ یہ محسوس کرے کہ اس کے ووٹ کی قدر نہیں ہوئی تو مسئلہ صرف ایک انتخاب کا نہیں رہتا جمہوریت پر اعتماد کا بن جاتا ہے۔

اسی لیے ہندوستان میں ہونے والے احتجاج کو صرف ہندوستانی سیاست کا مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، یہ ہمارے لیے بھی ایک آئینہ ہے۔ پاکستان میں بھی اس وقت سیاسی احتجاجی ماحول موجود ہے۔ اس اپوزیشن کے مظاہرے اور لانگ مارچ چل رہے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ ریاست کو سیاسی دباؤ کے ذریعے یرغمال نہیں بنایا جاسکتا جب کہ احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ اپنی جگہ موجود ہے۔

یہاں بھی ہمیں ایک اصول طے کرنا ہوگا۔ حکومت کو احتجاج سے اختلاف کا حق ہے لیکن شہری کو احتجاج کا حق بھی حاصل ہے۔ مظاہرین کو قانون توڑنے، املاک جلانے یا دوسروں کی زندگی مفلوج کرنے کا حق نہیں مگر حکومت کو بھی یہ دیکھنا چاہیے کہ اس احتجاج کے پیچھے موجود سیاسی مطالبہ کیا ہے۔

فرانس ہمیں بتاتا ہے کہ بچے بھی ریاست سے سوال کر سکتے ہیں۔ ہندوستان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ووٹ کے بارے میں شکایت بھی جمہوری سوال ہے اور پاکستان کے حالات ہمیں ہر روز یہ موقع دیتے ہیں کہ ہم سوچیں کہ سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کیے بغیر جمہوریت کیسے چلائی جا سکتی ہے۔

یہاں بائیں بازو کی سیاست کا بنیادی سوال بھی سامنے آتا ہے ریاست کس کے لیے ہے۔ اگر ریاست کا بجٹ عام آدمی کی تعلیم صحت روزگار اور بنیادی ضرورتوں کے بجائے صرف طاقت کے اظہار میں صرف ہو تو سوال ضرور اٹھے گا۔ اگر معاشی مشکلات کا بوجھ ہمیشہ نچلے اور متوسط طبقے پر پڑے اور طاقتور طبقے کے لیے راستے نکلتے رہیں تو بے چینی پیدا ہوگی۔ اگر شہری کو یہ احساس ہو کہ اس کی آواز صرف انتخابات کے دن ضروری ہے باقی پانچ سال نہیں تو جمہوری نظام کمزور ہوگا۔

عوام کو صرف خاموش رکھنے سے سماج پرامن نہیں ہوتا۔ حقیقی امن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگوں کو انصاف ملے جب ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو اور جب انھیں یہ یقین ہو کہ ان کی آواز کسی نہ کسی دروازے تک پہنچ سکتی ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مطالبہ درست ہے یا ہر احتجاج جائز۔ احتجاج میں بھی ذمے داری ضروری ہے۔ تشدد ،توڑ پھوڑ، آتش زنی اور دوسروں کے حقوق پامال کرنا قابلِ قبول نہیں۔ ریاستی طاقت کے استعمال کی بھی حدود ہونی چاہئیں۔ ایک جمہوری حکومت کی طاقت کا اصل حسن یہ نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو گرفتار کر سکتی ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنے لوگوں کو مذاکرات کی میز تک لا سکتی ہے۔

حکومت کو مظاہرین سے کہنا چاہیے آؤ، بیٹھو بات کرو، اپنے مطالبات دو، ہم دیکھتے ہیں کیا ممکن ہے ؟جہاں مطالبہ جائز ہو اسے پورا کیا جائے۔جہاں وسائل کا مسئلہ ہو، اس کا منصوبہ بنایا جائے ،جہاں غلط فہمی ہو اسے دور کیا جائے۔ جہاں قانون شکنی ہوئی ہو وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ عوام کو اجتماعی طور پر دشمن نہ بنایا جائے۔ہمیں یہ رویہ بدلنا ہوگا کہ جو حکومت کے ساتھ نہیں وہ حکومت کے خلاف ہے اور جو سوال کرتا ہے وہ ریاست کا مخالف ہے۔ جمہوریت میں سوال ریاست دشمنی نہیں، ریاستی زندگی کی علامت ہے۔

فرانس کا طالبعلم تعلیم مانگ رہا ہے۔ ہندوستان کا شہری اپنے ووٹ کے بارے میں یقین مانگ رہا ہے۔ پاکستان کا سیاسی کارکن اپنے سیاسی مطالبے کے لیے سڑک پر ہے۔ ان تینوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا نہ جمہوری سیاست ہے نہ دانش مندی۔ حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام تخت نہیں مانگ رہے، وہ اقتدار کے ایوانوں پر قبضہ کرنے نہیں آتے۔

اکثر وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی قابل برداشت ہو ،ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو ،ان کا ووٹ معتبر ہو اور ان کی بات سنی جائے۔عوام کو جینے دو انھیں بولنے دو۔ انھیں سوال کرنے دو، انھیں اختلاف کرنے دو اور اگر ان کے مطالبات جائز ہیں تو انھیں پورا کرو کیونکہ ریاست کی سب سے بڑی طاقت اسکی پولیس فوج جیلیں یا ہتھیار نہیں۔ ریاست کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہے۔اعتماد طاقت سے نہیں انصاف سے پیدا ہوتا ہے۔

فرانس ہو ہندوستان ہو یا پاکستان مظاہروں کا اصل سبق یہی ہے کہ سڑک پر کھڑے انسان کو صرف ہجوم نہ سمجھا جائے۔ اس ہجوم کے اندر ایک طالب علم ہے، ایک مزدور ہے، ایک کسان ہے، ایک ووٹر ہے، ایک نوجوان ہے، ایک ایسا شہری ہے جو شاید آخری بار اپنی آواز سنوانے نکلا ہو۔

اس آواز کو دبانے سے پہلے ایک لمحے کے لیے رک کر پوچھنا چاہیے ،آخر وہ کیا چاہتا ہے، اگر جواب یہ ہے کہ وہ صرف اپنے حق کے ساتھ جینا چاہتا ہے تو پھر ریاست کو اس سے لڑنے کی نہیں اسے سننے کی ضرورت ہے۔ عوام تمہارا تخت نہیں مانگ رہے۔ وہ صرف اپنی زندگی مانگ رہے ہیں، جینے کا حق مانگ رہے ہیں۔

Load Next Story